نظم مناجاتِ بیوہ : الطاف حسین حالی

آپ الطاف حسین حالی کی نظم “مناجاتِ بیوہ” پڑھنے کے بجائے سن بھی سکتے ہیں۔ کچھ مشکل الفاظ کے معانی نظم کے نیچے درج ہیں آپ وہاں دیکھ سکتے ہیں۔

نظم مناجاتِ بیوہ

الطاف حسین حالی

مناجاتِ بیوہ مولانا نے مثنوی “ھَادِمُ اللَّذَّاتُ”کے نام سے سب سے پہلی مرتبہ 1884ء میں شائع کی تھی، دس سے زیادہ زبانوں میں اب تک اِس کے ترجمے ہوچکے ہیں، موجودہ کتاب اُس نسخہ سے نقل کی گئی ہے جسے خود مولانا نے بہت کچھ ترمیم و تنسیخ کے بعد 1888ء میں تیسری دفعہ شائع کیا تھا۔ یہ عبارت ربیع الآخر 1356 مطابق جولائی 1937والی “حالی بک ڈپو پانی پت” کی ایڈیشن سے ماخوذ ہے جو 12 حصہ پر مشتمل ہے۔

(1)

 اے سب سے اوّل اور آخرجہاں تہاں حاضر اور ناظر
اے سب داناؤں سے داناسارے تواناؤں سے توانا
اے بالا، ہر بالاتر سےچاند سے، سورج سے، امبر سے
اے سمجھے بوجھے بن سوجھےجانے پہچانے بن بوجھے
سب سے انوکھے سب سے نرالےآنکھ سے اوجھل دل کے اجالے
اے اندھوں کی آنکھ کے تارےاے لنگڑے لولوں کے سہارے
ناتیوں سے چھوٹوں کے ناتی ساتھیوں سے بچھڑوں کے ساتھی
ناؤجہاں کی  ، کھینے والےدُکھ میں تسلّی دینے والے
جب، اب، تب، تجھ سا نہیں کوئیتجھ سے ہیں سب، تجھ سا نہیں کوئی
جُوت ہے تیری جَل اور تھَل میںباس ہے تیر ی پھول اور پھل میں
ہر دل میں تیرا بسیراتو پاس ، اور گھر دو ر ہے تیرا
راہ تیری دشوار اور سکڑینام ترا رہ گیر کی لکڑی
تو ہے ٹھکانا مسکینوں کاتو ہے سہارا غمگینوں کا
تو ہے اکیلوں کا رکھوالاتو ہے اندھیرے گھر کا اُجالا
لاگو اچھّے اور برے کاخواہاں کھوٹے اور کھرے کا
بید، نرا سے بیماروں کاگاہک مندے بازاروں کا
سوچ میں دل بہلانے والابپتا میں یاد آنے والا

الفاظ و معانی

امبر: آکاش، آسمان

ناتی: رشتہ دار

جوت:روشنی

باس: بو،مہک، نگہت

لاگو: پرسانِ حال

(2)

اے بے وارث گھروں کے وارث بے بازوبے پروں کے وارث
 بے آسوں کی آس ہے تو ہیجاگتے سوتے پاس ہے تو ہی
بس والے ہیں یا بے بس ہیںتو نہیں جن کا وہ بیکس ہیں
ساتھی جن کا دھیان ہے تیرادسرائت کی وہاں نہیں پروا
 دل میں ہے جن کے تیری بڑائیگنتے ہیں وہ پربت کو رائی
بیکس کا غم خوار ہے تو ہیبُری بنی کا یار ہے تو ہی
دُکھیا، دُکھی، یتیم اور بیواتیرے ہی ہاتھ ان سب کا ہے کھیوا
تو ہی ڈبوئے، توہی ترائےتو ہی یہ بیڑے پار لنگھائے
تو ہی مرض دے، توہی دوا دےتو ہی دوا دارو میں شفا دے
تو ہی پلائے زہر کے پیالےتو ہی پھرامرت زہر میں ڈالے
تو ہی دلوں میں آگ لگائےتو ہی دلوں کی لگی بجھائے
چمکارے چمکار کے مارےمارے مار کے پھر چمکارے
 پیار کا تیرے پوچھنا کیا ہےمار میں بھی اک تیرے مزا ہے

بس: زور، اختیار، رسوخ

بیکس:محتاج، غریب

لنگھانا: پار اُتارنا

لگی بجھانا: آرزو یا خواہش پوری کرنا

(3)

اے رحمت اور ہیبت والےشفقت اور دباغت والے
اے اٹکل اور دھیان سے باہرجان سے اور پہچان سے باہر
عقل سے کوئی پا نہیں سکتا بھید ترے حکموں میں ہیں کیا کیا
ایک کو تو نے شاد کیا ہےایک کے دل کو داغ دیاہے
اس سے نہ تیرا پیار کچھ ایسااس سے نہ تو بیزار کچھ ایسا
ہر دم تیری آن نئی ہےجب دیکھو تب شان نئی ہے
یہاں پچھوا ہے وہاں پروا ہےگھر گھر تیرا حکم نیا ہے
پھول کہیں کملائے ہوئے ہیںاور کہیں پھل آئے ہوئے ہیں
کھیتی ایک کی ہے لہراتیایک کا ہر دم خون سکھاتی
ایک پڑے ہیں دھن کو ڈبوئےایک ہیں گھوڑے بیچ کے سوئے
ایک نے جب سے ہوش سنبھالارنج سے اُس کو پڑا نہ پالا
ایک نے اس جنجال میں آکرچین نہ دیکھا آنکھ اُٹھا کر
مینہ کہیں دولت کا ہے برستاہے کوئی پانی تک کو ترستا
ایک کو مرنے تک نہیں دیتےایک اُکتا گیا لیتے لیتے
حال غرض دنیا کا یہی ہےغم پہلے، اور بعد خوشی ہے
رنج کا ہے دنیا کے گِلاکیاتحفہ یہی لے دے کے ہے یہاں کا
یہاں نہیں بنتی رنج سہے بنرنج نہیں سب ایک سے لیکن
ایک سے یہاں رنج ایک ہے بالاایک سے ہے درد ایک نرالا
گھاؤ ہے گو، ناسور کی صورتپر اسے کیا ناسور سے نسبت
تپ وہی دق کی شکل ہے لیکندق نہیں رہتی جان لیے بن
دق ہو وہ یا ناسور ہو، کچھ ہودے نہ خواب اُمید کسی کو
روز کا غم کیوں کر سہے کوئیآس نہ جب باقی رہے کوئی
تو ہی کر انصاف اے میرے مولاکون ہے جو بے آس ہے جیتا
گو کہ بہت بندے ہیں پر ارماںکم ہیں مگر مایوس ہیں جو یہاں
خواہ دکھی ہے، خواہ سُکھی ہے جو ہے اک اُمید اُس کو بندھی
کھیتیاں جن کی کھڑی ہیں سوکھیآس وہ باندھے بیٹھے ہیں مینہ کی
گھاٹا جن کی اساڑھی میں ہےساونی کی امید انہیں ہے
ڈوب چکی ہے جن کی آگیتیدیتی ہے ڈھارس اُن کو پچھیتی
ایک ہے اس امید پہ جیتااب ہوئی بیٹی، اب ہوا بیٹا
ایک کو جو اولاد ملی ہےاس کو امنگ اب شادیوں کی ہے
رنج ہے یا قسمت میں خوشی ہےکچھ ہے مگر اک آس بندھی ہے
غم نہیں ان کو گو غمگیں ہیںجو دل ناامید نہیں ہیں
کال میں کچھ سختی نہیں ایسیکال میں ہے جب آس سمیں کی
سہل ہے موجوں سے چھٹکاراجب کہ نظر آتا ہے کِنارا
پر نہیں اٹھ سکتی وہ مصیبتآئے گی جس کے بعد نہ راحت
شاد ہو اس رہ گیر کا کیا دلمرکے کٹے گی جس کی منزل
اُن اُجڑوں کو کل پڑے کیوں کرگھر نہ بسے گا جن کا جنم بھر
اُن بچھڑوں کا کیا ہے ٹھکاناجن کو نہ ملنے دے گا زمانا
اَب یہ بلا ٹلتی نہیں ٹالیمجھ پہ ہے جو تقدیر نے ڈالی
آئیں بہت دنیا میں بَہاریںعیش کی گھر گھر پڑیں پُکاریں
پڑے بہت باغوں میں جھولےڈھاک بہت جنگل میں پھولے
گئیں اور آئیں چاندنی چاندنی راتیںبرسیں کھلیں بہت برساتیں
پر نہ کھِلی، ہرگز نہ کھِلے گیوہ جو کلی مُرجھائی تھی دل کی
آس ہی کا یہاں نام ہے دنیاجب نہ رہی یہی تو رہا کیا
ایسے بدیسی کا نہیں غم کچھجس کو نہ ہوملنے کی قسم کچھ
رونا اُن بن باسیوں کا ہےدیس نکالا جن کو ملا ہے
حکم سے تیرے پر نہیں چاراکڑوی میٹھی سب ہے گوارا
زور ہے کیا پنّے کا ہوا پرچاہے جدھر جائے اُڑاکر
تنکا اک اور سات سمندرجائے کہاں موجوں سے نکل کر
قسمت ہی میں جب تھی جدائیپھر ٹلتی کس طرح یہ آئی
آج کی بگڑی ہو، تو بنے بھیازل کی بگڑی خاک بنے گی
تو جو چاہے، وہ نہیں ٹلتابندے کا یہاں بس نہیں چلتا
مارے، اور نہ دے تورونےتھپکے اور نہ دے تو سونے
ٹھیرے بَن آتی ہے، نہ بھاگےتیری زبردستی کے آگے
تجھ سے کہیں گر بھاگنا چاہیںبند ہیں چاروں کھونٹ کی راہیں
تو مارے اور خواہ نوازےپڑی ہوں میں تیرے دروازے
تجھی کو اپنا جانتی ہوں میںتجھ سے نہیں تو کس سے کہوں میں
ماں ہی سدا بچّے کو مارےاور بچّہ ماں ماں ہی پکارے

الفاظ و معانی

دباغت: زور، رعب، دباؤ

ناسور: ناقابل علاج زخم

آگیتی: پہلے بوئی ہوئی فصل

پچھیتی: بعد میں بوئی ہوئی فصل 

ڈھاک: درخت کا نام

(4)

اے مرے زور اور قدرت والےحِکمت اور حکومت والے
میں لونڈی تری دُکھیاریدروازے کے تیرے بھکاری
موت کی خواہاں ،جان کی دشمنجان پہ اپنی آپ اجیرن
اپنے پرائے کی دھتکاریمیکے اور سسرال پہ بھاری
سہہ کے بہت آزار چلی ہوںدنیا سے بیزار چلی ہوں
دل پر میرے داغ ہیں جتنےمنھ میں بول نہیں ہیں اتنے
دکھ دل کا کچھ کہہ نہیں سکتیاِ س کے سوا کچھ کہہ نہیں سکتی
تجھ پر ہے روشن سب دکھ دل کاتجھ سے حقیقت اپنی کہوں کیا
بیاہ کے،  دم پائی تھی نہ لینےلینے کے یاں پڑ گئے دینے
خوشی میں بھی سکھ پاس نہ آیاغم کے سوا کچھ راس نہ آیا
ایک خوشی نے غم یہ دکھائےایک ہنسی نے گل یہ کِھلائے
چین سے رہنے دیا نہ جی کوکر دیا ملیا میٹ خوشی کو
رُو نہیں سکتی ، تنگ ہوں یہاں تکاور رُوؤں تو رُوؤں کہاں تک
ہنس ہنس، دل بہلاؤں کیوں کراوسوں پیاس بجھاؤں کیوں کر
ایک کا کچھ جینا نہیں ہوتاایک،  نہ ہنستابھلا، نہ روتا
لیٹئے گر ، سونے کے بہانےپائنتی کَل ہے، اور نہ سرہانے
جاگئے، تو بھی ، بن نہیں پڑتیجاگنے کی آخر کوئی حد بھی
اَب کَل ہم کو پڑے گئی مرکرگور ہے سونی سیج سے بہتر
بات سے نفرت ، کام سے وحشت ٹوٹی آس، اور بجھی طبیعت
آبادی، جنگل کا نمونادنیاسونی، اور گھر سونا
دن ہیں بھیانک رات ڈراؤنییوں گزری یہ ساری جوانی
بہنیں، اور بہنلیاں میریساتھ کی تھی جو کھیلیاں میری
مل نہ سکیں جی کھول کے مجھ سےخوش نہ ہوئیں ہنس بول کے مجھ سے
جب آئیں رو دھوکے گئیں وہجب گئیں بے کَل ہوکے گئیں وہ
کوئی نہیں دل کا بہلاواآ نہیں چکتا میرا بلاوا
آٹھ پہر کا ہے یہ جَلاپاکاٹوں گی کس طرح رنڈاپا​
تھک گئی میں دکھ سہتے سہتےتھم گئے آنسو بہتے بہتے
آگ کھلی دل کی نہ کسی پرگھل گئی جان اندر ہی اندر
دیکھ کے چپ جانا نہ کسی نےجان کو پھونکا دل کی لگی نے
دبی تھی بھوبل میں چنگاری لی نہ کسی نے خبر ہماری
قوم میں وہ خوشیاں بیاہوں کیشہر میں وہ دھومیں ساہوں کی
تہواروں کا آئے دن آنااور سب کا تہوار منانا
وہ چیت اور پھاگن کی ہوائیںوہ ساون بھادوں کی گھٹائیں
وہ گرمی کی چاندنی راتیںوہ ارمان بھری برساتیں
کس سے کہوں کس طور سے کاٹیںخیر، کٹیں جس طور سے کاٹیں
چاؤ کے اور خوشیوں کے سمیں سبآتے ہیں خوش، کل جان کو ہو جب
رنج میں ہیں سامان خوشی کےاور جلانے والے جی کے
گھر برکھا، اور پیا بدیسیآئیو برکھا، کہیں نہ ایسی
دن یہ جوانی کے، کٹے ایسےباغ میں پنچھی قید ہو جیسے
رُت گئی ساری سر ٹکراتےاڑ نہ سکے، پر ہوتے ساتے
کسی نے ہوگی کچھ کل پائی
ہوگی کسی نے کچھ کل پائی
مجھے تو شادی راس نہ آئی
آس بندھی لیکن نہ ملا کچھپھول آیا اور پھل نہ لگا کچھ
رہ گیا دے کر چاند دکھائیچاند ہوا، پر عید نہ آئی
رُت بدلی، پر ہوئی نہ برکھابادل گرجا اور نہ برسا
پھل کی خاطر برچھی کھائیپھل نہ ملا، اور جان گنوائی
ریت میں ذرّے دیکھ چمکتےدوڑ پڑی میں جھیل سمجھ کے
چاروں کھونٹ نظر دوڑائیپر پانی کی بوند نہ پائی

الفاظ و معانی

دکھیاری:دکھی ، آفت زدہ

(5)

اے دین اور دنیا کے مالکراجا اور پرجا کے مالک
بے پر اور پر دار کے والیاے سارے سنسار کے والی
پورب، پچھم، دکھن، اتربخشش تیری عام ہے گھر گھر
پیاؤ لگی ہے سب کے لیے یہاںخواہ ہوں ہندو، خواہ مسلماں
ہو نہ اگر قسمت نے کمی کیکی نہیں بندی تو نے کسی کی
چیونٹا، کیڑا، مچھر، بُھنگاکچھوا، مینڈک، سیپ اور گھونگا
سارے  پنچھی اور پکھیرومور، پپیہا، سارس، پیرو
بھیڑ اور بکری، شیر اور چیتےتیرے جِلائے ہیں جیتے
کُھلاہے سب پر در رحمت کا
سب پہ کھلا ہے در رحمت کا
برس رہا ہے مینھ نعمت کا
خاک سے تونے بیج اگائےپھر پودے پروان چڑھائے
سیپ کو بخشی تو نے دولتاور بخشا مکّھی کو امرت
لکڑی میں پھل تو نے لگائےاور کوڑی پر پھول کھلائے
ہیرا بخشا کان کو تونےمشک دیا حیوان کو تو نے
جگنو کو بجلی کی چمک دیذرے کو کندن کی دمک دی
دین سے تیری اے مرےمولیٰسب ہیں نہال ادنیٰ اور اعلیٰ
عام ہے سب پر تیری رحمتہیں محروم مگر بدقسمت
پیڑ ہوں چھوٹے یا کہ بڑے یہاںفیض ہوا کا سب پہ ہے یکساں
جلتے ہیں جو ہیں جلنے والےپھلتے ہیں جو ہیں پھلنے والے
جب اپنی ہی زمیں ہو کَلّرپھر الزام نہیں کچھ مینہ پر
سب کو ترے انعام تھے شاملمیں ہی نہ تھی انعام کے قابل
گر کچھ آتا بانٹ میں میریسب کچھ تھا سرکار میں تیری
تھی نہ کمی کچھ تیرے گھر میںنون کو ترسی میں سانبھر میں
راجا کے گھر پلی ہوں بھوکیسدا برت سے چلی ہوں بھوکی
پہروں سوچتی ہوں یہ جی میںآئی تھی کیوں میں اس نگری میں
ہونے سے میرے فائدہ کیا تھاکس لیے پیدا مجھ کو کیا تھا
آن کے آخر میں نے لیا کیامجھ کو مری قسمت نے دیا کیا
نین دیے اور کچھ نہ دکھایادانت دیے اور کچھ نہ چکھایا
جندڑی دی اور خوشی نہ بخشیدل بخشا دل لگی نہ بخشی
رہی اکیلی بھری سبھا میںپیاسی رہی بھری گنگا میں
چین سے جاگی اور نہ سوئیمیں نہ ہنسی جی بھر کے نہ روئی
آکے خوشی سی چیز نہ پائیجیسی آئی ویسی نہ آئی
کھایا تو کچھ مزا نہ آیاسوئی تو کچھ چین نہ پایا
پھول ہمیشہ آنکھ میں کھٹکےاور پھل سداگلے  میں اٹکے
ہو نہ سکی کچھ دل سے عبادتاور نہ جمی کاموں پہ طبیعت
کام سنوارا کوئی نہ یہاں کااور نہ کیا دھندا کوئی وہاں کا
کام آیا یہاں کوئی نہ میرےاور نہ میں کام آئی کسی کے
قسمت نے جب سے منہ موڑاآدمیوں کا ہوگیا توڑا
باپ اور بھائی، چچا ، بھتیجےسب رکھتی ہوں تیرے کرم سے
پر نہیں پاتی ایک بھی ایساجس کو ہو میری جان کی پروا
ناتیوں میں شفقت نہیں پاتیاپنوں میں اپنایت نہیں پاتی
گھر ہے یہ اک حیرت کا نموناسو گھر والے، اور گھر سونا
جس نے خدا کا خوف کیا کچھآکے کبھی یہاں پوچھ لیا کچھ
سو یہ خوشی کا دل کی ہے سودازور کسی پر اب نہیں اپنا
اس میں شکایت کیا پرائیاپنی ہی قسمت کی ہے برائی
چین گر اپنی بانٹ میں آتاکیوں تو عورت ذات بناتا
کیوں پڑتے ہم غیر کے پالےکیوں ہوتے اوروں کے حوالے
آٹھ پہر کیوں دکھ یہ اٹھاتےجیتے ہی جی کیوں ہم مرجاتے
دکھ میں نہیں یہاں کوئی کسی کاباپ نہ ماں، بھائی نہ بھتیجا
سچ یہ کسی سائیں کی صدا تھیسکھ سمپت کا ہر کوئی ساتھی

الفاظ و معانی

جندڑی: جان کی تصغیر

(6)

تیرے سوا اے رحم کے بانیکون سنے یہ رام کہانی
ایک کہانی ہو تو کہوں میںایک مصیبت ہو تو سہوں میں
حال نہ ہو دشمن کا ایسامیرا نازک حال ہے جیسا
کوئی نہیں لاگو ، اب میراباپ نہ بھائی، ساس نہ سسرا
آنکھ میں ایک اک کی ہوں کھٹکتیپر اپنے بس مَر نہیں سکتی
ماں اور باپ، عزیز اور پیارےبے کل ہیں جینے سے ہمارے
روکے پلک نم کرنہیں سکتیہنس کے غلط غم کر نہیں سکتی
روئیے تو سب روتے ہیں گھر کےرونے نہیں دیتے جی بھر کے
ہنسئیےتو ہنسنا عیب ہے ہم کوکیوں کہ الٰہی کاٹئے غم کو
گر سسرال میں جاتی ہوں میںنحس قدم کہلاتی ہوں میں
میکے میں جس وقت ہوں آتیرو رو کر ہوں سب کو رلاتی
جب سے یہ دن قسمت نے دکھائےتکتے ہیں جو ہیں اپنے پرائے
میرا سدا ہنسنا اور رونابیٹھنا، اٹھنا، جاگنا، سونا
سوچ میں میرے سارا گھر ہےمیرے چلن پر سب کی نظر ہے
آپ کو ہوں ہر وقت مٹاتیپہنتی اچھا میں ہوں نہ کھاتی
جانتی ہوں، نازک ہے زمانابات ہے اک یہاں عیب لگانا
موتی کی سی آب ہے عزتجاکے نہیں آتی پھر حرمت
مہندی میں نے لگانی چھوڑیپٹی میں نے جمانی چھوڑی
کپڑے مہینوں میں ہوں بدلتیعطر نہیں میں بھول کے ملتی
سرمہ نہیں آنکھوں میں لگاتیبال نہیں برسوں گندھواتی
دو دو چاند نہیں سر دھوتیاٹھواڑوں کنگھی نہیں ہوتی
کان میں پتّے ہاتھ میں کنگنپہن چکی سب، جب تھی سہاگن
پہنچیوں کا ارمان نہیں ابچوڑیوں کا کچھ دھیان نہیں اب
اڑ گئیں سب دل کی وہ ترنگیںچاؤ رہے باقی، نہ اُمنگیں
آپ کو یہاں تک میں نے مٹایاپر دنیا کو صبر نہ آیا
وہم نے ہے ایک ایک کو گھیراجب دیکھو تب ذکر ہے میرا
کھینچ چکا ہے میرا مقدّرداغ بدی کا میری جبین پر
مل جاوں گر خاک میں بھی میںبچ نہ سکوں طعنوں سے کبھی میں
سچ اگلے لوگوں نے کہا ہےبد اچّھا، بدنام برا ہے
جینے سے گھبراگئی ہوں میںاِس دم سے تنگ آگئی ہوں میں
یوں  نہ بری اس جان پہ بنتیماں مجھ کو اے کاش ! نہ جنتی
رہتے ہم انجان بلا سےدنیا مجھ سے میں دنیا سے
اے بے آسروں کے رکھویّااے ڈوبے بیڑوں کے کھویّا
کیجیو میری کشتی بانیآ پہنچا ہے ڈُباؤ پانی
اب تیرےگی تِرائی تیریڈوبی ناؤ، دھائی تیری

(7)

اے امبر کے چمکتے تارواے گھر کے در اور دیوارو
اے جانی پہچانی راتوتنہائی کی ڈرانی راتو
اے نیک اور بد کے دربانودیکھتی آنکھو! سنتے کانو
ایک دن اس گندی دنیا سےجانا ہے مالک کے آگے
بوجھ  ہیں وہاں سب تلنے والےپترے سب کے ہیں کُھلنے والے
جب وہاں پوچھ ہو میری تیریتم سب دیجو، گواہی میری
میں نیکی کا دم نہیں بھرتیپاکی کا دعویٰ نہیں کرتی
کیوں کہ خطا سے بچ سکتا ہےجس نے کچّادودھ پیا ہے
خواہ ولی ہو، خواہ رشی ہواس سے رہائی نہیں کسی کو
گنوں اگر میں اپنی خطائیںہے یہ یقین، گنتی میں نہ آئیں
پر یہ خداسے ڈر کے ہوں کہتیمنہ پہ یہ آئے بِن نہیں رہتی
خواہ بری تھی، خواہ بھلی میںبات سے اپنی نہیں ٹلی میں
پڑی تھی جس بے دیدے کے پالےہوگئی تھی جس بیری کے حوالے
نام پہ دھونی اُس کے رما کرآن کو رکھا جان گنواکر
ساتھ نہ قوم اور دیس کا چھوڑااور نہ خدا کے عہد کو توڑا
آے اگر دنیا کو نہ باوراب مجھے کچھ دنیا کا نہیں ڈر
میرا نگہبان، اور رکھوالاسب سے بڑا ہے جاننے والا

(8)

اے ایمان کے رکھنے والےاے نیت کے پرکھنے والے
میں نہیں رکھتی کام کسی سےچاہتی ہوں انصاف تجھی سے
حکم پہ چلتی تیرے اگر میںچین سے کرتی عمر بسر میں
مانتی گر میں عقل کا کہنامجھ کو نہ پڑتا رنج یہ سہنا
کچھ نہ عدالت کا تھا ڈراوااور نہ مذہب کا اٹکاوا
ہے دستور یہی دنیا کاآپ سے اچھا نام خدا کا
لیکن ہٹ پیاروں کی یہی تھیمرضی غم خواروں کی یہی تھی
اپنے بڑوں کی رِیت نہ چھوٹےقوم کی باندھی رسم نہ ٹوٹے
ہو نہ کسی سے ہم کو ندامتناک رہے کنبے میں سلامت
جان کسی کی جائے تو جائےآن میں اپنی فرق نہ آئے
دم پہ بنے جو، اس کو سہوں میںلوٹتی انگاروں پہ رہوں میں
درد نہ ہو دل کا کہیں ظاہرچپکے ہی چپکے کام ہو آخر
مرمٹوں اور کچھ منہ پہ نہ لاؤںجل بجھوں اور اف کرنے نہ پاؤں
گھٹ گھٹ کر ، دم اپنا گنوا دوںجل جل کر آبے کو بجھا دوں
تجھ پہ ہے روشن اے مرے مولاوقت یہ کیسا مجھ پہ پڑا تھا
بیڑا تھا منجدھار میں میراچار طرف چھایا تھا اندھیرا
تھا ہ تھی پانی کی نہ کناراتیرے سوا تھا کچھ نہ سہارا
شرم ادھر دنیا کی مجھے تھیفکر ادھر عقبیٰ کی مجھے تھی
روکنے تھے حملے مجھے دِل کےتھا مجھے جینا خاک میں مل کے
نفس سے تھی دن رات لڑائیدور تھی نیکی ، پاس برائی
جان تھی میری آن کی دشمنآن تھی میری جان کی دشمن
آن سنبھالے جان تھی جاتیجان بچائے آن تھی جاتی
طے کرنے تھے سات سمندرحکم یہ تھا ہاں پاؤں نہ ہوتر
کوئیلا چاروں کھونٹ تھا پھیلاحکم یہ تھا پلّا نہ ہو میلا
پیاس تھی ، لُو تھی، اور تھی کھرسااور دریا سے گذرنا پیاسا
دھوپ کی تھی پالے پہ چڑھائیآگ اور گندک کی تھی لڑائی
درد اپنا کس سے کہوں کیا تھاآکے پہاڑ اک مجھ پہ گرا تھا
نفس سے ڈر تھا مجھ کو بدی کااس لیے ہر دم تھی یہ تمنّا
مرجاؤں یا زندہ رہوں میںتجھ سے مگر شرمندہ نہ ہوں میں
جان بلا سے جائے تو جائےپر کہیں دینی بات نہ آئے
کی نہ کسی نے میری خوش کومیں نے کیا نا خوش نہ کسی کو
بات کسی کی میں نے نہ ٹالیاپنے ہی دم پر سب کی بلا لی
جان نہ سمجھا جان کو اپنیدیا نہ جانے آن کو اپنی
قول پہ اپنے جمی رہی میںہوئی نہ ڈانوا ڈول کبھی میں
دل تھاما آبے کو سنبھالاسانس تلک منہ سے نہ نکالا
اور نہ اگر میں کرتی ایساکیوں کر کرتی اور کرتی کیا
بن نہیں آتی دیس سے بھاگےکچھ نہیں چلتی دیس کے آگے
کہہ گئی سچ اک راجکماریلاچاری پر بت سے بھاری

(9)

اے اچھے اور برے کے بھیدیکھوٹے کے اورکھرے کے بھیدی
چھپی ڈھکی کے کھولنے والےبری بھلی کے تولنے والے
بھید دلوں کے جاننے والےپاپ اور پن کے چھاننے والے
عیب اور گن سب تجھ پہ ہیں روشنپاپ اور پن سب تجھ پہ ہیں روشن
عیب نہ اپنا تجھ کو جتاناہے دائی سے پیٹ چھپانا
میں نہیں آخر پاک بدی سےبنی ہوں پانی اور مٹی سے
تو نے بنایا تھا مجھے جیساچاہیے تھا ہونا مجھے ویسا
بس ہمیں جتنا تو نے دیا ہےاس سے سوا قدرت ہمیں کیا ہے
کان اور آنکھیں، ہاتھ اور بازوجن جن پر تھا، یاں مجھے قابو
سب کو بدی سے میں نے بچایاسب کو خودی سے میں نے ہٹایا
اُٹھتے بیٹھتے روکا سب کوسوتے جاگتے ٹوکا سب کو
ہاتھ کو ہلنے دیا نہ بے جاپاؤں کو چلنے دیا نہ ٹیڑھا
آنکھ کو ہلنے دیا نہ بیجاپاؤں کو چلنے دیا نہ ٹیڑھا
آنکھ کو اٹھنے دیا نہ اتناجس سے کہ پیدا ہو کوئی فتنا
کان کو رکھا دور بلا سےاوپری آوازوں کی ہوا سے
روک کے یوں اور تھام کے آپامیں نے کاٹا اپنا رنڈاپا​
ایک نہ سنبھلا میرا سنبھالاتھا بےتاب جو اندر والا
حال کروں میں دل کا بیاں کیاحال ہے دل کا تجھ سے نہاں کیا
دھوپ تھی تیز اور ریت تھی تپتیمچھلی تھی ایک اس میں تڑپتی
جان نہ مچھلی کی تھی نکلتیاور نہ سر سے دھوپ تھی ٹلتی​
گو دم بھر اس دل کی لگی نےٹھنڈا پانی دیا نہ پینے
تو ہے مگر اس بات کا دانامیں نے کہا دل کا نہیں مانا​
زور تھا میرا دل پہ جہاں تکمیں نے سنبھالا دل کو وہاں تک
تھامنا دل کا کام تھا میرااور تھامنا کام تھا تیرا
پکڑے اگر تو دل کی خطاپرمیں راضی ہوں تیری رضا پر
رکھ تکلیف میں، یا راحت میںڈال جہنم، یا جنّت میں
اب نہ مجھے جنّت کی تمنّااور نہ خطرہ کچھ دوزخ کا
آئے گی جنّت راس کب اس کوجلنے میں جس کی عمر کٹی ہو
ڈر دوزخ کا پھر اُسے کیا ہےجس نے رنڈاپا جھیل لیا ہے
پر تجھ سے اک عرض ہے میریرد نہ ہو گر، درگاہ میں تیری
جو قسمت نے مجھ کو دکھایاخوش نا خوش سب میں نے اٹھایا
مجھ ناچیز کی ہے کیا طاقتجو منہ پر کچھ لاؤں شکایت
عمر بہت سی کاٹ چکی ہوںیہ دن بھی کٹ جائیں گے جوں توں
اپنے لیے کچھ کہہ نہیں سکتیپر یہ کہے بِن رہ نہیں سکتی
میں ہی اکیلی نہیں ہوں دُکھیاپڑی ہے لاکھوں پر یہی بپتا
بس کے بہت یہاں اجڑ گئے گھربن کے ہزاروں بگڑ گئے گھر
جلیں کروڑوں اِسی لپٹ میںپدموں پھکیں اسی مرگھٹ میں
بالیاں اک اک ذات کی لاکھوںبیاہیاں اک اک رات کی لاکھوں
ہوگئیں آخر اسی الم میںکاٹ گئیں عمریں اسی غم میں
سینکڑوں بے چاری مظلومیںبھولی، نادانیں، معصومیں
بیاہ سے انجان اور منگنی سےبنے سے واقف اور نہ بنی سے
ماؤں سے جو منہ دھلواتی تھیںرو رو مانگ کے جو کھاتی تھیں
تھپک تھپک تھے جن کو سلاتےگھرک گھرک تھے جن کو کھلاتے
جن کو نہ شادی کی تھی تمنااور نہ منگنی کا تھا تقاضا
جن کو نہ آپے کی تھی خبر کچھاور نہ رنڈاپے کی تھی خبر کچھ
بھلی سے واقف تھیں نہ بری سےہدا سے مطلب تھا نہ بَری سے
رخصت ، چالے اور چوتھی کوکھیل تماشا جانتی تھیں جو
ہوش جنھیں تھا رات نہ دن کاگڑیوں کا سا بیاہ تھا جن کا
دو دو دن رہ رہ کے سہاگنجنم جنم کو ہوئی بروگن
دولہا نے جانا نہ دلہن کودلہن نے پہچانا نہ سجن کو
دل، نہ طبیعت ، شوق نہ چاہتمفت لگالی بیاہ کی تہمت
شرط سے پہلے بازی ہاریبیاہ ہوا اور رہی کنواری
سیلانی جب باغ میں آئےپھول ابھی تھے کھلنے نہ پائے
پھول کھلے جس وقت چمن میںجا سوئے سیلانی بن میں
پیت نہ تھی جب پایا پیتمجب ہوئی پیت گنوایا پیتم
ہوش سے پہلے ہوئی میں بیواکب پہنچے گا پار یہ کھیوا
خیر سے بچپن کا ہے رنڈاپادور پڑا ہے ابھی بڑھاپا
عمر ہے منزل تک پہنچانیکاٹنی ہے بھر پورجوانی
شام کے مردے کا ہے یہ روناساری رات نہیں اب سونا
آئی نہیں دنیا میں الٰہیایسی کسی بیڑے پہ تباہی
آئیں بلکتی، گئیں سسکتیرہیں ترستی اور پھڑکتی
کوئی نہیں جو غور کرے ابنبض پہ ان کی ہاتھ دھرے اب
دکھ اُن کا آئے اور پوچھےروگ ان کا سمجھے اور بوجھے
چوٹ نہ جن کے جی کو لگی ہووہ کیا جانیں دل کی لگی کو​
بے دردوں سے پڑا ہے پالاتو ہی اب ان کا ہے رکھوالا
اپنی بیتی ہے یہ کہانیاب یہ دھان رہے بن پانی

(10)

اے غمخوار ہر اک بیکس کےحامی ہر عاجز بے بس کے
ہے اپنے عاجز بندوں پرپیار ترا، ماں باپ سے بڑھ کر
جس نے لگی میں تجھ کو پکاراسامنے تیرے ہاتھ پسارا
پھرا نہ خالی اس چوکھٹ سےگیا نہ پیاسا اس پنگھٹ سے
کس کو زمانے نے ہے ستایاتو نہیں جس کے آڑے آیا
اُجڑے کھیڑے تو نے بسائےڈوبے بیڑے تو نے تِرائے
مظلوموں کی داد کو پہنچاقیدیوں کی فریادکو پہنچا
بنجر ملک آباد کرائےاور بردے آزاد کرائے
عام تیری رحمت جب ٹھیریدور ہے پھر رحمت سے تیری
داد ہر اک مظلوم کی دے تواور سانڈوں کی خبر نہ لے تو
عورت ذات کا تنہا جیناہر دم خون جگر کا پینا
گھر بسنے کی آس نہ رہنیساری عمر جدائی سہنی
ہے وہ بلا، جو سہی نہ جائےبپتا ہے جو کہی نہ جائے
قدر اس کی، یا تو پہچانےیا جس پر گذری ہو وہ جانے

(11)

اے خاوند! خداوندوں کےمالک خاوند اور بندوں کے
واسطہ اپنی خاوندی کاصدقہ اپنی خداوندی کا
تو یہ کسی کو داغ نہ دیجوکسی کو بے وارث مت کیجو
کیجیو جو کچھ تیری خوشی ہورانڈ مگر کیجو نہ کسی کو
مسند، تکیہ، عزت، حرمتنوکر، چاکر، دولت، حشمت
چاندی، سونا، نقدی، غلّاگہنا، پاتا، توم اور چَھلّا
سائیں بن جو چیزہے گھر میںخاک ہے سب عورت کی نظر میں
دل کی خوشی اک آس پہ تھی سبسو وہ ہزاروں کوس گئی اب
پھول کچھ اب کانٹوں سے نہیں کمجنّت بھی ہوتو ہے جہنّم
باغ نظر میں اُس کی خِزاںآنکھ میں تاریک اس کی جہاں ہے
عیش ہے اس کے واسطے ماتمعید ہے اس کے حق میں محرّم
جس دکھیا پر پڑے یہ بپتاکر اسے تو پیوند زمیں کا
یا عورت کو پہلے بُلالےیا دونو کو ساتھ اُٹھالے
یا یہ ننادیں ریت جہاں کیجس سے گئی پرتیت یہاں کی
جس سے ہوئے دل سیکڑوں بسملجس نے ہزاروں کیے ہیں گھائل
جس نے کلیجے آگ میں بھونےجس نے بھرے گھر کردیے سونے
خوف دِلوں سے کھودیے جس نےشرم سے دیدے دھو دیے جس نے
قوم کی جس بن آن ہے جاتیدیس کی جس پر جان ہے جاتی
جس نے کیے دل رحم سے خالیریت ہے جو دنیا سے نرالی
قوم سے تو یہ ریت چُھڑا دےبندیوں کی بیڑی یہ تڑا دے
سہل اور مشکل تجھ کو ہے یکساںہم کو ہے مشکل تجھ کو ہے آساں
رنج اور دکھ قبضے میں ہے تیرےچین اور سکھ قبضے میں ہے تیرے
ہلتے ہیں پتے تیرے ہلائےکھلتے ہیں غنچے تیرے کھلائے
مٹھی میں ہیں تیری ہوائیںقابو میں ہیں تیرے گھٹائیں
تجھ سے ہے دریاؤں کی روانیتیرے بہائے بہتے ہیں پانی
جھیل سمندر پربت رائیکہنے میں ہے سب تیرے خدائی
ناتہ، رشتہ، نسبت، شادیسوگ، رنڈاپا، قید، آزادی
قوم  کی ریتیں، دیس کی رسمیںکیا ہے وہ جو تیرے نہیں بس میں
کام کوئی مشکل نہیں تجھ کوایک یہ کیا، گر تیری خوشی ہو
سوت لگے پتھر سے نکلنےناؤ لگے ریتی میں چلنے

(12)

اے عزت اور عظمت والےرحمت اور عدالت والے
دکھڑا تجھ سے یہ کہنا دل کااک بشریت کا ہے تقاضا
دل پہ ہے جب برچھی کوئی چلتیآہ، کلیجے سے ہے نکلتی
جب کوئی دکھ یاد آجاتا ہےجی بے ساختہ بھرآتا ہے
ورنہ ہے اس دنیا میں دھرا کیاخواب کا سا اک ہے یہ تماشا
دکھ سے ہے یہاں کے گھبرانا کیاسکھ پہ ہے یہاں کے اترانا کیا
عیش کی یہاں مہلت ہے، نہ غم کیسب یہ نمائش ہے کوئی دم کی
آنی جانی چیز ہیں خوشیاںچلتی پھرتی چھاؤں ہیں ارماں
منگنی، بیاہ ، برات اور رخصتمیل ملاپ، سہاگ اور سنگت
ہیں دو دن کے سب بہلاوےآگے چل کرہیں چل کر ہیں پچھتاوے
ریت کی سی دیوار ہے دنیااوچھے کا سا پیار ہے دنیا
بجلی جیسی چمک ہے اس کیپل دو پل کی جھمک ہے اسی
پانی کا سا ہے یہ پچاراجگنو کا سا ہے چمکارا
آج ہے یہاں جنگل میں منگلکل سنسان پڑا ہے جنگل
آج ہے میلا ہر دم دونااور کل گاؤں پڑا ہے سونا
آج ہے رہنے کی تیاریاور کل ہے چلنے کی باری
آج ہے پانا کل ہے کھوناآج ہے ہنسنا کل ہے رونا
کبھی ہے بادھا، کبھی ہےکبھی جوار اور کبھی ہے بھاٹا
ہار کبھی اور جیت کبھی ہےاس نگری کی ریت یہی ہے
ساتھ سہاگ اور سوگ ہے یاں کاناؤ کا سا سنجوگ ہے یاں کا
خوشی میں غم یہاں ملا ہوا ہےامرت میں بس گھلا ہوا ہے
سیر کو جو اس باغ میں آئیںدیکھ کے پھل کو ہاتھ لگائیں
یہاں ہر پھل اندراین کا ہےدیکھنے چکھنے میں برا ہے
عیش جنہوں نے سدا اڑائےوہ بھی ہیں آخر کو پچھتائے
رہے ہیں گر کر چڑھے ہیں جو یہاںگھٹے ہی آخر بڑھے ہیں جو یہاں
جو بیاہے وہ ہیں پچھتاتےبن بیاہے ہیں بیاہ مناتے
اس پھل کا ہے یہی پریکھاجو نہیں چکّھا وہی ہے میٹھا
خوش نہ ہوں خوشیوں کے متوالےہیں یہ نشے سب اترنے والے
غم کی گھٹا آتی ہے گرجتیگھڑی میں یہاں گھڑیال ہے بجتی
رہ گیروں کا بندھا ہے تانتاایک آتا ہے ایک ہے جاتا
جو آئے ہیں، ان کو ہے جاناجو گئے ان کو پھر نہیں آنا
خواہ ہو رانڈ، اور خواہ سہاگنموت ہے سب کی جان کی دشمن
ایک ہے گو آج ایک سے بہترمرگئیں جب دونوہیں برابر
اور کوئی گر انصاف سے دیکھےمرکے اسے نسبت نہیں اس سے
عیش گئی وہ چھوڑ کے یہاں کےقید گئی یہ کاٹ کے یہاں سے
اِس کو پڑی کل، اُس کی گئی کلیہ گئی ہلکی، وہ گئی بوجھل
اُس کا دل اس دنیا سے اُٹھاناہے ناخن سے گوشت چھٹانا
جان یہ آساں دیتی ہے ایسیبو ہے نکلتی پھول سے جیسی
غم ہو غرض، یا عیش ہو، کچھ ہوہے ہمیں جانا چھوڑ کے سب کو
تیرے سوا یاں اے مرے مولاکوئی رہا ہے اور نہ رہے گا
پڑی تھی سونی جب یہ نگریاتیری ہی تھی یہاں کھڑی ایڑیا
پھر یہ نگریا اُجڑ کے ساریتیری ہی رہ جائے گی اٹاری
تھا نہ کچھ آگے تیرے سوا یہاںاور رہے گا کچھ نہ سدا یہاں
یہاں کوئی دن دُکھ پایا تو کیااور کوئی دم سُکھ پایا تو کیا
اب نہ مجھے کچھ رنج کی پروااور نہ آسائش کی تمنّا
چاہتی ہوں اک تیری محبتاور نہیں رکھتی کوئی حاجت
گھونٹ اک ایسا مجھ کو پلا دےتیرے سوا جو سب کو بھلا دے
آئے کسی کا دھیان نہ جی میںکوئی رہے ارمان نہ جی میں
فکر ہو اچھی کی، نہ بری کیتیرے سوا دھن ہو نہ کسی کی
کوئی جگہ اس دل میں نہ پائےیاد کوئی بھولے سے نہ آئے
سینہ یہ تجھ سے بھرا ہو سارامِیت سمائے اس میں نہ پیارا
دل نے بہت یہاں مجھ کو ستایاموت کو برسوں مزا چکھایا
خواب میں دیکھ اک سانگ نرالاآگ میں جیتے جی مجھے ڈالا
میر اور اپنا چین گنوایاآپ جلا اور مجھ کو جلایا
اٹھ نہیں سکتے مجھ سے اب اک دمیہ دنیا کے ناشدنی غم
دل میں لگن بس اپنی لگا دےسارے غم اپنے غم میں کھپا دے
غیر کے رشتے توڑ دے سارےدل کے پھپولے پھوڑ دے سارے
جب مجھے تنہا کیا ہے پیداتو مجھے بندھوا کر نہ کسی کا
وہاں سے اکیلی آئی ہوں جیسیویسی ہی یہاں سے جاؤں اکیلی
ساتھ کوئی غم لے کے نہ جاؤںتیرے سوا کھودوں جسے پاؤں
دل نہ پھرے دنیا میں بھٹکتاکوئی رہے کانٹا نہ کھٹکتا
جی سے نشاں پیاروں کا مٹادوںپیار کے منہ کو آگ لگا دوں
تو ہی ہو دل میں توہی زباں پرمارکے جاؤں لات جہاں پر
پاؤں تجھے ایک اک کو گنواکر
خاک میں جاؤں سب کو ملا کر

*****

2 thoughts on “نظم مناجاتِ بیوہ : الطاف حسین حالی”

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Enable Notifications OK No thanks