دوسری اکائی: اردو کی شعری اصناف سے متعلق کوئز

دوسری اکائی : اردو کی شعری اصناف

Results

بہت عمدہ

قابل ستائش

اچھی سعی

لگے رہیں

HD Quiz powered by harmonic design

#1. “کدم راؤ پدم راؤ” کی زبان مغلق اور کٹھن ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نظامی نے فارسی پر تکیہ کرنے کے بجائے تیلگو، کنڑ، کسی قدر مراٹھی اور پھر سنسکرت کے تت سم الفاظ کو کثرت سے راہ دی ہے۔” مثنوی “کدم راؤ پدم راؤ” سے متعلق یہ بات کس نے کہی ہے؟

اردو کا ابتدائی زمانہ؛ شمس الرحمٰن فاروقی؛ ص 74

#2. “حسن تعبیر، زبان و بیان، کردار نگاری، منظر نگاری، جذبات نگاری، ہم عصر تہذیب کی مرقع کشی۔” کس نے مثنوی کی مندرجہ ذیل خوبیاں بتائی ہے؟

اردو مثنوی کا ارتقا: عبدالقادر سروری

گیان چند کے مطابق مثنوی کی مندرجہ ذیل خوبیاں ہیں۔

1۔حسن تعبیر، 2۔ زبان و بیان، 3۔ کردار نگاری، 4۔ منظر نگاری، جذبات نگاری، 6۔ ہم عصر تہذیب کی مرقع کشی۔”           (اردو مثنوی شمالی ہند میں)

#3. درج بالاکے اشعار کس مثنوی کے ہیں؟

بعنوان “نعت حضرت رسالت پناہ کی

#4. جب شیخ ابراہیم ذوق ولی عہد بہادر شاہ ظفر کے استاد بنے تو ان کی کتنی تنخواہ مقرر ہوئی؟

#5. درج ذیل میں کون سا عنوان قطب مشتری کانہیں ہے؟

تعریف اصحابِ پاک

یہ عنوان مثنوی سحرالبیان کا ہے

#6. درج بالا میں شعرا اور ان کے اساتذہ کے درست جوڑے کی شناخت کریں۔

#7. زمانے کے لحاظ سے ماضی سے حال کی جانب مثنوی کی غلط ترتیب کی نشان دہی کریں۔

گمان غالب ہے کہ یہ مثنوی بیدر میں لکھی گئی ہو اس لیے کہ احمد شاہ ولی نے 834ھ بمطابق 1430 ء میں اپنا دارالسلطنت گلبرگہ کے بجائے بیدر کو بنایا تھا۔ اگر یہ بیدر میں لکھی گئی تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ نظامی نے اسے 834ھ بمطابق 1430 ء اور 839 بمطابق 1435ء کے درمیانی عرصہ میں تصنیف کیا۔

قطب مشتری (1018ھ بمطابق 1609ء)

نصیرالدین ہاشمی، زور، اور جمیل جالبی کے مطابق: انہوں نے ایک فارسی قصے “بساتین الانس” (مصنفہ احمد حسن دبیر عید روسی) کو سامنے رکھ کر “پھولبن” کے نام سے 1066ھ بمطابق 1655ء میں دکھنی میں نظم کیا۔

عبدالقادرسروری کے مطابق 1076ھ ہے۔

شمالی ہند کا پہلا مستند اردو شاعر ، افضل ہی ہے، جس نے اپنی بکٹ کہانی سنہ 1625ء سے قبل مکمل کرلی تھی، افضل ، دکن کے شعرا محمد قلی قطب شاہ، وجہی، غواصی ، ابراہیم عادل شاہ ثانی اور اس کے درباری شاعر عبدل کا ہم عصر تھا۔

سحرالبیان سن تکمیل مثنوی: 1199 ھ بمطابق 1784-85

گلزار نسیم تکمیل تصنیف: 1254بمطابق 1838-39

#8. درج بالا شعر کس کاہے؟

#9. درج ذیل میں سے مثنوی نگاروالے زمرے کی شناخت کریں۔

#10. مرزا محمد رفیع سودا نے درج بالا قصیدہ کس کے قصیدے کی زمین پر کہی ہے؟

یہ قصیدہ انہوں نے خاقانی کے قصیدے کی زمین پر ہے۔جس کا مطلع ہے:

نثار اشک من ہر شب شکر ریز است پنہانی

کہ ہمت رازناشوئیست بازانوو پیشانی

#11. مرزا رفیع سودا دہلی کی تباہی کے وقت کس کے ساتھ دہلی سے نکلے؟

نواب غازی الدین خاں عماد الملک ، اصل نام میر شہاب الدین تھا اور یہ میرمحمد پنا فیروز جنگ ثانی کے بیٹے تھے۔

#12. کس نے مرزا سلامت علی دبیرسے متعلق کہا تھا؟ “تشبیہ و استعارات ، تراکیب و نازک خیالی میں ایک معنی پوشیدہ کا رکھ دینا انہی کا کام تھا۔”

#13. درج ذیل مرثیہ کس کا ہے؟ “نمک خوان تکلم ہے فصاحت میری”

#14. مثنوی پھول بن کے کردار کے بارے میں کون سا جوڑا غلط ہے؟

#15. “قیدی مرغ کی نصیحت اور شکاری کی نافہمی کی حکایت کس مثنوی میں ہے؟

یہ عنوان بھی ہیں

 حکایت ایک عورت کے مرد بن جانے کی دیو کے جادو سے

 حکایت نصیحت گری مرغ اسیر اور نافہمی صیاد کی

#16. درج بالا شعر کس کاہے؟

زہے نشاط اگرکیجئے اسے تحریر::عیاں ہو خامہ سے تحریر نغمہ جاے صریر

شیخ محمد ابراہیم ذوق کا مشہور مدحیہ قصیدہ جسے ذوق نے بہادر شاہ ظفر کی مدح  میں کہا تھا۔

#17. درج بالا شعر پر کون سی مثنوی ختم ہوتی ہے؟

#18. درج بالاشعر کس مثنوی کا ہے؟

#19. رفیع سوداؔ سے متعلق کس نے یہ بات کہی ہے؟ “خوشا نصیب اس اُستاد کے جس کی گود میں ایسا شاگرد پل کر بڑا ہوا۔”

#20. ” جو قصیدہ نہیں لکھ سکتا اس کو شعرا میں شمار کرنا نہیں چاہیے اور اسی بنا پر کس نے شیخ ابراہیم ذوق کو پورا شاعر اور شاہ نصیرؔ کو ادھورا شاعر بتایاہے؟

Finish

9 thoughts on “دوسری اکائی: اردو کی شعری اصناف سے متعلق کوئز”

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Enable Notifications OK No thanks