افسانہ (02) معصوم بچہ

پیش خدمت ہے پریم چند کے مجموعہ "واردات” میں شامل دوسرا افسانہ "معصوم بچہ”۔ پڑھنے کے بجائے سن بھی سکتے ہیں۔

معصوم بچہ

معصوم بچہ

منشی پریم چند

(1)

گنگو کو لوگ برہمن کہتے ہیں اور وہ اپنے کو برہمن سمجھتا بھی ہے۔ میرے سائیس اور خدمت گار مجھے زور سے سلام کرتے ہیں، گنگو مجھے کبھی سلام نہیں کرتا۔ وہ شاید مجھ سے پالاگن کی توقع رکھتا ہے۔ میرا جھوٹا گلاس کبھی ہاتھ سے نہیں چھوتا اور نہ کبھی میری اتنی ہمت ہوئی کہ اس سے پنکھا جھلنے کو کہوں۔جب میں پسینے میں تر ہوتا ہوں اور وہاں کوئی دوسرا آدمی نہیں ہوتا تو گنگو آپ ہی آپ پنکھا اٹھا لیتا ہے لیکن اس کے چہرے سے صاف عیاں ہوتا ہے کہ وہ مجھ پر کوئی احسان کر رہا ہے اور میں بھی نہ جانے کیوں فورا ہی اس کے ہاتھ سے پنکھا چھین لیتا ہوں۔تیز مزاج آدمی ہے، بات کی مطلق برداشت نہیں۔ ایسے بہت کم آدمی ہیں جن سے اس کی دوستی ہو۔ سائیس اور خدمت گار کےساتھ بیٹھنا شاید وہ کسر شان سمجھتا ہے۔ میں نے اسے کسی سے بے تکلف ہوتے نہیں دیکھا۔ نہ میلے تماشے میں جاتے دیکھا۔حیرت یہ ہے کہ اسے بھنگ بوٹی سے بھی شوق نہیں جو اس طبقے کے آدمیوں میں ایک غیر معمولی وصف ہے۔ وہ کبھی پوجا پاٹ نہیں کرتا اور نہ اسے ندی میں اشنان کرنے کا خبط ہے۔ بالکل ناحرف شناس آدمی ہے لیکن پھر بھی وہ برہمن ہے اور چاہتا کہ دنیا اس کی تعظیم اور خدمت کرے اور کیوں نہ چاہے؟ جب اجداد کی پیدا کی ہوئی ملکیتوں پر آج بھی لوگ قابض ہیں اور اسی شان سے قابض ہیں گویا انہوں نے خود پیدا کی ہو تو وہ کیوں اس تقدس اور امتیاز کو ترک کر دے جو اسکے بزرگوں نے پیدا کیا تھا۔ یہی اسکا ترکہ ہے۔

میری طبیعت اس قسم کی واقع ہوئی ہے کہ اپنے ملازموں سے بہت کم بولتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ جب تک میں نہ بلاؤں کوئی میرے پاس نہ آئے۔ مجھے یہ اچھا نہیں لگتا کہ ذرا ذرا سی باتوں کےلئے آدمیوں کو آواز دیتا پھروں۔مجھے اپنے ہاتھ سے صراحی سے پانی انڈیلنا یا اپنا لیمپ جلانا یا اپنے جوتے پہن لینا یا الماری سے کوئی کتاب نکال لینا اس سے کہیں زیادہ آرام دہ معلوم ہوتا ہے کہ ہینگن اور میکو کو پکاروں۔ اس سے مجھے اپنی آزادی اور خود اعتباری کا احساس ہوتا ہے۔نوکر بھی میرے پاس بہت کم آتے ہیں۔ اس لیے ایک دن علی الصبح جب گنگو میرے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا تو مجھے کچھ ناگوار گزرا۔ یہ لوگ جب آتے ہیں تو یا تو پیشگی حساب میں کچھ مانگنے کےلئے یا کسی دوسرے ملازم کی شکایت کرنے کےلئے اور مجھے یہ دونوں حرکتیں حد درجہ ناپسند ہیں۔میں پہلی کو ہر ایک کی تنخواہ بے باق کر دیتا ہوں اور بیچ میں جب کوئی کچھ مانگتا ہے تو مجھے غصہ آتا ہے۔ کون دو دو چار چار روپے کا حساب رکھتا پھرے۔ پھر جب کسی کو منہ بھری مزدوری مل گئی تو اسے کیا حق ہے کہ اسے پندرہ دن میں خرچ کر دے اور قرض یا پیشگی کی ذات اختیار کرے اور شکایتوں سے مجھے نفرت ہے، میں شکایت کو کمزوری کی دلیل سمجھتا ہوں یا خوشامد پرستی اور امداد پرستی کی کمینی کوشش۔

میں نے چیں بچیں ہو کر کہا۔ ” کیا معاملہ ہے، میں نے تمہیں بلایا نہیں ”

گنگو کے تیکھے، بے نیاز چہرے پر آج کچھ ایسی لجاجت، کچھ ایسی التجا، کچھ ایسا حجاب تھا کہ مجھے تعجب ہوا۔ ایسا معلوم ہوا کہ وہ کچھ جواب دینا چاہتا ہے مگر الفاظ نہیں مل رہے ہیں۔

میں نے ذرا اور تیز ہو کر کہا۔ ” آخر بات کیا ہے؟ کہتے کیوں نہیں۔ تم جانتے ہو یہ میری ہوا خوری کا وقت ہے، مجھے دیر ہو رہی ہے۔

گنگو نے مایوسانہ لہجے میں کہا۔ ” تو آپ ہوا کھانے جائیں، میں پھر آ جاؤں گا۔”

یہ صورت اور بھی پریشان کرنے والی تھی۔ اس رواداری میں ایک منٹ میں وہ اپنی سرگزشت کہہ سنائے گا۔ وہ اتنا جانتا ہے کہ مجھے زیادہ فرصت نہیں ہے۔ دوسرے موقع پر تو کمبخت گھنٹوں روئے گا۔ میرے کچھ لکھنے پڑھنے کو تو شاید کام سمجھتا ہو لیکن غوروخوض کو جو میرے لیے انتہائی مصروفیت ہے، وہ میرے آرام کا وقت سمجھتا ہے۔ یقینا یہ اسی وقت آ کر میرے سر پر سوار ہو جائےگا۔ میں نے تلخی کےساتھ کہا۔ ” کچھ پیشگی مانگنے آئے ہو، میں پیشگی نہیں دیتا۔”

جی نہیں سرکار، میں نے تو کبھی پیشگی نہیں مانگی۔

تو کیا کسی کی شکایت کرنا چاہتے ہو؟ مجھے شکایتوں سے نفرت ہے۔

جی نہیں سرکار، میں نے تو کبھی کسی کی شکایت نہیں کی۔

تو پھر خوامخواہ کیوں میرے سر پر سوار ہو گئے؟

گنگو نے اپنے دل کو مضبوط کیا۔ اس کے بشرے سے معلوم ہو رہا تھا کہ وہ جست لگانے کیلئے اپنی ساری قوتوں کو مجتمع کر رہا ہے۔ آخر اس نے کہا۔ ” مجھے اب آپ چھٹی دیدیں۔ میں اب آپ کی نوکری نہ کر سکوں گا۔”یہ اس قسم کی پہلی استدعا تھی جو میرے کانوں میں پڑی۔ میری خودداری کو چوٹ لگی۔ میں جو اپنے آپ کو انسانیت کا پتلا سمجھتا ہوں، اپنے ملازموں سے سخت کلامی نہیں کرتا۔ اپنی آقائیت کو حتی الامکان نیام میں رکھنے کی کوشش کرتا ہوں، اس درخواست پر کیوں نہ حیرت میں آ جاتا۔ تحکم کے لہجے میں پوچھا۔ کیوں؟ کیا شکایت ہے؟

آپ نے تو ہجور جیسی نیک طبیعت پائی ہے ویسی کیا کوئی پائے گا۔ لیکن بات ایسی آ پڑی ہے کہ اب میں آپ کے یہاں نہیں رہ سکتا۔ ایسا نہ ہو پیچھے سے کوئی بات ہو جائے تو آپ کی بدنامی ہو۔ میں نہیں چاہتا میرے ڈیل سے آپ کی آبرو میں بٹہ لگے۔

میرے دل میں الجھن پیدا ہوئی۔ دریافت حال کا اشتیاق پیدا ہوا۔ ہوا خوری کا نشہ اتر گیا۔ توکل کے انداز سے برآمدے میں پڑی ہوئی کرسی پر بیٹھ کر بولا۔ تم پہیلیاں بجھوا رہے ہو۔ صاف صاف کیوں نہیں کہتے، کیا معاملہ ہے؟

گنگو نے مجسم معذرت بن کر کہا۔ بات یہ ہے کہ وہ عورت جو ابھی بِدھوا آشرم سے نکال دی گئی ہے۔ وہی گومتی دیو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

وہ خاموش ہو گیا۔ میں نے بے صبر ہو کر کہا۔ ہاں نکال دی گئی تو پھر؟ تمہاری نوکری کا اس سے کیا تعلق؟

میں اس سے بیاہ کرنا چاہتا ہوں ہجور۔”

میں حیرت سے اس کا منہ تکنے لگا۔ یہ پرانے خیال کا بونگا برہمن جسے نئی تہذیب کی ہوا تک نہیں لگی، اس عورت سے شادی کرےگا، جسے کوئی بھلا آدمی اپنے گھر میں قدم بھی نہیں رکھنے دےگا۔ گومتی نے محلے کی پرسکون فضا میں تھوڑی سی حرکت پیدا کر دی تھی۔کئی سال قبل وہ بدھوا آشرم میں داخل ہوئی تھی۔ تین بار آشرم کے منتظموں نے اس کی شادی کر دی مگر ہر بار وہ ہفتہ عشرہ کے بعد بھاگ آئی۔ یہاں تک کہ آشرم کے سیکرٹری نے اب کی بار اس آشرم سے نکال دیا تھا۔ وہ اسی محلے میں ایک کوٹھری لےکر رہتی تھی اور سارے محلے کے شہدوں کےلئے دلچسپیوں کا مرکز بنی ہوئی تھی۔

مجھے گنگو کی سادہ لوحی پر غصہ بھی آیا اور رحم بھی۔ اس بیوقوف کو ساری دنیا میں کوئی عورت ہی نہ ملتی تھی جو اس سے شادی کرنے جا رہا ہے۔ جب وہ تین بار شوہروں کے پاس سے بھاگ آئی تو اس کے پاس کتنے دن رہےگی۔ کوئی گانٹھ کا پورا آدمی ہوتا تو ایک بھی تھی شاید چھ مہینے ٹک جاتی۔ یہ تو محض آنکھ کا اندھا ہے، ایک ہفتہ بھی تو نباہ نہ ہو گا۔

میں نے تنبیہہ آمیز لہجے میں پوچھا۔ تم اس عورت کے حالات سے واقف ہو؟

گنگو نے عین الیقین کے انداز سے کہا۔ سب جھوٹ ہے سرکار، لوگوں نے اس کو ناحق بدنام کیا ہے۔

کیا معنی؟ کیا وہ تین بار اپنے شوہروں کے پاس سے نہیں بھاگ آئی؟

ان لوگوں نے اسے نکال دیا تو کیا کرتی؟

کیسے احمق آدمی ہو، کوئی اتنی دور سے آکر شادی کر کے لے جاتا ہے۔ ہزاروں روپے خرچ کرتا ہے، اس لیے کہ عورت کو نکال دے؟

گنگو نے شاعرانہ جوش کےساتھ کہا۔ جہاں محبت نہیں ہے ہجور وہاں کوئی عورت نہیں رہ سکتی۔ عورت کھالی روٹی کپڑا تو نہیں چاہتی ہے، کچھ محبت بھی تو چاہتی ہے۔ وہ لوگ سمجھتے ہونگے کہ ہم نے بدھوا آشرم سے بیاہ کر کے اس کے اوپر کوئی بہت بڑا احسان کیا ہے۔ چاہتے تھے کہ وہ دل و جان سے اس کی ہو جائے لیکن دوسرے کو اپنا بنانے کیلئے پہلے آپ اس کا بن جانا پڑتا ہے ہجور۔ یہ بات ہے پھر اسے ایک بیماری بھی ہے اسے کوئی بھوت لگا ہوا ہے، وہ کبھی ہک جھک کرنے لگتی ہے اور بیہوش ہو جاتی ہے۔

اور تم ایسی عورت سے شادی کرو گے؟ میں نے شبہ کے انداز سے سر ہلا کر کہا۔ سمجھ لو زندگی تلخ ہو جائے گی۔

گنگو نے شہیدانہ سرگرمی سے کہا۔ ” میں تو سمجھتا ہوں، میری جندگی بن جائے گی۔ آگے بھگوان کی مرجی۔

میں نے زور دے کر کہا۔ ” تو تم نے طے کر لیا ہے؟

ہاں ہجور۔

تو تمہارا استعفیٰ منظور کرتا ہوں۔

میں بے معنی رسوم اور مہمل بندشوں کا غلام نہیں ہوں لیکن جو ایک فاحشہ سے شادی کرے، اسے اپنے یہاں رکھنا اندیشے سے خالی نہ تھا۔ آئے دن قضیے ہوں گے، نئی نئی الجھنیں پیدا ہوں گی۔ کبھی پولیس تحقیقات کرنے آئےگی، کبھی مقدمے کھڑے ہوں گے۔ کیا عجب ہے چوری کی وارداتیں بھی ہوں۔گنگو بھوکے آدمی کی طرح روٹی کا ٹکڑا دیکھ کر اس کی طرف لپک رہا ہے۔ روٹی خشک ہے، بدمزہ ہے، اس کی اسے پرواہ نہیں۔ اس کا عقل سلیم سے کام لینا محال تھا۔ میں نے اس کو علیحدہ کر دینے ہی میں اپنی عافیت سمجھی۔

(2)

پانچ مہینے گزر گئے۔ گنگو نے گومتی سے شادی کر لی تھی اور اسی محلے میں ایک کھپریل کا مکان لےکر رہتا تھا۔وہ اب چاٹ کا خوانچہ لگا کر گزر بسر کرتا تھا۔ مجھے جب کبھی بازار میں مل جاتا میں اس سے استفسار حال کرتا، مجھے اس کے حالات سے ایک خاص دلچسپی ہو گئی تھی۔ یہ ایک معاشرتی مسئلے کی آزمائش تھی، معاشرتی ہی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی۔میں دیکھنا چاہتا تھا کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ میں گنگو کو ہمیشہ خوش و خرم دیکھتا۔فراغت اور بے فکری سے چہرے پر جو ایک نفاست اور مزاج میں ایک خود مختاری پیدا ہو جاتی ہے وہ مجھے صریحا نظر آتی تھی۔ روپے، بیس آنے کی روزانہ بکری ہو جاتی تھی۔ اس میں لاگت نکال کر آٹھ دس آنے بچ جاتے تھے۔ یہی اس کی معاش تھی۔ مگر اس میں کوئی خاص برکت تھی کیونکہ اس طبقے کے آدمیوں میں جو بے سروسامانی، جو بے غیرتی نظر آتی ہے ان سے وہ پاک تھا۔ اس کے چہرے پر خود اعتمادی اور مسرت کی جھلک تھی جو سکون قلب ہی سے پیدا ہو سکتی ہے۔

ایک دن میں نے سنا کہ گومتی گنگو کے گھر سے بھاگ گئی ہے۔

کہہ نہیں سکتا کیوں مجھے اس خبر سے ایک خاص خوشی ہوئی۔ مجھے گنگو کے اطمینان اور عافیت زندگی پر ایک طرح کا رشک آتا تھا۔ میں اس کے بارے میں کسی رسوا کن سانحے، کسی دل فگار اور تباہ کن تغیر کا منتظر تھا۔ آخر اسے اپنی سہل اعتقادی کا تاوان دینا پڑا۔اب دیکھیں وہ کس طرح منہ دکھاتا ہے۔ اب آنکھیں کھلیں گی اور معلوم ہو گا کہ لوگ جو اسے شادی سے باز رکھنے کی کوشش کر رہے تھے، نیک نیت تھے۔ اس وقت تو ایسا معلوم ہوتا تھا گویا حضرت کو ایک نایاب چیز ملی جا رہی ہے، گویا نجات کا دروازہ کھل گیا ہو۔ لوگوں نے کتنا سمجھایا،کتنا کہا کہ یہ عورت اعتبار کے قابل نہیں، کتنوں کو دغا دے چکی ہے۔ تمہارے ساتھ بھی دغا کرےگی مگر اس پر مطلق اثر نہ ہوا۔ اب اس ابلہانہ ضد کا خمیازہ اٹھاؤ۔اب میں تو ذرا مزاج پرسی کروں۔ کہوں، کیوں مہراج، دیوی جی کا یہ بردان پا کر خوش ہوئے یا نہیں۔ تم تو کہتے تھے وہ ایسی ہے اور ویسی ہے۔ لوگ اسے محض بدخواہی کے باعث تہمت لگاتے ہیں۔ اب بتلاؤ کون غلطی پر تھا۔ اب آ گیا خیال شریف میں کہ حسن فروش عورتوں سے لوگ کیوں احتراز کرتے ہیں۔

اسی دن اتفاق سے بازار میں گنگو سے میری ملاقات ہو گئی۔ بدحواس تھا، بالکل کھویا ہوا، گم گشتہ۔ مجھے دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے، ندامت سے نہیں درد سے، میرے پاس آ کر بولا۔ ” بابو جی گومتی نے میرے ساتھ بھی دغا کیا۔

میں نے حاسدانہ مسرت سے لیکن بظاہر ہمدردی کا اظہار کر کے کہا۔ تم سے تو میں نے پہلے ہی کہا تھا لیکن تم مانے ہی نہیں۔ اب صبر کرو۔ اس کے سوا اور کیا چارہ ہے۔ روپے پیسے صاف کر لے گئی یا کچھ چھوڑ گئی؟

گنگو نے سینہ پر ہاتھ رکھا۔ ایسا معلوم ہوا گویا میرے اس سوال نے اسکے جگر کے ٹکڑے کر دیے۔

ارے بابو ایسا نہ کہیے۔ اس نے دھیلے کی چیز بھی نہیں چھوئی۔ اپنا جو کچھ تھا وہ بھی چھوڑ گئی۔ نہ جانے مجھ میں کیا برائی دیکھی۔ میں اس کے لائق نہ تھا۔ بس اور کیا کہوں۔ وہ پڑھی لکھی، میں کریا اچھر بھینس برابر۔ میرے ساتھ اتنے دن رہی، یہی بہت تھا۔ کچھ دن اورا س کے ساتھ رہا جاتا تو آدمی بن جاتا۔ اس کا آپ سے کہاں تک بکھلان کروں۔ بابو جی اوروں کیلئے وہ چاہے کچھ رہی ہو، وہ میرے لیے کسی دیوتا کا اشیرباد تھی۔ کیا جانے مجھ سے ایسی کیا خطا ہو گئی ہو مگر قسم لے لیجیے جو اس نے بھول کر بھی شکایت کی ہو۔ میری اوقات ہی کیا ہے۔ بابو جی دس بارہ آنے روز کا مجدور ہوں مگر اس کے ہاتھوں میں اتنی برکت تھی کہ کبھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ کبھی میں نے اس کے چہرے پر میل نہیں دیکھا۔

مجھے الفاظ سے سخت مایوسی ہوئی۔ میں نے سمجھا تھا وہ اس کی بیوفائی کی داستان کہے گا اور میں اس کی حماقت پر حاسدانہ ہمدردی کروں گا مگر اس احمق کی آنکھیں اب تک نہیں کھلیں۔ اب بھی اسی کا کلمہ پڑھ رہا ہے۔

ضرور اس کے دماغ میں کچھ خلل ہے۔

میں نے شماتت آمیز ظرافت شروع کی۔ تو وہ تمہارے گھر سے کچھ نہیں لے گئی؟

کچھ نہیں بابو جی۔ دھیلے کی چیز بھی نہیں۔

اور تم سے محبت بھی کرتی تھی؟

اب آپ سے کیا کہوں بابو جی، وہ محبت تو مرتے دم تک یاد رہے گی۔

پھر بھی تمہیں چھوڑ کر چلی گئی؟

یہی تو تعجب ہے بابو جی!۔

تریا چرتر کا نام کبھی سنا ہے؟

ارے بابو جی، ایسا نہ کہیے، میری گردن پر کوئی چھری بھی رکھدے تو بھی میں اس کا جس ہی گائے جاؤں گا۔

تو پھر ڈھونڈ نکالو۔

ہاں الگ؟ جب تک اسے ڈھونڈ نہ لاؤں، مجھے چین نہ آئیگا۔ مجھے اتنا معلوم ہو جائے کہ وہ کہاں ہے؟ پھر تو میں اسے لے ہی آؤں گا۔ اور بابو جی میرا دل کہتا ہے کہ آئےگی جرور، دیکھ لیجیے گا۔ وہ مجھ سے خفا نہیں تھی۔ لیکن دل نہیں مانتا۔ جاتا ہوں۔ مہینے دو مہینے، جنگل پہاڑ کی خاک چھانوں گا، جیتا رہا تو آپ کے درشن کرونگا۔ یہ کہہ کر وہ مجنونہ رفتار سے ایک طرف چل دیا۔

(3)

اس کے بعد مجھے ایک ضرورت سے نینی تال جانا پڑا، تفریح کیلئے۔ ایک مہینے کے بعد لوٹا اور ابھی کپڑے بھی اتارنے نہ پایا تھا کہ دیکھتا ہوں، گنگو ایک نوزائیدہ کو گود میں لیے کھڑا ہے۔شاید کرشن کو پاکر نند بھی اتنے باغ باغ نہ ہوئے ہوں گے۔ معلوم ہوتا تھا مسرت اس کے جسم سے باہر نکل پڑی ہے۔ چہرے اور آنکھوں سے تشکر اور نیاز کے نغمے سے نکل رہے تھے۔ کچھ وہی کیفیت تھی جو کسی فاقہ کش سائل کے چہرے پر شکم سیر ہو جانے کی بعد نظر آتی ہے۔

میں نے پوچھا۔ کیوں مہراج، گومتی دیوی کا کچھ سراغ ملا؟ تم تو باہر گئے تھے۔

گنگو نے جامے میں پھولے نہ سماتے ہوئے جواب دیا۔ ہاں بابو جی۔ آپ کی دعا سے ڈھونڈ لایا۔ لکھنؤ کے زنانہ ہسپتال میں ملی۔ یہاں ایک سہیلی سے کہہ گئی تھی کہ اگر وہ بے قرار ہوں تو بتلا دینا۔ میں سنتے ہی لکھنؤ بھاگا اور انہیں لے آیا۔گھاتے میں یہ بچہ بھی مل گیا۔

اس نے بچے کو گود میں اٹھا کر میری طرف بڑھایا۔ گویا کوئی کھلاڑی تمغہ پا کر اسے دکھا رہا ہو۔

میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ ابھی اس کی شادی کو ہوئے کل چھ مہینے ہوئے ہیں۔ پھر بھی یہ بچے کو کتنی بے حیائی سے دکھا رہا ہے۔ میں نے تمسخر کے انداز سے پوچھا۔یہ لڑکا بھی مل گیا۔ شاید اس لیے وہ یہاں سے بھاگی تھی۔ ہے تو تمہارا لڑکا ہی نا؟

میرا کاہے کو ہے بابو جی، آپ کا ہے، بھگوان کا ہے۔

تو لکھنؤ میں پیدا ہوا؟

ہاں بابو جی، ابھی تو کل ایک مہینے کا ہوا ہے۔

تمہاری شادی ہوئے کتنے دن ہوئے؟

یہ ساتواں مہینہ جا رہا ہے۔

شادی کے چھٹے مہینے میں پیدا ہوا؟

اور کیا بابو جی؟

پھر بھی تمہارا لڑکا ہے؟

ہاں جی۔

کیسی بے سر پیر کی باتیں کر رہے ہو؟

معلوم نہیں وہ میرا منشا سمجھ رہا تھا یا نہیں، اسی سادہ لوحانہ انداز سے بولا۔ گھر میں مرتے مرتے بچی، بابو جی۔ نیا جنم ہوا۔ تین دن تین رات چھٹ پٹاتی رہی، کچھ نہ پوچھیے۔

میں نے اب ذرا طنز کے ساتھ کہا۔ لیکن چھ مہینے میں لڑکا ہوتے میں نے آج سنا۔

یہ کنایہ نشانہ پر جا بیٹھا۔ معذرت آمیز تبسم کیساتھ بولا۔ مجھے تو بابو جی اس کا خیال بھی نہیں آیا۔ اسی لاج سے تو گومتی بھاگی تھی۔ میں نے کہا۔ گومتی اگر تمہارا دل مجھ سے نہیں ملتا تو مجھے چھوڑ دو، میں اسی دم چلا جاؤں گا اور پھر کبھی تمہارے پاس نہ آؤں گا۔ تمہیں جب کسی چیز کی جرورت ہو مجھے لکھنا۔ میں بیشک تمہاری مدد کروں گا۔ مجھے تم سے کوئی ملال نہیں ہے۔ تم میری نجر میں اب بھی اتنی ہی بھلی ہو۔ اب بھی میں تمہیں اتنا ہی چاہتا ہوں۔ نہیں میں اب تمہیں اور زیادہ چاہتا ہوں۔ لیکن اگر تمہارا دل مجھ سے پھر نہیں گیا ہے تو میرے ساتھ چلو۔ گنگو جیتے جی تم سے بے وپھائی نہیں کریگا۔میں نے تم سے اس لیے بیاہ نہیں کیا کہ تم دیوی ہو، بلکہ اس لیے کہ میں تمہیں چاہتا ہوں اور سمجھتا تھا کہ تم بھی مجھے چاہتی ہو۔ یہ بچہ میرا ہے۔ میرا اپنا بچہ ہے۔ میں نے ایک بویا ہوا کھیت لیا تو کیا اس کے پھل کو اس لیے چھوڑ دوں گا کہ اسے دوسرے نے بویا تھا۔ یہ کہہ کر اس نے زور سے قہقہہ مارا۔

میں نے تم سے اس لیے بیاہ نہیں کیا کہ تم دیوی ہو، بلکہ اسلیے کہ میں تمہیں چاہتا ہوں اور سمجھتا تھا کہ تم بھی مجھے چاہتی ہو۔ یہ بچہ میرا ہے۔ میرا اپنا بچہ ہے۔ میں نے ایک بویا ہوا کھیت لیا تو کیا اسکے پھل کو اسلیے چھوڑ دوں گا کہ اسے دوسرے نے بویا تھا۔ یہ کہہ کر اس نے زور سے قہقہ مارا۔

میں کپڑے اتارنے بھول گیا۔ کہہ نہیں سکتا کہ کیوں میری آنکھیں پر آب ہو گئیں۔ نہ جانے وہ کون سی طاقت تھی جس نے میری دلی کراہت کے باوجود میرے ہاتھوں کو بڑھا دیا اور میں نے اس معصوم بچے کو گود میں لے لیا اور اس پیار سے اس کا بوسہ لیا کہ شاید اپنے بچوں کا کبھی نہ لیا ہو گا۔

گنگو بولا۔ بابو جی آپ بڑے شریف آدمی ہیں۔ گومتی سے برابر آپ کا بکھان کیا کرتا ہوں۔ کہتا ہوں چل ایک بار ان کے درشن کر آ۔ لیکن مارے شرم کے آتی ہی نہیں۔

میں اور شریف، اپنی شرافت کا پردہ آج میری نظروں سے ہٹا۔ میں نے عقیدت کے ڈوبے ہوئے لہجے میں کہا۔ نہیں جی، وہ میرے جیسے سادہ دلوں کے پاس کیا آئیں گے، چلو میں ان کے درشن کرنے چلتا ہوں۔ تم مجھے شریف سمجھتے ہو، میں ظاہر میں شریف مگر دل کا کمینہ ہوں۔ اصلی شرافت تم میں ہے اور یہ معصوم بچہ وہ پھول ہے جس سے تمہاری شرافت کی دہک نکل رہی ہے۔

میں بچے کو سینے سے چمٹائے ہوئے گنگو کے ساتھ چلا۔

*****

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!