پانچویں اکائیاز ارشد علی / ایک تبصرہ چھوڑیں 0% 0 votes, 0 avg 122 یہ کوئز دو منٹ میں مکمل کرلیں آپ کا وقت مکمل ہوا Created on فروری 18, 2023 By ارشد علیسابقہ نیٹ سوالات پانچویں اکائی اس کوئز میں دسمبر 2021 جون 2022 کے نیٹ امتحان میں پانچویں اکائی سے پوچھے گئے سوالات شامل ہیں، آپ کوئز کرکے تیاری کا جائزہ لیں 1. اتنی محنت کچھ نیک نہ لگی، اُس کا فائدہ ظاہر نہ ہوا۔ اے شاہزادے! تیری یہ حالت بے کسی کی دیکھ کر مجھے یاد آیا اور یہ جی میں ٹھہرایا، کسو طرح تجھ کو ملک صادق کے پاس لے چلوں اور تیرے چچا کا ظلم بیان کروں ۔ غالب ہے کہ وہ دوستی تمہارے باپ کی یاد کر کر، ایک بوز نہ جو باقی ہے، تجھے دے ۔ تب ان کی مدد سے تیرا ملک تیرے ہاتھ آوے۔ اور چین و ماچین کی سلطنت تو بہ خاطر جمع کرے۔ اور بالفعل اس حرکت سے تیری جان بچتی ہے۔ اگر اور کچھ نہ ہو ، تو اس ظالم کے ہاتھ سے سواے اس تدبیر کے اور کوئی صورت مخلصی کی نظر نہیں آتی۔ میں نے اُس کی زبانی یہ سب کیفیت سُن کر کہا کہ دادا جان ! اب تو میری جان کا مختار ہے۔ جو میرے حق میں بھلا ہو، سو کر ۔ میری تسلی کر کے، آپ عطر اور بخور اور جوکچھ وہاں کے لے جانے کی خاطر مناسب جانا، خرید کر نے بازار میں گیا۔ دوسرے دن میرے اُس کا فر چچا کے پاس، جو بجائے ابو جہل کے تھا، گیا اور کہا: جہاں پناہ ! شہزادے کے مارڈالنے کی ایک صورت میں نے دل میں ٹھہرائی ہے، اگر حکم ہو تو عرض کروں ۔ وہ کم بخت خوش ہو کر بولا: وہ کیا تدبیر ہے؟ تب مبارک نے کہا کہ اُس کے مار ڈالنے میں سب طرح آپ کی بدنامی ہے ،مگر میں اُسے باہر جنگل میں لے جا کر ٹھکانے لگاؤں اور گاڑ داب کر چلا آؤں ۔ ہر گز کوئی محرم نہ ہوگا کہ کیا ہوا۔ یہ بندش مبارک سے سن کر بولا کہ بہت مبارک۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ سلامت نہ رہے ۔ اس کا دغدغہ میرے دل میں ہے۔ اگر مجھے اس فکر سے تو چھڑاوے گا، تو اس خدمت کے عوض بہت کچھ پاوے گا۔ جہاں تیرا جی چاہے لے جا کر کھپادے اور مجھے یہ خوش خبری لادے۔ مذکورہ بالا اقتباس میں لفظ "بوزنہ" کا کیا مفہوم ہے؟ شیر ایران کا بادشاہ بندر کتا 2. ذیل میں دو زمرے صحیح ہیں اور دو غلط۔ A۔مافوق الفطرت عناصر داستان کے بنیادی جزو ہیں۔ B۔میر امن کی بنیادی شناخت"گنج خوبی" کی وجہ سے ہے۔ C۔"سب رس" غواصی کی تصنیف ہے۔ D۔اردو داستانوں میں ہماری تہذیب و معاشرت کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ صحیح زمروں کی نشاندہی کیجیے۔ Cاور D A اور B A اور D C اور B 3. A-II B-I C-IV D-III A-III B-IV C-II D-I A-IV B-III C-I D-II A-I B-II C-III D-IV 4. اتنی محنت کچھ نیک نہ لگی، اُس کا فائدہ ظاہر نہ ہوا۔ اے شاہزادے! تیری یہ حالت بے کسی کی دیکھ کر مجھے یاد آیا اور یہ جی میں ٹھہرایا، کسو طرح تجھ کو ملک صادق کے پاس لے چلوں اور تیرے چچا کا ظلم بیان کروں ۔ غالب ہے کہ وہ دوستی تمہارے باپ کی یاد کر کر، ایک بوز نہ جو باقی ہے، تجھے دے ۔ تب ان کی مدد سے تیرا ملک تیرے ہاتھ آوے۔ اور چین و ماچین کی سلطنت تو بہ خاطر جمع کرے۔ اور بالفعل اس حرکت سے تیری جان بچتی ہے۔ اگر اور کچھ نہ ہو ، تو اس ظالم کے ہاتھ سے سواے اس تدبیر کے اور کوئی صورت مخلصی کی نظر نہیں آتی۔ میں نے اُس کی زبانی یہ سب کیفیت سُن کر کہا کہ دادا جان ! اب تو میری جان کا مختار ہے۔ جو میرے حق میں بھلا ہو، سو کر ۔ میری تسلی کر کے، آپ عطر اور بخور اور جوکچھ وہاں کے لے جانے کی خاطر مناسب جانا، خرید کر نے بازار میں گیا۔ دوسرے دن میرے اُس کا فر چچا کے پاس، جو بجائے ابو جہل کے تھا، گیا اور کہا: جہاں پناہ ! شہزادے کے مارڈالنے کی ایک صورت میں نے دل میں ٹھہرائی ہے، اگر حکم ہو تو عرض کروں ۔ وہ کم بخت خوش ہو کر بولا: وہ کیا تدبیر ہے؟ تب مبارک نے کہا کہ اُس کے مار ڈالنے میں سب طرح آپ کی بدنامی ہے ،مگر میں اُسے باہر جنگل میں لے جا کر ٹھکانے لگاؤں اور گاڑ داب کر چلا آؤں ۔ ہر گز کوئی محرم نہ ہوگا کہ کیا ہوا۔ یہ بندش مبارک سے سن کر بولا کہ بہت مبارک۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ سلامت نہ رہے ۔ اس کا دغدغہ میرے دل میں ہے۔ اگر مجھے اس فکر سے تو چھڑاوے گا، تو اس خدمت کے عوض بہت کچھ پاوے گا۔ جہاں تیرا جی چاہے لے جا کر کھپادے اور مجھے یہ خوش خبری لادے۔ مذکورہ بالا اقتباس میں مبارک نے شاہزادے کو مارنے کے لیے کون سی تدبیر تجویز کی؟ زہر دے کر مار دینے کی شیر کے پنجرے میں ڈال دینے کی جنگل میں مار کرگاڑ دینے کی پھانسی پر لٹکا دینے کی 5. ذیل میں دو بیانات دیے گئے ہیں، جن میں سے ایک دعویٰ ہے اور ایک دلیل۔ دونوں کو غور سے پڑھیے اور ذیل میں دیے گئے جوابات میں سے صحیح جواب کی نشاندہی کیجیے۔ دعوی: میر امن اردو کے ایک اہم داستان نویس ہیں۔ دلیل: کیوں کہ انھوں نے بوستانِ خیال جیسی داستان لکھی۔ دعویٰ غلط ہے ، دلیل بھی غلط ہے۔ دعویٰ صحیح ہے ، دلیل بھی صحیح ہے۔ دعویٰ غلط ہے ،دلیل صحیح ہے۔ دعویٰ صحیح ہے، دلیل غلط ہے۔ 6. ذیل میں دو زمرے صحیح ہیں اور دو غلط۔ A۔داستان "باغ و بہار" ترجمہ ہے لیکن طبع زاد معلوم ہوتی ہے۔ B۔ڈراما "ضحّاک" کسان تحریک کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ C۔ثریّا ڈراما انارکلی کا کردار ہے۔ D۔امانت لکھنوی ایک کامیاب داستان نویس تھے۔ صحیح زمروں کی نشاندہی کیجیے۔ A اور B A اور C B اور D C اور B 7. "باغ و بہار" کا تیسرا درویش کس ملک کےبادشاہ کا بیٹا تھا؟ چین یمن عجم مصر 8. ذیل میں دو زمرے صحیح ہیں اور دو غلط۔ A۔اردو اسٹیج ڈراموں کے فروغ میں پارسی تھیٹریکل کمپنیوں کا اہم رول رہاہے۔ B۔آغا حشر کاشمیری کو اردو ڈرامے کا شیکسپئیر کہا جاتا ہے۔ C۔مکالموں کے بغیر بھی ڈرامے لکھے جاسکتے ہیں۔ D۔ڈراما "اندرسبھا" کے مصنف حبیب تنویر ہیں۔ صحیح زمروں کی نشاندہی کیجیے۔ C اور D Bاور D C اور B A اور B 9. زمانی اعتبار سے صحیح ترتیب کی نشاندہی کیجیے۔ A۔رانی کیتکی کی کہانی، باغ وبہار، سب رس B۔باغ و بہار، سب رس، بوستانِ خیال C۔سب رس، کربل کتھا، بوستانِ خیال D۔فسانہء عجائب، سب رس، باغ وبہار B D A C رانی کیتکی کی کہانی:1803 / 1808 باغ وبہار: 1801 سب رس: 1045ھ/ 1635ء ، 1924، 1932 بوستانِ خیال: 1170 کربل کتھا: 1145 ھ بمطابق 1732-33 فسانہء عجائب: 1824 10. ذیل میں دو زمرے صحیح ہیں اور دو غلط۔ A۔ملا وجہی۔ ابن نشاطی۔ غواصی B۔نظامی بیدری، ملا وجہی، ابن نشاطی C۔ملک خوشنود، مقیمی، رستمی D۔ابن نشاطی، ملا وجہی، نظامی بیدری صحیح زمروں کی نشاندہی کیجیے۔ A اور B A اور C A اور D B اور D 11. اتنی محنت کچھ نیک نہ لگی، اُس کا فائدہ ظاہر نہ ہوا۔ اے شاہزادے! تیری یہ حالت بے کسی کی دیکھ کر مجھے یاد آیا اور یہ جی میں ٹھہرایا، کسو طرح تجھ کو ملک صادق کے پاس لے چلوں اور تیرے چچا کا ظلم بیان کروں ۔ غالب ہے کہ وہ دوستی تمہارے باپ کی یاد کر کر، ایک بوز نہ جو باقی ہے، تجھے دے ۔ تب ان کی مدد سے تیرا ملک تیرے ہاتھ آوے۔ اور چین و ماچین کی سلطنت تو بہ خاطر جمع کرے۔ اور بالفعل اس حرکت سے تیری جان بچتی ہے۔ اگر اور کچھ نہ ہو ، تو اس ظالم کے ہاتھ سے سواے اس تدبیر کے اور کوئی صورت مخلصی کی نظر نہیں آتی۔ میں نے اُس کی زبانی یہ سب کیفیت سُن کر کہا کہ دادا جان ! اب تو میری جان کا مختار ہے۔ جو میرے حق میں بھلا ہو، سو کر ۔ میری تسلی کر کے، آپ عطر اور بخور اور جوکچھ وہاں کے لے جانے کی خاطر مناسب جانا، خرید کر نے بازار میں گیا۔ دوسرے دن میرے اُس کا فر چچا کے پاس، جو بجائے ابو جہل کے تھا، گیا اور کہا: جہاں پناہ ! شہزادے کے مارڈالنے کی ایک صورت میں نے دل میں ٹھہرائی ہے، اگر حکم ہو تو عرض کروں ۔ وہ کم بخت خوش ہو کر بولا: وہ کیا تدبیر ہے؟ تب مبارک نے کہا کہ اُس کے مار ڈالنے میں سب طرح آپ کی بدنامی ہے ،مگر میں اُسے باہر جنگل میں لے جا کر ٹھکانے لگاؤں اور گاڑ داب کر چلا آؤں ۔ ہر گز کوئی محرم نہ ہوگا کہ کیا ہوا۔ یہ بندش مبارک سے سن کر بولا کہ بہت مبارک۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ سلامت نہ رہے ۔ اس کا دغدغہ میرے دل میں ہے۔ اگر مجھے اس فکر سے تو چھڑاوے گا، تو اس خدمت کے عوض بہت کچھ پاوے گا۔ جہاں تیرا جی چاہے لے جا کر کھپادے اور مجھے یہ خوش خبری لادے۔ مذکورہ بالا اقتباس کس درویش سے متعلق ہے؟ چوتھے دوسرے تیسرے پہلے 12. ذیل میں دو زمرے صحیح ہیں اور دو غلط۔ A۔"سب رس" اور "قطب مشتری" ملا وجہی کی تصانیف ہیں۔ B۔"رانی کیتکی کی کہانی" کا اسلوب عربی و فارسی آمیز ہے۔ C۔"فسانہ عجائب" دہلی میں لکھی گئی۔ D۔میر امن دہلی میں پیدا ہوئے۔ صحیح زمروں کی نشاندہی کیجیے۔ A اور D A اور B Cاور D C اور B 13. “سب رس" میں شہزادے کو کس چیز کی تلاش ہے؟ آب حیات بولنے والا طوطا طلسمی پھول جادوئی انگوٹھی 14. ذیل میں دو زمرے صحیح ہیں اور دو غلط۔ A۔شہزادہ گلفام ڈراما "اندرسبھا" کا کردار ہے۔ B۔"ضحاک" حبیب تنویر کا ڈراماہے۔ C۔"یہودی کی لڑکی" اور "رستم و سہراب" آغاحشر کاشمیری کے ڈرامے ہیں۔ D۔"بوستان ِ خیال" ملاوجہی کی تصنیف ہے۔ صحیح زمروں کی نشاندہی کیجیے۔ C اور B A اور D Bاور D Cاور A 15. A-I B-II C-III D-IV A-II B-I C-IV D-III A-IV B-III C-II D-I A-III B-IV C-I D-II 16. اتنی محنت کچھ نیک نہ لگی، اُس کا فائدہ ظاہر نہ ہوا۔ اے شاہزادے! تیری یہ حالت بے کسی کی دیکھ کر مجھے یاد آیا اور یہ جی میں ٹھہرایا، کسو طرح تجھ کو ملک صادق کے پاس لے چلوں اور تیرے چچا کا ظلم بیان کروں ۔ غالب ہے کہ وہ دوستی تمہارے باپ کی یاد کر کر، ایک بوز نہ جو باقی ہے، تجھے دے ۔ تب ان کی مدد سے تیرا ملک تیرے ہاتھ آوے۔ اور چین و ماچین کی سلطنت تو بہ خاطر جمع کرے۔ اور بالفعل اس حرکت سے تیری جان بچتی ہے۔ اگر اور کچھ نہ ہو ، تو اس ظالم کے ہاتھ سے سواے اس تدبیر کے اور کوئی صورت مخلصی کی نظر نہیں آتی۔ میں نے اُس کی زبانی یہ سب کیفیت سُن کر کہا کہ دادا جان ! اب تو میری جان کا مختار ہے۔ جو میرے حق میں بھلا ہو، سو کر ۔ میری تسلی کر کے، آپ عطر اور بخور اور جوکچھ وہاں کے لے جانے کی خاطر مناسب جانا، خرید کر نے بازار میں گیا۔ دوسرے دن میرے اُس کا فر چچا کے پاس، جو بجائے ابو جہل کے تھا، گیا اور کہا: جہاں پناہ ! شہزادے کے مارڈالنے کی ایک صورت میں نے دل میں ٹھہرائی ہے، اگر حکم ہو تو عرض کروں ۔ وہ کم بخت خوش ہو کر بولا: وہ کیا تدبیر ہے؟ تب مبارک نے کہا کہ اُس کے مار ڈالنے میں سب طرح آپ کی بدنامی ہے ،مگر میں اُسے باہر جنگل میں لے جا کر ٹھکانے لگاؤں اور گاڑ داب کر چلا آؤں ۔ ہر گز کوئی محرم نہ ہوگا کہ کیا ہوا۔ یہ بندش مبارک سے سن کر بولا کہ بہت مبارک۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ سلامت نہ رہے ۔ اس کا دغدغہ میرے دل میں ہے۔ اگر مجھے اس فکر سے تو چھڑاوے گا، تو اس خدمت کے عوض بہت کچھ پاوے گا۔ جہاں تیرا جی چاہے لے جا کر کھپادے اور مجھے یہ خوش خبری لادے۔ مذکورہ بالا اقتباس میں "ابو جہل" سے کون مرادہے؟ جنوں کا بادشاہ وزیر شہزادے کا چچا غلام 17. اتنی محنت کچھ نیک نہ لگی، اُس کا فائدہ ظاہر نہ ہوا۔ اے شاہزادے! تیری یہ حالت بے کسی کی دیکھ کر مجھے یاد آیا اور یہ جی میں ٹھہرایا، کسو طرح تجھ کو ملک صادق کے پاس لے چلوں اور تیرے چچا کا ظلم بیان کروں ۔ غالب ہے کہ وہ دوستی تمہارے باپ کی یاد کر کر، ایک بوز نہ جو باقی ہے، تجھے دے ۔ تب ان کی مدد سے تیرا ملک تیرے ہاتھ آوے۔ اور چین و ماچین کی سلطنت تو بہ خاطر جمع کرے۔ اور بالفعل اس حرکت سے تیری جان بچتی ہے۔ اگر اور کچھ نہ ہو ، تو اس ظالم کے ہاتھ سے سواے اس تدبیر کے اور کوئی صورت مخلصی کی نظر نہیں آتی۔ میں نے اُس کی زبانی یہ سب کیفیت سُن کر کہا کہ دادا جان ! اب تو میری جان کا مختار ہے۔ جو میرے حق میں بھلا ہو، سو کر ۔ میری تسلی کر کے، آپ عطر اور بخور اور جوکچھ وہاں کے لے جانے کی خاطر مناسب جانا، خرید کر نے بازار میں گیا۔ دوسرے دن میرے اُس کا فر چچا کے پاس، جو بجائے ابو جہل کے تھا، گیا اور کہا: جہاں پناہ ! شہزادے کے مارڈالنے کی ایک صورت میں نے دل میں ٹھہرائی ہے، اگر حکم ہو تو عرض کروں ۔ وہ کم بخت خوش ہو کر بولا: وہ کیا تدبیر ہے؟ تب مبارک نے کہا کہ اُس کے مار ڈالنے میں سب طرح آپ کی بدنامی ہے ،مگر میں اُسے باہر جنگل میں لے جا کر ٹھکانے لگاؤں اور گاڑ داب کر چلا آؤں ۔ ہر گز کوئی محرم نہ ہوگا کہ کیا ہوا۔ یہ بندش مبارک سے سن کر بولا کہ بہت مبارک۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ سلامت نہ رہے ۔ اس کا دغدغہ میرے دل میں ہے۔ اگر مجھے اس فکر سے تو چھڑاوے گا، تو اس خدمت کے عوض بہت کچھ پاوے گا۔ جہاں تیرا جی چاہے لے جا کر کھپادے اور مجھے یہ خوش خبری لادے۔ مذکورہ بالا اقتباس میں ملک صادق کون ہے؟ تیسرا درویش ایران کا بادشاہ چین و ماچین کا بادشاہ جنوں کا بادشاہ 18. ڈراما"یہودی کی لڑکی" میں کل کتنے سین ہیں؟ انیس بیس اٹھارہ سترہ Your score isThe average score is 46%آپ کو یہ کوئز پسند آیا ہو تو دوستوں کو ساجھا کریں Facebook 0% Restart quiz Post Views: 1,502
اردو زبان: ایک تعارف از ارشد علی / اکتوبر 25, 2021 اردو زبان: ایک تعارف اردو ترکی لفظ "اوردو” سے ماخوذ ہے جس کے لغوی معنی "لشکریا شاہی آرام گاہ” کے ہیں۔ یہ لفظ زبان کے…
زبانوں کی گروہ بندی از ارشد علی / اکتوبر 26, 2021 مشہور زبانوں کی تعداد قیاساً2796 بتائی جاتی ہے ۔جو زبانیں باہم مماثلت رکھتی ہیں یعنی جن زبانوں میں لسانیاتی بنیادوں پر یکسانیت پائی جاتی ہے…
ہندوستان میں آریاؤں کی آمد از ارشد علی / اکتوبر 27, 2021 ہندوستان میں آریاؤں کی آمد جدیدمحققین کی رائے میں آریاؤں کے وطن کی تلاش وسطی ایشیا کے علاقوں میں کرنا چاہیئے۔بہر حال 2000 ق م…