DSSSB، TGT Urdu، PGT Urdu، NET اور دیگر مسابقتی امتحانات کے لیے مفید۔
تعارف
"دو بیلوں کی کہانی” پریم چند کا ایک مشہور افسانہ ہے۔ یہ افسانہ دو بیلوں، ہیرا اور موتی، کی دوستی، وفاداری، ایثار اور آزادی کی خواہش کو علامتی انداز میں پیش کرتا ہے۔ مصنف نے جانوروں کے کرداروں کے ذریعے انسانی جذبات اور سماجی رویوں کی عکاسی کی ہے۔
پریم چند کا مختصر تعارف
پریم چند اردو اور ہندی ادب کے ممتاز افسانہ نگار اور ناول نگار تھے۔ انہوں نے اردو افسانے کو خیالی داستانوں سے نکال کر حقیقی زندگی کے مسائل سے جوڑا۔ ان کے افسانوں میں سماجی مسائل، غربت، انسانی ہمدردی اور اخلاقی اقدار کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ "کفن”، "پوس کی رات”، "بڑے گھر کی بیٹی” اور "عیدگاہ” ان کی مشہور تخلیقات ہیں۔
افسانہ دو بیلوں کی کہانی کا خلاصہ
جھوری کے پاس دو خوبصورت اور کام میں چاق و چوبند بیل تھے جن کے نام ہیرا اور موتی تھے۔ ان دونوں میں ایسی گہری دوستی تھی کہ ہل میں جتے وقت ہر ایک کی کوشش ہوتی تھی کہ بوجھ دوسرے پر کم اور اس پر زیادہ ہو۔ وہ ایک ساتھ ناند میں منہ ڈالتے اور ایک ساتھ ہی ہٹاتے تھے۔
اتفاق سے جھوری نے ایک بار دونوں بیلوں کو اپنے سالے گیا کے ساتھ بھیج دیا۔ بیلوں نے سمجھا کہ انہیں بیچ دیا گیا ہے، اس لیے وہ جانے کو تیار نہیں تھے۔ گیا کے گھر پر انہیں کھانے کو صرف سوکھا بھوسا ملتا اور دن بھر سخت کام لیا جاتا۔ ایک بار جب گیا نے ہیرا کی ناک پر ڈنڈا مارا تو موتی غصے میں آپے سے باہر ہو گیا اور ہل لے کر بھاگ نکلا۔
گیا کے گھر میں ایک چھوٹی لڑکی رہتی تھی جس کی ماں مر چکی تھی اور سوتیلی ماں اسے مارتی تھی۔ وہ روزانہ رات کو چھپ کر بیلوں کو ایک ایک روٹی کھلاتی جس سے ان کی بھوک تو نہیں مٹتی تھی لیکن ان کا دل خوش ہو جاتا۔ ایک رات اسی لڑکی نے ہمدردی میں ان کی رسیاں کھول دیں اور وہ وہاں سے بھاگ نکلے۔
راستے میں ان کا سامنا ایک قوی ہیکل سانڈ سے ہوا۔ دونوں نے مل کر بہادری سے مقابلہ کیا اور اسے زخمی کر کے بھگا دیا۔ اس کے بعد وہ ایک مٹر کے کھیت میں چرنے لگے جہاں وہ پکڑے گئے اور انہیں کانجی ہاؤس (آوارہ جانوروں کو رکھنے کی جگہ) میں بند کر دیا گیا۔ وہاں کئی دنوں تک انہیں کچھ کھانے کو نہ دیا گیا۔ ہیرا اور موتی نے مل کر کانجی ہاؤس کی کچی دیوار توڑ دی تاکہ دوسرے جانور (گھوڑے، بکریاں، بھینسیں) وہاں سے آزاد ہو سکیں۔ ہیرا کی رسی بندھی ہونے کی وجہ سے وہ نہ بھاگ سکا اور موتی نے بھی اپنے دوست کو تنہا چھوڑ کر جانے سے انکار کر دیا۔
ہفتہ بھر بھوکے پیاسے رہنے کے بعد انہیں ایک قصائی نما آدمی کے ہاتھ نیلام کر دیا گیا۔ وہ آدمی انہیں ہانکتا ہوا لے جا رہا تھا کہ اچانک انہیں وہ راستہ نظر آیا جہاں سے وہ پہلے جھوری کے گھر جایا کرتے تھے۔ اپنی جانی پہچانی جگہ دیکھ کر ان میں ہمت آ گئی اور وہ دوڑ کر جھوری کے گھر پہنچ گئے اور اپنی پرانی جگہ (تھان) پر جا کھڑے ہوئے۔
جھوری انہیں دیکھ کر نہال ہو گیا۔ جب وہ خریدار انہیں زبردستی لے جانے لگا تو موتی نے اسے سینگ دکھا کر گاؤں سے باہر بھگا دیا۔ آخر میں جھوری کی بیوی نے بھی ان کی وفاداری اور محبت سے متاثر ہو کر ان کے ماتھے چوم لیے۔
نتیجہ
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اتحاد میں بڑی طاقت ہے اور اگر جانوروں کے ساتھ محبت کا سلوک کیا جائے تو وہ بھی وفاداری کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہیں۔
کردار نگاری
- ہیرا اور موتی: یہ دونوں بیل اس کہانی کے ہیرو ہیں۔ ہیرا صابر اور سنجیدہ ہے، جبکہ موتی ذرا غصیلہ اور جلد باز ہے، لیکن دونوں ایک دوسرے کے سچے دوست ہیں ۔
- جھوری کاچھی: بیلوں کا اصل مالک جو ان سے بے حد محبت کرتا ہے اور انہیں اپنی اولاد کی طرح سمجھتا ہے۔
- گیا: جھوری کا سالہ، جو بیلوں کو اپنے گھر لے جاتا ہے لیکن ان کے ساتھ انتہائی برا سلوک کرتا ہے۔
- چھوٹی لڑکی: گیا کے گھر کی ایک معصوم بچی جو اپنی سوتیلی ماں کے ظلم کا شکار ہے اور بیلوں کی تکلیف محسوس کرتے ہوئے ان کی مدد کرتی ہے۔
- قصائی نما آدمی: ایک خوفناک شکل والا شخص جو نیلامی میں بیلوں کو خریدتا ہے۔
معروضی سوالات (MCQs)
سوال: دو بیلوں کی کہانی کے مصنف کون ہیں؟
- A) کرشن چندر
- B) منٹو
- C) پریم چند ✅
- D) راجندر سنگھ بیدی
سوال: ہیرا اور موتی کس کے بیل تھے؟
- A) گیا
- B) جھوری ✅
- C) قصائی نما آدمی
- D) پنڈت
سوال: بیلوں کو رات میں روٹی کون کھلاتی تھی؟
- A) جھوری کی بیوی
- B) بوڑھی عورت
- C) چھوٹی لڑکی ✅
- D) ہمسائی
سوال: بیلوں کو کہاں بند کیا گیا؟
- A) اصطبل
- B) تھانہ
- C) کانجی ہاؤس ✅
- D) باغ
سوال: سانڈ سے مقابلہ کس نے کیا؟
- A) جھوری
- B) گیا
- C) ہیرا اور موتی ✅
- D) قصائی نما آدمی

