افسانہ (01) ٹھنڈا گوشت کا خلاصہ

سعادت حسن منٹو کا افسانہ : ٹھنڈا کا خلاصہ

افسانہ "ٹھنڈا گوشت” سعادت حسن منٹو کا افسانوی مجموعہ "ٹھنڈا گوشت” میں شامل پہلا افسانہ ہے۔ آپ اس خلاصہ کو پڑھنے کے بجائے سن بھی سکتے ہیں۔

اس افسانے کا آغاز اس جملے سے ہوتا ہے "ایشر سنگھ جوں ہی  ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوا ، کلونت   کور پلنگ پر سے اٹھی۔ اپنی تیز تیز  آنکھوں سے اس کی طرف گھور کے دیکھا اور دروازے کی چٹخنی بند کر دی۔ "۔

اوراس کا اختتام اس جملے پرہوتا ہے ” کلونت کور نے اپنا ہاتھ ایشر سنگھ کے ہاتھ پر رکھا، جو برف سے بھی زیادہ ٹھنڈا تھا۔ "۔

نچوڑ

سعادت حسن منٹو نے اس افسانے میں یہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ فسادات کے موقع پرانسان جذباتی ہوکر لوٹ مار ، عصمت دری اورقتل وغارت گری کا حصہ بن جاتا ہے پھر بھی وہ انسان رہتا ہے چنانچہ ایک واقعہ اس کے دل و دماغ پر ایسا اثر ڈالتا ہے کہ اس کی جنسی طاقت ختم ہوجاتی ہے اور نفسیاتی طور پر نامردہوجاتاہے، بالفاظ دیگربے حس ہوچکے معاشرے میں بھی انسانیت کی رمق باقی رہتی ہے۔ جیسا کہ فسادات میں لوٹ مار، عصمت دری، قتل و غارت گری میں پیش پیش رہنے والا ایشر سنگھ جب ایک لڑکی کوغلط ارادے سے اسے اٹھا کر لاتا ہے تو عین وقت پر دیکھتا ہے کہ وہ مر چکی ہے۔ اس شدید صدمے سے وہ اپنی مردانگی کھو بیٹھتا ہے۔

خلاصہ

اس افسانے میں ایشر سنگھ اور کلونت کور دونوں سکھ ہیں، کلونت کور ایشرسنگھ کی داشتہ ہے دونوں توانا و صحت مند ہیں، ایک دوسرے کےلیے موزوں ہیں اورجنسی طورپرمکمل ہیں،شہر میں فساد برپا ہونے پر سب کی طرح ایشرسنگھ نے بھی اس لوٹ میں حصہ لیا، قتل و غارت گری کی اور جو کچھ لوٹا کلونت کور کے حوالے کیا، لیکن اسی دوران کچھ دن ایشرسنگھ کے نہ آنے پر کلونت کور کواحساس ہوتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہےتو وہ سچ بات جاننے کی کوشش کرتی ہے اور وہ ایشر سنگھ سے پوچھتی ہے”اتنے دن تم کہاں رہے؟”، ایشرسنگھ ٹال مٹول کرتا ہے اور پھر کلونت کور کو جنسی عمل پر آمادہ کرنے لگتا ہے تاکہ وہ ذہن کو مبذول کرسکے، لیکن اس میں نفسیاتی طور پر ناکام ہوجاتاہےاور ہرممکن کوشش کرنے کے باوجود تیار نہیں کرپاتاہے، تب کلونت کور کو یقین ہو جاتا ہے کہ اس کہ تہہ میں کسی عورت کاہاتھ ہے تو وہ واہگوروجی کی قسم دے کر پوچھتی ہے: کیا اس کے پیچھے کسی عورت کا ہاتھ نہیں؟ایشرسنگھ اثبات (ہاں) میں سرہلاتا ہےتو وہ ایشر سنگھ پر حملہ کر دیتی ہے۔

ایشر سنگھ زخمی ہونےکے بعد کلونت کور کو بتاتا ہےکہ دراصل فسادات و لوٹ مار میں اس نے ایک گھر پر حملہ کیا اور وہاں سات لوگوں میں سے چھ کو مارڈالااورانہیں میں سے ایک خوبصورت لڑکی کو جنسی لذت حاصل کرنے کے لیے اٹھا لایا، مگر عین موقع پر پتا چلا کہ وہ لڑکی مرچکی ہے، ٹھنڈی لاش بنی چکی ہے، اس بات کا ایشر سنگھ پرایسا  نفسیاتی اثر ہوا کہ وہ جنسی عمل کی قدرت کھو بیٹھا، ایشر سنگھ یہ حادثہ بتاتے خود بھی ٹھنڈاپڑجاتا ہے۔

افسانے کے کردار

ایشر سنگھ

کلونت کور (نہال سنگھ کی بیٹی)

اہم اقتباس

’’لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا، اس رات تمہیں ہواکیا ۔۔۔؟ اچھے بھلے میرے ساتھ لیٹے تھے، مجھے تم نے وہ تمام گہنے پہنا رکھے تھے جو تم شہر سے لوٹ کر لائے تھے۔ میری بھپّیاں لے رہے تھے، پر جانے  ایک دم تمہیں کیا ہوا، اٹھے اور کپڑے پہن کر باہر نکل گئے۔‘‘

*****

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!