افسانہ (05) روشنی کا خلاصہ

پریم چند کا افسانہ : روشنی

افسانہ “روشنی” پریم چند کا افسانوی مجموعہ واردات میں شامل پانچواں افسانہ ہے۔ آپ اس خلاصہ کو پڑھنے کے بجائے سن بھی سکتے ہیں۔

اس افسانے کا آغاز اس جملے سے ہوتا ہے”آئی ۔سی۔ایس۔پاس کر کے ہندوستان آیا تو مجھے ممالک متحدہ کے ایک کوہستان علاقے میں ایک سب ڈویژن کا چارج ملا”۔

“اوراس کا اختتام اس جملے پرہوتا ہے: “وہ دیوی پیچھے کے گاوں میں رہتی ہے۔

“توکیا وہ عورت ہے؟”

“نہیں،میرے لئے وہ دیوی ہے”

اس افسانے کے کل تین حصے ہیں۔ پہلے حصے میں راوی کا کوہستان علاقے میں پوسٹنگ اورراوی کی بیوہ عورت سے ملاقات اوراس کے ساتھ اس کے گاوں جانا اوراس کے بچوں سے ملاقات کا ذکر ہے۔ دوسرے حصے میں راوی کی اس سے گفتگو اورتیسرے حصے میں گجن پور کے لئے روانگی اور راستے میں اندھے بوڑے کو بچانے کا ذکر کیا گیا ہے ۔

نچوڑ

اس افسانے میں ایک بیوہ عورت کی کہانی بیان کی گئی ہے جو بہادر، بےخوف اور خود دار ہے، جواپنے شوہر کے مرنے کے بعد اس کی عزت کا خیال رکھتی ہے،اس کی عزت کی خاطر کسی کے سامنے اپنا ہاتھ نہیں پھیلاتی اورممتا ایسی کہ بچوں کا پیٹ پالنے کی خاطرایسی محنت کرتی ہے کہ نہ آندھی کا ڈرہے نہ ہی طوفان کا خوف بلکہ ایک مرد مجاہد کی طرح طوفان کا سامنا کرتی ہے۔ اس افسانے کے ذریعے پریم چند نے یہ بات بتانے کی کوشش کی ہے کہ ان پڑھ عورت یا پھر لوگ جنہیں جاہل،کورباطن سمجھتے ہے۔ان میں بھی خود داری ہوتی ہے۔

خلاصہ

اس افسانہ کا راوی جو افسانہ کا مرکزی کرداربھی ہے۔ جو آئی ۔ سی ۔ ایس ۔ کا امتحان پاس کر کے ہندوستان آیا تو ممالک متحدہ کے کوہستانی علاقہ میں اسے سب ڈویژن کا چارج ملا۔ وہ اس سے بہت خوش تھا کیونکہ اسے شکار کا بہت شوق تھا۔ بہارکا موسم اورپھاگن کا مہینہ تھا جب راوی لندھوار کے تھانے کا معائنہ کر کے گجن پور کے تھانے کو چلا۔ وہ گھوڑے پرسوارقدرت کے مناظر سے لطف اندوز ہوتا ہوا اپناسفر طے کرتا رہا کہ اچانک آندھی آجاتی ہے اورآندھی طوفان میں بدل جاتی ہے۔ وہ گھوڑے کی گردن سے چمٹ جاتا ہے۔ ہرطرف قیامت سا منظر ہوتا ہے۔ ایسا طوفان کہ موت بھی آئے تو لاش کا پتہ نہ چل پائے اور ایک قدم بھی ادھر ادھر ہو جائے تو انسان ایک ہزار فٹ گہرے کھڈ میں پہنچ جائے۔ ایسے قیامت سے طوفان میں سانڈنی پر سواراکیلی تنہا عورت بلا خوف مردانہ وار چلی آرہی تھی ۔ جب راوی اس سے پوچھتا ہے کہ تم اس آندھی میں کہیں رک کیوں نہیں گئی تو جواب دیتی ہے کہ اس کا شوہرمر گیا ہے اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہے۔

2

پندرہ منٹ میں مطلع صاف ہوگیا۔ راوی اس عورت کے گاوں پہنچا اس نے بتایا کہ اس کو بیوہ ہوئے چھ مہینے ہوئے ہیں اوراس کے دو بیٹے ہیں۔ اوروہ گھاس بیچ کرگزارا کرتی ہے۔ جب راوی نے پانچ روپئے بچوں کی مٹھائی کے لئے دینا چاہا تواس خود دارعورت نے منع کرتے ہوئے کہا کہ میں غریب ہوں، بھکارن نہیں ہوں۔ ایک ان پڑھ عورت کی خود داری ،فرض شناسی،توکل،دلداری دیکھ کرکافی متاثر ہوا۔

3

راوی گجن پور کی طرف نکل پڑا۔آسمان پر پھر سے ابر گھرنے لگا لیکن اب راوی کومحسوس ہوتا کہ اس پر کسی کا سایہ ہے جو اسے ہر آفت سے بچا لے گا۔ ابھی وہ ایک میل ہی پہنچا تھا کہ ایک اندھا رپٹ (رپٹ کے لئے بنیاد کھودی گئی تھی) میں گر گیا ۔ پانی کافی گہراتھا اورژالہ باری (اولے پڑنا)شروع ہوگئے۔ وہ چاہتا تو بوڑھے کومرتا ہوا چھوڑکرجاسکتا تھا لیکن اس نے ایسا نہ کیا بلکہ بوڑھے کو بچانے لئے پانی میں کود پڑا ۔اور اس اندھے کی جان بچالی تھی۔اس کی جان بچاکراس نے اپنے اوپر فتح پائی تھی۔ اس بیوہ بہادر عورت سے ملاقات کے بعد راوی کی زندگی میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔

افسانہ کے کردار

اس افسانے میں کل تین کردار ہے۔

راوی

بیوہ عورت

اندھا بوڑھا

اہم نکات

پھاگن کا مہینہ تھا جب راوی لندھوار کے تھانے کا معائنہ کر کے گجن پور کے تھانے کو چلا۔ مسافت کچھ اٹھارہ میل تھی۔

بیوہ عورت سانڈنی پے سوار تھی،اور راوی گھوڑے پر۔

جب آندھی آئی تھی تو بیوہ عورت کے دونوں بیٹے نمبردار کی چوپال میں جاکر بیٹھے تھے اس ڈر سے کہ آندھی کی وجہہ سے ان کی جھونپڑیاں نہ اڑ جائے۔

بوڑھے کو ڈھونڈتے ہوئے دو آدمی مندر پہنچ گئے تھے۔

اہم اقتباسات

امریکہ اور یورپ کے کئی رسالے آتے تھے، ان کے مضامین کی شگفتگی اور جدت اور خیال آرائی کے مقابلے میں ہندوستانی اخبار اور رسالے بھلا کیا جچتے، سوچتا تھا وہ دن کب آئے گا کہ ہمارے یہاں بھی ایسے شاندار رسالےنکلیں گے۔

جا بجا کاشتکار کھیتوں میں کام کرتے نظر آرہے تھے۔ ربیع کی فصل تیار ہو چکی تھی، اوکھ اور خربوزے کیلیئے زمین تیار کی جا رہی تھی۔ ذرا ذرا سے مزارعے تھے، وہی باوا آدم کے زمانے کے بوسیدہ ہل، وہی افسوسناک جہالت، وہی شرمناک نیم برہنگی، اس قوم کا خدا ہی حافظ ہے۔

گورنمنٹ لاکھوں روپے زراعتی اصلاحوں پر صرف کرتی ہے، نئی نئی تحقیقاتیں اور ایجادیں ہوتی ہیں، ڈائرکٹر، انسپکٹر سب موجود اور حالت میں کوئی اصلاح، کوئی تغیر نہیں۔ مغرب میں تعلیم کا طوفانِ بے تمیزی برپا ہے، یہاں مدرسوں میں کتے لوٹتے ہیں۔ جب مدرسے پہنچ جاتا ہوں تو مدرس کو کھاٹ پر نیم غنودگی کی حالت میں لیٹے پاتا ہوں۔ بڑی دوا دوش سے دس بیس لڑکے جوڑے جاتے ہیں، جس قوم پر جمود نے اس حد تک قبضہ کر لیا ہو ،اس کامستقبل انتہا درجہ مایوس کن ہے۔

اچھے اچھے تعلیم یافتہ آدمیوں کو سلف کی یاد میں آنسو بہاتے دیکھتا ہوں، مانا کہ ایشیا کے جزائر میں آرین مبلغ روشنیو​ں نے مذہب کی روح پھونکی تھی، یہ بھی مان لیا کہ کسی زمانے میں آسٹریلیا بھی آرین تہذیب کا ممنون تھا لیکن اس سلف پروری سے کیا حاصل، آج تو مغرب دنیا کا مشعلِ ہدایت ہے۔ ننھا سا انگلینڈ نصف کرۂ زمین پر حاوی ہے اپنی صنعت و حرفت کی بدولت۔

بے شک مغرب نے دنیا کو ایک نیا پیغامِ عمل عطا کیا ہے اور جس قوم میں اس پیغام پر عمل کرنے کی قوت نہیں ہے اس کامستقبل تاریک ہے۔ جہاں آج بھی نیم برہنہ گوشہ نشین فقیروں کی عظمت کے راگ الاپے جاتے ہیں، جہاں آج بھی شجر و حجر کی عبادت ہوتی ہے، جہاں آج بھی زندگی کے ہر ایک شعبے میں مذہب گھسا ہوا ہے اگر اس کی یہ حالت ہے تو تعجب کا مقام نہیں۔

میرا دل اس سے زیادہ تیزی سے اڑرہا تھا۔ جیسے کوئی مفلس سونے کا ڈلا پا کردل میں ایک طرح کی پروازکا احساس کرتا ہے وہی حالت میری تھی۔ اس دہقان عورت نے مجھے وہ تعلیم دی جو فلسفہ اورمابعد الطبیعات کے دفتروں سے بھی نہ حاصل ہوئی تھی۔ میں اس مفلس کی طرح اس سونے کے ڈلے کو گرہ میں باندھتا ہوا ایک غیر مترقبہ نعمت کےغرورسے مسرور، اس اندیشے سے خائف کہ کہیں یہ اثر دل سے مٹ نہ جائے،اڑا چلا جاتا تھا۔ بس یہی فکر تھی کہ اس پارہ زرکو دل کے کسی گوشے میں چھپالوں جہاں کسی حریص کی اس پر نگاہ نہ پڑے۔

1 thought on “افسانہ (05) روشنی کا خلاصہ”

  1. Pingback: افسانہ روشنی Urdu Literature

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Enable Notifications OK No thanks