انتخابِ کلامِ میر کی ابتدائی بیس غزلیں

انتخابِ کلامِ میر

ابتدائی بیس غزلیں

پہلی غزل

اس غزل کے انتخاب میں دس اشعار ہیں۔ اس میں ردیف “تھا” ہے اور قافیہ؛ نور، ظہور، نشور، دور، طور، حضور، ضرور، عور، چور، غرور اور قصور ہے جب کے حرفِ روی “ر” ہے۔

تھا مستعارِ حسن سے اس کے جو نور تھا

خورشید میں بھی اس ہی کا ذّرہ ظہور تھا

مستعار:ادھار لینا

خورشید:سورج

ذرہ: ریزہ، تھوڑا سا

ظہور: ظاہر ہونا

شاعر کہنا چاہ رہا کہ کائنات میں جتنا بھی نور ہے وہ اس کے حسن سے لیا گیا ہے ۔یہاں تک کہ سورج میں جو نور ہے وہ اس کے حسن کا نہ ہونے کے برابر نظر آنے والا حصہ ہے۔

میر اس شعر میں خدائےلاشریک کی تعریف کر رہےہیں۔اس شعر میں اس سے مراد اللہ پاک کی ذات ہے۔

ہنگامہ گرم کن جو دلِ ناصبور تھا

پیدا ہر ایک نالے سے شورِ نشور تھا

پہونچا جوآپ کو تو میں پہونچا خدا کے تئیں

معلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا

آتش بلند دل کی نہ تھی ورنہ اے کلیم

ایک شعلہ برق خرمن صد کوہِ طور تھا

آتش : آگ

کلیم:  حضرت موسیٰ علیہ السلام        کا لقب

شعلہ :روشنی’ چمک ‘ آگ کی لپٹ

 برق :آسمانی بجلی

خرمن : کھلیان                              

اے کلیم میرے دل کی آتش  زیادہ بلند نہ تھی ورنہ کھلیان پر گرنے والی بجلی کا ایک شعلہ سینکڑوں کوہ طور کے برابر تھا –

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کوہ طور پر اللہ تعالیٰ سے شرفِ تکلم حاصل کیا ۔ کوہ طور پر ایک درخت تھا جس سے سُبحاتِ الہیہ کا ظہور ہو رہا تھا –  انہی انوارات سے ایک آواز آئی ۔

میر اپنی عاجزی  ‘ درماندگی اور نارسائی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرے دل کی روشنی بلند نہ تھی ۔ ورنہ اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے اور تجلیات الہیہ کا فیض اٹھانے کیلئے کسی کوہ طور پر جانے کی ضرورت نہ تھی بلکہ خرمن پر گرنے والی ایک آسمانی بجلی ہی اس کے لئے کافی ہے۔

مطلب یہ ہے کہ کائنات کی ایک ایک چیز اللہ تعالیٰ کے وجود کی دلیل ہے ۔ انسان کسی بھی جگہ، کسی بھی حالت میں اللہ تعالیٰ سے سرگوشیاں کرسکتا ہے اور اس کی تجلیات و سُبحات سے مستفید و مستنیر ہو سکتا ہے ۔ اس کے لئے کسی خاص مقام کی ضرورت نہیں۔  ہاں یہ شرط ہے کہ انسان کا دل و ضمیر روشن ہو ۔

اس شعر میں صنعتِ تلمیح کا استعمال ہوا ہے ۔ جس شعر میں کسی تاریخی واقعہ یا شخصیت کی طرف اشارہ مقصود ہو تو اسے تلمیح کہتے ہیں ۔

میر نے ” شعلہ برقِ خِرمَن” سے پیکر تراشا ہے ۔ آتش ‘ شعلہ اور برق میں مناسبت ظاہر ہے ۔  دل کی آتش سے مراد دل کی روشنی ہے ۔ لفظِ آتش کی مناسبت سے بلند کا لفظ استعمال کیا ۔ آگ بلندی کی طرف ہی اٹھتی ہے۔  کلیم کے لفظ میں بھی معنویت ہے۔ صحرا سے گزرتے ہوئےموسیٰ علیہالسلام نے کوہ طور پر آگ دیکھی تھی اور اپنی زوجہ محترمہ سے کہا تھا ”  اني انست نارا ” چونکہ کوہ طور پر ان کو دیدار کے لئے نہیں شرف تکلم کے لئے بلایا گیا تھا ( بلکہ درخواست کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ” لن ترانی”) اسی مناسبت سے ” کلیم” کا لفظ لایا ۔

مجلس میں رات ایک ترے پر توے بغیر

کیا شمع کیا پتنگ ہر ایک بے حضور تھا

ہم خاک میں ملے تو ملے لیکن اے سپہر

اس شوخ کو بھی راہ پہ لانا ضرور تھا

منعم کے پاس قاقم و سنجاب تھا تو کیا

اس رند کی بھی رات کٹی جو کہ عور تھا

کل پاؤں ایک کاسئہ سر پر جو آگیا

یکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا

کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر

میں بھی کبھی کسو کا سر پر غرور تھا

تھا وہ تو رشک حور بہشتی ہمیں میں میر

سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنے قصور تھا

رشک: ہم رتبہ ہونے کی خواہش، حسد

فہم: سمجھ

مقطع میں میرؔ کیا خوب تعریف کرتے ہیں حسنِ محبوب کی کہ وہ اتنا حسین ہے کہ جنت کی حور بھی اگر اس کو دیکھے تو اس کو دیکھ کر رشک کرے۔ مگر ہم ہی ایسے ہیں کہ ہم اس کے حسن کو کچھ سمجھتے نہیں تو اس میں ہماری عقل کا قصور ہے نہ کسی اور چیز کا۔

دوسری غزل

اس غزل کے انتخاب میں پانچ اشعار ہیں۔ اس میں ردیف “تھا” ہے اور قافیہ؛ قریں، کہیں، باز پسیں، وہیں، زمیں، زیر نگیں اور نشیں ہے جب کے حرفِ روی “ں” ہے۔

کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا

آنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا

پریشانی: بکھراؤ

خاطر: دل

قریں: ہمنشیں، پاس رہنے والا

غمدیدہ: غمگین، آفت رسیدہ

آیا تو سہی وہ کوئی دم کے لیے لیکن

ہونٹوں پہ مرے جب نفس باز پسیں تھا

دم : لحظہ ، پل، لمحہ

نفس: سانس

باز پسیں: آخری وقت، وقتِ نزع

وہ کچھ لمحے کے لیے آیا تو سہی لیکن جب مرے ہونٹوں پرآخری سانس تھی۔

شب/اب کوفت سے ہجراں کی جہاں تن پہ رکھا ہاتھ

جو درد و الم تھا سو کہے تو کہ وہیں تھا

ہجراں: فرقت

کوفت: صدمہ، اذیت، تکلیف، آزار

الم : تکلیف

نام آج کوئی یاں نہیں لیتا ہے انہوں کا

جن لوگوں کے کل ملک یہ سب زیر نگیں تھا

مسجد میں امام آج ہوا آ کے وہاں سے

کل تک تو یہی میرؔ خرابات نشیں تھا

تیسری غزل

اس غزل کے انتخاب میں سات اشعار ہیں۔ اس میں ردیف “کا” ہے اور قافیہ؛ پیشانی، نورانی، سلیمانی، پریشانی، زندانی، نادانی، حیرانی اور مسلمانی ہے جب کے حرفِ روی “ی” ہے۔

لطف اگر یہ ہے بتاں صندل پیشانی کا

حسن کیا صبح کے پھر چہرہ نورانی کا

کفر کچھ چاہئے اسلام کی رونق کے لئے

حسن زنار ہے تسبیح سلیمانی کا

درہمی حال کی ہے سارے مرے دیواں میں

سیر کر تو بھی یہ مجموعہ پریشانی کا

درہمی: ہل چل، پراگندگی، انتشار، افراتفری

حال: حالت، موجودہ زمانہ

سارے/ ساری: مکمل ، تمام کے تمام

مجموعہ: کُل، دیوان(مجموعہ کلام)

یہاں لفظ “حال” اور لفظ “مجموعہ ” میں ایہام ہے

میر ی تمام درہمی حالت اس دیوان میں ہے۔

زمانے کی حالت دیکھنا ہوں تو میرا دیوان دیکھو

تمام درہمی اور پریشانی کے باوجود یہ کتاب سیر کے قابل ہے اے میرے محبوب زمانہ تو دیکھ رہا ذرا تم بھی دیکھو

شعر میں ایسا لفظ لایاجائے جو ذو معنی ہو۔ ایک قریبی مفہوم ہو جس کی طرف فوری ذہن منتقل ہو اور دوسرا مفہوم بعید ہو جو غور کرنے پر کھلے ۔ شاعر کا مفہوم بعید ہوتا ہے۔

جان گھبراتی ہے  اندوہ تن میں کیا کیا

تنگ احوال ہے اس یوسف زندانی کا

اندوہ: غم

کھیل لڑکوں کا سمجھتے تھے محبت کے تئیں

ہے بڑا حیف ہمیں اپنی بھی نادانی کا

حیف: افسوس

اس کا مونہہ دیکھ رہا ہوں سو وہی دیکھوں ہوں

نقش کا سا ہے سماں میری بھی حیرانی کا

بت پرستی کو تو اسلام نہیں کہتے ہیں

معتقد کون ہے میر ایسی مسلمانی کا

چوتھی غزل

اس غزل کے انتخاب میں تین اشعار ہیں۔ اس میں ردیف “تھا” ہے اور قافیہ؛ گھیر، پھیر، پھیر، اور ڈھیر ہے جب کے حرفِ روی “ر” ہے۔

جامہ ہستی تھا عشق اپنا مگر کم گھیر تھا

دامن تر کا مرے دریا ہی کا سا پھیر تھا

اپنا عشق جامہ ہستی تھا مگر گھیر کم تھا؛ مرے دامنِ تر کا دریا ہی کا سا پھیر تھا

کلام میں ایک لفظ کی مناسبت سے دیگر الفاظ کا لانا صنعتِ مرعاۃالنظیر کہلاتا ہے: مثلاً

جیسے باغ کی مناسبت سے پھول ،باغبان،پتّے ،خار،پودےاور ٹہنیوں کے الفاظ لانا۔

مثال:

پتاپتا ،بوٹا بوٹا ،حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گُل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

اس شعر میں باغ کی مناسبت سے پتا ،بوٹا اور گل کے الفاظ لائے گئے ہیں، اسی طرح اس غزل میں بھی جامہ، گھیر، دامن، پھیر لایا گیا ہے۔

دیر میں کعبہ گیا میں خانقہ سے اب کی بار

راہ سے میخانے کی اس راہ میں کچھ پھیر تھا

بلبلوں نے کیا گل افشاں میرؔ کا مرقد کیا

دور سے آیا نظر تو پھولوں کا ایک ڈھیر تھا

پانچویں غزل

اس غزل کے انتخاب میں چار اشعار ہیں۔ اس میں ردیف “کو کیا ہوا” ہے اور قافیہ؛ محبّت، مرّوت، قیامت، ندامت اور غیرت ہے جب کے حرفِ روی “ت” ہے۔

اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا

چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا

امیدوار وعدہ دیدار مر چلے

آتے ہی آتے یارو قیامت کو کیا ہوا

بخشش نے مجھ کو ابر کرم کی کیا خجل

اے چشم جوش اشک ندامت کو کیا ہوا

جاتا ہے یار تیغ بکف غیر کی طرف

اے کشتہ ستم تری غیرت کو کیا ہوا

چھٹی غزل

اس غزل کے انتخاب میں دو اشعار ہیں۔ اس میں ردیف “کیا” ہے اور قافیہ؛ تبسم اور طلاطم ہے جب کے حرفِ روی “م” ہے۔

کہا میں نے کتنا ہے گل کا ثبات

کلی نے یہ سن کر تبسم کیا!

ثبات: ٹھہراؤ، زندگی

تبسم : مسکرانا

مخاطب: خود کلامی، پھول

جواب: کلی (جواباً مسکرائی یعنی کلی کے پھول بننے میں جو وقت لگتا ہے، اتنا ہی وقت پھول کے مرجھانے میں لگتا ہے، یا طنزاً مسکرائی یعنی زبان حال سے کہتی ہے کہ تم احمق ہو تمہیں خود کا کچھ بھروسا نہیں اور گل کی ثبات سے متعلق سوال کررہے ہو۔) سوال گل سےوہ جواب نہیں دیتا ہے کیوں کہ اس کے وجود کو  زوال آگیا، کیوں کہ پھول بننے کے بعد مرجھانا لازمی ہے

جگر ہی میں یک قطرہ خوں ہے سر شک

پلک تک گیا تو طلاطم کیا!

ساتویں غزل

اس غزل کے انتخاب میں چھ اشعار ہیں۔ اس میں ردیف “کیا” ہے اور قافیہ؛ کام، تمام، آرام، بدنام، سلام، شام، اور اسلام ہے جب کے حرفِ روی “م” ہے۔

الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

متکلم اپنے آپ سے بات کر رہا ہے۔

متکلم کوئی اور شخص ، مثلاً اس شخص کا دوست ہے عشق نے جس کا کام تمام کیا ہے۔

متکلم مریض عشق کا بیماردار یا معالج ہے

عہد جوانی رو رو کاٹا پیری میں لیں آنکھیں موند

یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا

“رات جاگنا”  یوں بھی ساری رات مصیبت سے کاٹنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ “جوانی “اور “رات ” اور “پیری” اور “صبح” میں مناسبت ظاہر ہے۔ کیوں کہ جوانی میں بال کالے ہوتے ہیں اور بڑھاپے میں سفید۔ ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ جوانی کو عام طور پر دن اور بڑھاپے کو عام طور سے شام یا رات سے تعبیر کرتے ہیں ۔ شاعر نے اس کے برعکس باندھا ہے ۔

شعر میں ایسے الفاظ لائے جائیں جو معنیٰ میں ایک دوسرے کی ضد ہو اس کو صنعت تضاد یاطباق بھی کہتے ہیں۔ کلام میں ایک لفظ کی مناسبت سے دوسرا لفظ لانے کو لف و نثر بولتے ہیں۔

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی

چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

عبث: بے کار

کس کا کعبہ کیسا قبلہ کون حرم ہے کیا احرام

کوچے کے اس کے باشندوں نے سب کو یہیں سے سلام کیا

یاں کے سفید و سیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے

رات کو رو رو صبح کیا یا دن کو جوں توں شام کیا

“سپید” اور “سیہ” کی رعایت سے “دن” اور “رات” بہت خوب ہے۔ لطف کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ “سپید و سیاہ کا مالک ہونا” کے معنی ہیں۔

میر کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو!

قشقہ کھینچا، دیر میں بیٹھا، کب کا ترک اسلام کیا

آٹھویں غزل

اس غزل کے انتخاب میں تین اشعار ہیں۔ اس میں ردیف “کیا” ہے اور قافیہ؛ جمال، لال، نہال اور حال ہے جب کے حرفِ روی “ل” ہے۔

چمن میں گل نے جو کل دعویٰ جمال کیا

جمال یار نے منہ اس کا خوب لال کیا

بہار رفتہ پھر آئی ترے تماشے کو

چمن کو یمن قدم نے ترے نہال کیا

لگا نہ دل کو کہیں کیا سنا نہیں تو نے

جو کچھ کہ میرؔ کا اس عاشقی نے حال کیا

نویں غزل

اس غزل کے انتخاب میں تین اشعار ہیں۔ اس میں ردیف “رہے گا” ہے اور قافیہ؛ مہمان، احسان، میدان اور دیوان ہے جب کے حرفِ روی “ن” ہے۔

منعم نے بِنا ظلم کی رکھ گھر تو بنایا

پر آپ کوئی رات ہی مہمان رہے گا

چھوٹوں کہیں ایذا سے لگا ایک ہی جلاد

تا حشر مرے سر پہ یہ احسان رہے گا

چمٹے رہیں گے دشت محبت میں سر و تیغ

محشر تئیں خالی نہ یہ میدان رہے گا

جانے کا نہیں شور سخن کا مرے ہرگز

تاحشر جہاں میں مِرا دیوان رہے گا

تعلی:تعلی عربی میں شیخی بگھارنا، ڈینگ مارنا یا اپنی بڑائی بیان کرنا کہلاتا ہے، شاعری کی اصطلاح میں اس سے مراد کسی بھی شاعر کی طرف سے شعری انداز میں اپنی تعریف کرنا یا برتری ظاہر کرنا ہے۔

دسویں غزل

اس غزل کے انتخاب میں سات اشعار ہیں۔ اس میں ردیف “کا” ہے اور قافیہ؛ تاجوری، نوحہ گری، سفری، آشفتہ سری، بیدادگری، نظری، پری اور سحری ہے جب کے حرفِ روی “ی” ہے۔

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا

کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا

آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت

اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا

کائنات کی ہرچیز انسان کے درپئے نقصان وآزار ہے، استفہام انکاری نے شعر میں ڈرامائیت پیدا کر دی ہے۔ اسباب لٹا” میں دور دور تک پھیلتی ہوئی آواز کی کیفیت ہےجیسے کوئی شخص پکار پکار کر کہہ رہا ہو ، اسباب لٹا۔

زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی

اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا

ہر زخم جگر داور محشر سے ہمارا

انصاف طلب ہے تری بیداد گری کا

اپنی تو جہاں آنکھ لڑی پھر وہیں دیکھو

آئینے کو لپکا ہے پریشاں نظری کا

صد موسم گل ہم کو یہ بال ہی گزرے

مقدور نہ دیکھا کبھو بے بال وپری کا

تک میر جگر سوختہ کی خبر لے

کیا یار بھروسہ ہے چراغ سحری کا 

گیارہویں غزل

اس غزل کے انتخاب میں پانچ اشعار ہیں۔ اس میں ردیف “کا” ہے اور قافیہ؛ تس، کس، مفلس، کھس، اس اور مجلس ہے جب کے حرفِ روی “س” ہے۔

منھ تکا ہی کرے ہے جس تس کا

حیرتی ہے یہ آئینہ کس کا

شام سے کچھ بُجھا سا رہتا ہے

دل ہوا ہے چراغ مفلس کا

تھے برے مغبچوں کے تیور لیک

شیخ مے خانے سے بھلا کھسکا

فیض اے ابر چشم تر سے اٹھا

آج دامن وسیع ہے اس کا

تاب کس کو جو حال میرؔ سنے

حال ہی اور کچھ ہے مجلس کا

بارہویں غزل

اس غزل کے انتخاب میں ایک شعر ہے۔ اس میں ردیف “ہوگیا” ہے اور قافیہ؛ لال ہے جب کے حرفِ روی “ل” ہے۔

دعوی کیا تھا گل نے ترے رخ سے باغ میں

سیلی لگی صبا کی تو منہ لال ہوگیا

تیرہویں غزل

اس غزل کے انتخاب میں تین اشعار ہیں۔ اس میں ردیف “دیکھا” ہے اور قافیہ؛ شتاب، خراب اور خواب ہے جب کے حرفِ روی “ب” ہے۔

پودھا/پودا ستم جس نے اس باغ میں لگایا

اپنے کئے کا اس نے ثمرہ شتاب دیکھا

آباد جس میں تجھ کو دیکھا تھا ایک مدت

اس دل کی مملکت کو اب ہم خراب دیکھا

لیتے ہی نام اس کا سوتے سے چونک اٹھو ہو

ہے خیر میرؔ صاحب کچھ تم نے خواب دیکھا

چودہویں غزل

اس غزل کے انتخاب میں تین اشعار ہیں۔ اس میں ردیف “جاتا” ہے اور قافیہ؛ خلل، نکل، بدل اور ڈھل ہے جب کے حرفِ روی “ل” ہے۔

مر رہتے جو گل بن تو سارا یہ خلل جاتا

نکلا ہی نہ جی ورنہ کانٹا سا نکل جاتا

میں گریہ خونی کو رو کے ہی رہا ورنہ

یک دم میں زمانے کا یاں رنگ بدل جاتا

بن پوچھے کرم سے وہ جو بخشش نہ دیتا تو

پرسش میں ہماری ہی دن حشر کا ڈھل جاتا

پندرہویں غزل

اس غزل کے انتخاب میں چھ اشعار ہیں۔ اس میں ردیف “پایا” ہے اور قافیہ؛ خلل، نکل، بدل اور ڈھل ہے جب کے حرفِ روی “ل” ہے۔

مانند شمع مجلس شب اشک بار پایا

القصہ میرؔ کو ہم بے اختیار پایا

احوال خوش انہوں کا ہم بزم ہیں جو تیرے

افسوس ہے کہ ہم نے واں کا نہ بار پایا

شہر دل ایک مدت اجڑا بسا غموں میں

آخر اجاڑ دینا اس کا قرار پایا

اتنا نہ دل/تجھ سے ملتے نا دل کو کھو کے رہتے

جیسا کیا تھا ہم نے ویسا ہی یار پایا

کیا اعتبار یاں کا پھر اس کو خوار دیکھا

جس نے جہاں میں آکر کچھ اعتبار پایا

آہوں کے شعلے جس جا اٹھے ہیں میرؔ سے شب

واں جا کے صبح دیکھا مشت غبار پایا

سولہویں غزل

اس غزل کے انتخاب میں تین اشعار ہیں۔ اس میں ردیف “کا” ہے اور قافیہ؛ شادماں، روضہ خواں، اور جواں ہے جب کے حرفِ روی “ں” ہے۔

یا روئے یا رُ لایا، اپنی تو یوں ہی گزری

کیا ذکر ہم صفیراں، یاران شادماں کا

قید قفس میں ہیں تو خدمت ہے نا لگی کی

گلشن میں تھے تو ہم کو منصب تھا روضہ خواں کا

پوچھو تو میرؔ سے کیا کوئی نظر پڑا ہے

چہرہ اتر رہا ہے کچھ آج اس جواں کا

سترہویں غزل

اس غزل کے انتخاب میں تین اشعار ہیں۔ اس میں ردیف “لیا” ہے اور قافیہ؛ نام، تھام، کام، اور تمام ہے جب کے حرفِ روی “م” ہے۔

ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا

دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا

مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں

تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا

اگرچہ گوشہ گزیں ہوں میں شاعروں میں میرؔ

پہ میرے شور نے روئے زمین تمام لیا

اٹھارہویں غزل

اس غزل کے انتخاب میں چھ اشعار ہیں۔ اس میں ردیف “کا” ہے اور قافیہ؛ نخچیر، تیر، تصویر، تعمیر، تدبیر اور میر ہے جب کے حرفِ روی “ر” ہے۔

سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا

جس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا

سب کھلا باغ جہاں الا وہ حیران و خفا

جس کو دل سمجھے تھے ہم سو غنچہ تھا تصویر کا

کیونکہ نقاش ازل نے نقش ابرو وا کیا

کام ہے اک تیرے مونہہ پر کھینچنا شمشیر کا

رہ گزر سیل حوادث کا ہے بے بنیاد دہر

اس خرابے میں نہ کرنا فکر تم تعمیر کا

بس طبیب اٹھ جا مری بالیں سے مت دے درد سر

کام یاں آخر ہوا اب فائدہ تدبیر کا

کس طرح سے مانیے یارو کہ یہ عاشق نہیں

رنگ اڑجاتا ہے ٹک چہرہ تو دیکھو میرؔ کا

انیسویں غزل

اس غزل کے انتخاب میں تین اشعار ہیں۔ اس میں ردیف “تھا” ہے اور قافیہ؛ حباب، الحساب اور خواب ہے جب کے حرفِ روی “ب” ہے۔

موجیں کرے ہے بحر جہاں میں ابھی تو تو

جانے گا بعد مرگ کہ عالم حباب تھا

اگتے تھے دست بلبل و دامان گل بہم

صحن چمن نمونہ یوم الحساب تھا

ٹک دیکھ آنکھیں کھول کے اس دم کی حسرتیں

جس دم یہ سوجھے گی کہ یہ عالم بھی خواب تھا

بیسویں غزل

اس غزل کے انتخاب میں پانچ اشعار ہیں۔ اس میں ردیف “کیا” ہے اور قافیہ؛ قیاس، یاس، روشناس، بے حواس، التماس اور اداس ہے جب کے حرفِ روی “س” ہے۔

گل کو محبوب میں قیاس کیا

فرق نکلا بہت جو یاس کیا

دل نے ہم کو مثال آئینہ

ایک عالم کا روشناس کیا

کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اس بن

شوق نے ہم کو بے حواس کیا

صبح تک شمع سر کو دھنتی رہی

کیا پتنگے نے التماس کیا

ایسے وحشی کہاں ہیں اے خوباں

میرؔ کو تم عبث اداس کیا

*****

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Enable Notifications OK No thanks