DSSSB، TGT Urdu، PGT Urdu، NET اور دیگر مسابقتی امتحانات کے لیے مفید۔
تعارف
"قول کا پاس” ایک سبق آموز اور اخلاقی کہانی ہے جس میں وعدے کی پابندی، سچائی، دیانت داری اور انسانی ہمدردی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار رگھوپت سنگھ ایک بہادر راجپوت سردار ہے جو انتہائی مشکل حالات میں بھی اپنے قول سے نہیں پھرتا۔
مرکزی خیال
کہانی کا مرکزی خیال وعدے کی پابندی، سچائی اور دیانت داری ہے۔ مصنف یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ ایک باکردار انسان مشکل ترین حالات میں بھی اپنے قول سے نہیں پھرتا اور سچائی بالآخر کامیابی اور عزت کا باعث بنتی ہے۔
پریم چند کا مختصر تعارف
پریم چند اردو اور ہندی ادب کے ممتاز افسانہ نگار اور ناول نگار تھے۔ انہوں نے اردو افسانے کو خیالی داستانوں سے نکال کر حقیقی زندگی کے مسائل سے جوڑا۔ ان کے افسانوں میں سماجی مسائل، غربت، انسانی ہمدردی اور اخلاقی اقدار کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ "کفن”، "پوس کی رات”، "بڑے گھر کی بیٹی” اور "عیدگاہ” ان کی مشہور تخلیقات ہیں۔
قول کا پاس کا خلاصہ
یہ کہانی مغل شہنشاہ اکبر کے دور کی ہے جب وہ ہندوستان کا بہت سا حصہ فتح کر چکا تھا مگر راجپوتانہ کی تسخیر ابھی باقی تھی ۔ راجپوتوں کا سردار رانا پرتاپ سنگھ مغلوں سے شکست کھانے کے بعد اپنے بال بچوں کے ساتھ جنگلوں میں روپوش تھا ۔ اسی فوج میں ایک نہایت بہادر اور جری راجپوت سردار رگھوپت سنگھ بھی تھا، جس کی بہادری کے قصے مغل فوجوں میں مشہور تھے اور اکبر کے سپاہی اسے پکڑنے کی مسلسل کوششوں میں ناکام رہتے تھے ۔
رگھوپت سنگھ کی ایک بیوی اور ایک اکلوتا بیٹا تھا ۔ جب رگھوپت لڑائی کے لیے نکلا تو اس کا بیٹا سخت بیمار تھا، مگر اس نے اپنے فرض کو مقدم رکھا ۔ ایک دن جب اسے خبر ملی کہ اس کا بیٹا زندگی کی آخری گھڑیاں گن رہا ہے تو وہ مامتا اور محبت سے مجبور ہو کر چھپتے چھپاتے اپنے گھر پہنچا ۔
اکبر نے رگھوپت کو پکڑنے کے لیے اس کے گھر پر سخت پہرہ بٹھا رکھا تھا ۔ جیسے ہی رگھوپت گھر کے دروازے پر پہنچا، مغل پہرے دار نے اسے روک لیا ۔ رگھوپت نے پہرے دار سے التجا کی کہ اس کا بیٹا مر رہا ہے، اسے صرف ایک بار اپنے بچے کو دیکھنے کی اجازت دی جائے، وہ وعدہ کرتا ہے کہ دیکھ کر فوراً واپس آ جائے گا اور خود کو سپاہی کے حوالے کر دے گا ۔ سپاہی اس کی بات پر یقین کر لیتا ہے اور اسے اندر جانے کی اجازت دے دیتا ہے ۔
گھر کے اندر رگھوپت کی بیوی اسے دیکھ کر بہت خوش ہوتی ہے اور اسے مشورہ دیتی ہے کہ وہ دوسرے دروازے سے نکل کر بھاگ جائے ۔ مگر رگھوپت سنگھ ایک سچا راجپوت تھا، اس نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ وہ پہرے دار کو اپنا "قول” (وعدہ) دے چکا ہے اور وہ جھوٹ نہیں بول سکتا ۔ وہ اپنے بیمار بیٹے کو دیکھ کر اور بیوی کو دلاسا دے کر واپس دروازے پر آ گیا اور پہرے دار سے کہا کہ اب وہ اسے گرفتار کر سکتا ہے ۔
پہرے دار رگھوپت کی سچائی اور دیانتداری سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے رگھوپت کو بھاگ جانے کا موقع دیا اور کہا کہ جب تم پر برا وقت آئے تو میری بھی مدد کرنا ۔ رگھوپت وہاں سے چلا گیا، مگر تھوڑی ہی دیر بعد ایک مغل افسر وہاں آ پہنچا ۔ جب اسے پتہ چلا کہ پہرے دار نے رگھوپت کو جانے دیا ہے، تو اس نے پہرے دار کو گرفتار کر لیا ۔ رگھوپت جو ابھی قریب ہی تھا، یہ سن کر واپس آ گیا کہ اس کی وجہ سے ایک بے گناہ سپاہی مصیبت میں ہے ۔ اس نے خود کو مغل افسر کے حوالے کر دیا تاکہ پہرے دار بچ سکے ۔
اگلے دن جب دونوں (رگھوپت اور پہرے دار) کو قتل کرنے کے لیے میدان میں لایا گیا، تو وہاں شہنشاہ اکبر خود پہنچ گیا ۔ اکبر نے جب رگھوپت کی بہادری، سچائی اور پہرے دار کی انسانی ہمدردی کا واقعہ سنا تو اس کا دل پگھل گیا ۔ اس نے کہا کہ اسے ایسے ہی بہادر سپاہیوں کی ضرورت ہے جو بادشاہ سے زیادہ خدا سے ڈرتے ہوں ۔ اکبر نے ان دونوں کا قصور معاف کر دیا اور رگھوپت کی بہادری کی تعریف کی ۔ رگھوپت اکبر کی اس دریادلی سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے اکبر کے قدموں میں گر کر عہد کیا کہ وہ اب کبھی اکبر کے خلاف تلوار نہیں اٹھائے گا۔
نتیجہ
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان کو اپنے وعدے کا پکا ہونا چاہیے کیونکہ سچے اور وعدے کے پابند لوگوں کی خدا ہمیشہ مدد کرتا ہے اور انہیں دنیا میں بھی عزت ملتی ہے۔
کردار نگاری
- رگھوپت سنگھ: کہانی کا مرکزی کردار، ایک نہایت بہادر، جری اور سچا راجپوت سردار جو اپنی زبان (قول) کا پکا ہے۔
- شہنشاہ اکبر: مغلوں کا مشہور بادشاہ، جو کہانی کے آخر میں اپنی فراخ دلی اور انصاف پسندی کا ثبوت دیتا ہے۔
- مغل پہرے دار: ایک رحم دل سپاہی جو رگھوپت کی سچائی پر بھروسہ کر کے اسے گھر جانے کی اجازت دیتا ہے اور بعد میں اسے بھاگ جانے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
- رگھوپت کی بیوی: ایک وفادار خاتون جو اپنے شوہر کی جان بچانے کے لیے اسے فرار ہونے کا مشورہ دیتی ہے۔
- رگھوپت کا بیٹا: رگھوپت کا اکلوتا بیٹا جس کی سخت بیماری کہانی میں اہم موڑ لاتی ہے ۔
- رانا پرتاپ سنگھ: راجپوتوں کا سردار جو مغلوں سے شکست کے بعد جنگلوں میں روپوش تھا۔
- مغل افسر: ایک سخت گیر اہلکار جو پہرے دار کو غفلت کے جرم میں گرفتار کر کے قتل کا حکم دیتا ہے ۔
معروضی سوالات (MCQs)
سوال: قول کا پاس کا مرکزی کردار کون ہے؟
A) رانا پرتاپ
B) رگھوپت سنگھ ✅
C) اکبر
D) مغل افسر
سوال: رگھوپت سنگھ نے کس سے وعدہ کیا تھا؟
A) اکبر سے
B) اپنی بیوی سے
C) مغل پہرے دار سے ✅
D) رانا پرتاپ سے
سوال: رگھوپت سنگھ گھر کیوں گیا تھا؟
A) جنگ چھوڑنے کے لیے
B) خزانہ لینے کے لیے
C) بیمار بیٹے کو دیکھنے کے لیے ✅
D) فرار ہونے کے لیے
سوال: مغل پہرے دار کی نمایاں خوبی کیا تھی؟
A) سخت مزاجی
B) بہادری
C) انسانی ہمدردی ✅
D) دولت مندی
سوال: اکبر نے آخر میں کیا کیا؟
A) سزا دی
B) جلاوطن کیا
C) معاف کر دیا ✅
D) قید کر دیا



