نظیر اکبرآبادی : حیات و خدمات

نظیر اکبرآبادی

حیات و خدمات

ملّا کہو دبیر کہو آگرے کا ہےعاشق کہو اسیر کہو آگرے کا ہے
شاعر کہو نظیرؔ کہو آگرے کا ہےمفلس کہو فقیر کہو آگرے کا ہے

نظیر اکبرآبادی

نام: ولی محمد

تخلص: نظیر ؔ۔

والد: محمد فاروق

پیدائش: 1735ء دہلی

نظیرؔشہر دہلی میں 1147ھ مطابق 1735ء میں پیدا ہوئے۔(مقدمہ کلیاتِ نظیرؔاکبرآبادی  از اشرف علی لکھنوی ، مرتب عبدالباری آسی و اشرف علی لکھنوی۔ص: 02)

احتشام حسین لکھتے ہیں:۔

“اگر ہم ان کی تاریخ پیدائش 1740 اور 1750 کے درمیان مان لیں تو ہمارا کام چل جاتا ہے۔” (احتشام حسین ۔نظیراکبرآبادی اور عوام مشمولہ تنقیدی جائزے ۔ص: 177)

نظیر ؔ1740ء کے قریب پیدا ہوئے تھے ۔( احتشام حسین ۔نظیر اکبرآبادی مشمولہ اردو کی کہانی۔ص: 45)

نظیر اکبرآباد اٹھارہویں صدی کے وسط میں پیدا ہوئے۔(احتشام حسین ۔نظیر اکبرآبادی مشمولہ ذوقِ ادب اور شعور۔ص: 144)

اس کے علاوہ کچھ لوگوں کے مطابق اکبرآبادنانیہال میں ، اور کچھ کے مطابق عظیم آبادمیں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد ملازم تھے۔

واقعہ خاص: نظیرؔ سے پہلے ان کے بارہ بھائی بہن مرچکے تھے۔ جب نظیر پیدا ہوئے تو اُن کے والدنے نظرِ بدسے بچانے کے لیے ان کے ناک اور کان چھید کر ان کا حُلیہ لڑکیوں جیسا بنا دیا تھا۔

دہلی سے اکبرآباد کا سفر:اولاً 1739ء میں نادرشاہ نے محمد شاہ رنگیلا کو تاراج کیا تھا، احمد شاہ ابدالی کے 1748ء سے لے کر 1756 تک تین حملے ہوئے، تو نظیر بائیس ۔ تئیس سال کی عمرمیں ترک وطن کرکے آگرہ میں مٹھائی کے پُل کے پاس رہنے لگے۔

صاحب گلستانِ بے خزاں نے سنِ صغر میں دہلی سےآگرہ منتقلی نقل کیا ہے۔ چار پانچ سال کی عمر میں دہلی سے آگرہ آئے

تعلیم : نظیر کے کلام سے پروفیسر شہبازبسم اللہ خانی سے اور قاعدہ، عم پارہ اور فارسی کی درسی کتابوں کا ذکر کیے ہیں لیکن استاد کا تذکر نہیں کیے ہیں۔اور شاعری میں بھی مشورہ سخن کیا یا نہیں کسی استاد کے آگے زانوئے تلمذ کیا یا نہیں اس کے متعلق تذکرہ نویس خاموش ہیں۔

شاعری: اگر نظیر کی شاعری کی ابتدا بیس سال سے مانی جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے مرزا مظہرؔ، شاہ حاتمؔ، سوداؔ، میرؔ، سوز، قایمؔ، حسرتؔ(استاد جراءت)، رنگینؔ، شاہ نصیرؔ، ممنونؔ، مومنؔ، غالبؔ، ذوقؔ، جراءتؔ، انشاؔ، مصحفیؔ اور ناسخؔ سب کا زمانہ دیکھا ہے۔

زبان: نظیر آٹھ زبانوں، عربی ، فارسی، اُردو، پنجابی، برج بھاشا، ماڑواڑی، پوربی اور ہندی جانتے تھے۔

شادی: تہورالنسا بیگم بنت عبدالرحمٰن خاں چغتائی خلف محمد علی بیگ صوبہ دار برہان پور سے نکاح کیا۔

اولاد: ایک صاحبزادہ خلیفہ سید گلزار اسیرؔ اور ایک دختر امامی بیگم تھیں اور نواسی ولایتی بیگم کے بدولت ہی نظیر کی زندگی کے حالات دنیا تک پہنچے ہیں۔

ملازمت: انہوں نے عمر کا بڑا حصّہ تدریس میں صرف کیا،کچھ روز متھرا گئے، پھر قلعہ دار مرہٹہ “بہاؤ” نے بلاکر پڑھنا شروع کیا، اس کے بعد نواب محمد علی خاں امرائے آگرہ کے لڑکوں کو پڑھانے لگے وہیں لالہ بلاس رائے کھتری سے روابط بڑھے اور نواب سے جدا ہوکر رائے صاحب کے لڑکوں کو پڑھانا شروع کیے اور رائے صاحب نے ان کی مکمل ضروریات کی کفالت  اپنے ذمہ لی۔رائے صاحب کے چھ لڑکے تھے۔آخر عمر میں راجہ بلوان سنگھ والی کاشی کی سرکار سے تعلق ہوگیا تھا۔

نواب واجد علی شاہ نے شہرت سن کر ایک قاصد مع روپیہ کے طلبی کے لیے بھیجا ، لیکن وہ پیسہ واپس کر دئیے اور لکھنؤ نہ گئے۔

یہ بات شہبازؔ صاحب نے مجید حسین کاتب مفید عام کے حوالہ سے کہاہے، فرحت اللہ بیگ نے بھی دیوانِ نظیر کے مقدمے میں لکھا ہے:۔

“واجد علی شاہ نے بلایا نہیں گئے۔ راجہ بھرت پور نے بلایا نہیں گئے۔”

اس سلسلے میں علی احمد فاطمی صاحب نے لکھا ہے:۔

“یہ بات تو سراسر بے بنیاد ہے۔۔۔واجد علی شاہ 1846ء میں تخت نشین ہوئےیعنی نظیر کے انتقال کے تقریباً سولہ برس بعد۔”(نظیراکبرآبادی، علی احمد فاطمی۔ ص: 61)

میاں نظیرؔ کے نواس داماد داروغہ نوازش علی کا کہنا ہے کہ مہاراجہ چندولال وزیر اعظم حیدرآباد نے بھی بلایاتھا مگر نہیں گئے۔

شاگرد:ان کی فہرست لمبی ہے ان میں سے حکیم میر قطب الدین باطنؔ مؤلف تذکرہ گلستان بے خزاں، شیخ مداری ضمیرؔ ، گلزارعلی اسیرؔ(نظیر کے صاحبزادے)، مہاراجہ بلونت سنگھ، راجہ لالہ بدھ سین صافیؔ، حکیم میرمحمدی ظاہر، شیخ حسین بخش بخشیؔ، شیخ نبی بخش عاشقؔ، منشی حسین علی خاں لہجہؔ، بیدار بخش لہرؔ وغیرہ قابل ذکر ہیں، صاحب گلستان بے خزاں نے مرزا غالبؔ کو بھی ان کی شاگردوں میں شامل کیا ہے، لیکن یہ چیز پایہ ء ثبوت کو نہیں پہنچی ہے۔

تصانیف

مشہور فرانسیسی محقق گارسان دتاسی کے مطابق نظیرؔ کا سب سے پہلا دیوان 1820ء میں بیالیس صفحات پر مشتمل لیتھو کے ذریعہ ناگری حروف میں شائع ہوا تھااس کے بعد 1850ء خط نستعلیق میں ایک مجموعہ آگرہ سے شائع ہواجسے خود نظیرؔ نے مرتب کیا تھا، اس پر ان کی قلمی تصویر بھی تھی، لیکن شہباز صاحب کو کافی تلاش و جستجو کے  باوجود یہ نہ مل سکے، مرزا فرحت اللہ بیگ چغتائی کو یہ دنوں مجموعے آغا حیدر حسن دہلوی پروفیسرنظام کالج حیدرآباد کے یہاں مل گئے جو انھوں نے اپنے نانا عبدالرحمٰن خاں احسانؔ دہلوی کے کتب خانہ سے 1857ء میں حاصل کیا تھا۔

ان دونوں مجموعوں کے علاوہ سات ہزار اشعار پر مشتمل ایک اور کلیات ہے جو نظیرؔ کےشاگرد بلاس رائے کے لڑکوں کے اہتمام سے شائع ہوا تھا،اُسی کو مطبع الٰہی کمبوہ دروازہ میرٹھ نے شائع کردیا، وہی دیوان1282ھ میں مطبع احمدی چار سو دروازہ میرٹھ سے شائع ہوا، ان دونوں نسخہ کو سامنے رکھ کرفحش اور متبذل کلام کو نکال کر مطبع نول کشور نے شائع کیا، پھر مولوی عبدالغفور صاحب شہباز نے بڑی تلاش و تحقیق کے بعد ایک کلیات مطبع نول کشور کے اہتمام سے 1900ء میں شائع کرایا اورایک سوانح عمری مع نمونہ کلام کے بنام “زندگانئ بے نظیر” مرتب کرکے اسی مطبع سے شائع کیا۔

سید محمدمحمود رضوی مخمور اکبرآبادی نے نظیر کے کلام کا انتخاب “روحِ نظیر “پہلی مرتبہ 1922 میں شائع کیا تھا جس میں صرف چالیس نظمیں شامل تھیں۔دیباچہ میں انھوں نے لکھا ہے:

” نظیر کا کلام ایک ذخّار سمندر ہے جس میں ہر قسم کے موتی بیحد وبے شمار دستیاب ہوتے ہیں۔ اس لیے انتخاب کرنے والے کو بہت زیادہ گنجائش ہے۔”

مرزا فرحت اللہ بیگ نے ان دونوں سے استفادہ کرکے 1942 میں “دیوان نظیر “مرتب کرکے انجمن ترقی اردو ہند کے زیر اہتمام شائع کیا۔

کلیات نظیر مرتب و محشی: مولانا عبدالباری آسی، و مولوی اشرف علی لکھنوی: 1950

کئی انتخاب شائع ہوئے ہیں ان میں سے ایک انتخاب منظومات نظیر اکبرآبادی مرتبہ مسعود حسین خاں ہے جو اترپردیش اردو اکادمی سے 1988 میں شائع ہوا۔

اس کلیات کے علاوہ نظیر کے تین مکمل دیوان اور تھےدو اردو میں تیسرا فارسی میں ۔

فارسی نثر میں بھی نظیرؔ نے نو کتابیں لکھی ہیں لیکن ان میں سے ایک بھی طبع نہیں ہوئی باطنؔ کے ان کتابوں کے نام1۔ نرمی گزیں، 2۔قدرِ متین، 3۔ فہم قرین، 4۔ بزم عیش، 5۔ رعنا زیبا، 6۔ حسن بازار، 7۔طرز تقریر، وغیرہ، اس میں سےپانچ کتابیں پروفیسر شہباز کو دستیاب ہوئیں، ان میں سب سے بہتر بزمِ عیش جس میں آگرے کے میلوں کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔طرز تقریر میں انھوں نے صرف یہ بتایا ہے کہ معشوقوں سے چھیڑ چھاڑ کیوں کر کی جاتی ہے۔قدرِ متین نظیرؔ کے فارسی خطوط کا مجموعہ ہے۔ جو زیادہ تر انشاء کی حیثیت سے لکھے گئے ہیں۔فہم قریں دستور الصبیان کی مختصر سی کتاب ہے اور اس میں مبتدیوں کے لیے آسان عام فہم عبارت میں رقعات لکھے گئے ہیں۔

وفات: آخر عمر میں مرض فالج میں مبتلا ہوگئے تھے اور اسی مرض میں بہت کبر سنی کی حالت میں 26 صفر 1246ھ مطابق یکم /16اگست 1830ء کو ان کا انتقال ہوا تو شیعہ ، سنّی دونوں نے اپنے اپنے طریقے پر علیحدہ علیحدہ ان کی نماز جنازہ پڑھی۔

اقوال

اقوال

احتشام حسین:۔

جس طرح ایک چمن میں طرح طرح کے پھول ہوتے ہیں اور اپنی اپنی بہار الگ الگ رکھتے ہوئے سب مِل کر چمن کی رونق بڑھاتے ہیں، اِسی طرح اردو شاعری کے گُلزار میں بھی رنگ رنگ کے پھول کھلے، جن کی خوشبوٗاس وقت تک پھیلی ہوتی ہے، اُنھیں میں سے ایک نظیر اکبرآبادی تھے جو اپنے رنگ میں یکتا ہیں۔(احتشام حسین۔ نظیر اکبرآبادی مشمولہ اردو کی کہانی۔ص:44)

ایسے ہی ایک شاعر نظیرؔ اکبرآبادی ہیں جو اپنا کوئی مثل نہیں رکھتے۔ (احتشام حسین۔نظیر اکبرآبادی اور ایک خاص روایت کا ارتقا مشمولہ اردو ادب کی تنقیدی تاریخ۔ ص: 135)

مجنوں گورکھپوری نے “نظیر اکبر آبادی اور اُردو شاعری میں واقعیت وجمہوریت کا آغاز”میں لکھا ہے:

نظیر پہلے شاعر تھے جن کو میں نے زمین پر کھڑے ہوئے زمین کی چیزوں کے متعلق بات چیت کرتے ہوئے پایا اور پہلی مرتبہ میں نے یہ محسوس کیا کہ شاعری کا تعلق روئے زمین سے بھی ہے۔ یہ احساس کبھی میرے دل سے گیا نہیں،

نظیر کو پڑھتے سب تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن جب ان کو کوئی مرتبہ دینے کا موقع آتا ہے تو سب اس طرح خاموش ہو جاتے ہیں یا زیر لب کچھ کہہ کے رہ جاتے ہیں، جیسے نظیر کا نام لینا آداب مجلس کے خلاف ہو۔

یہ توسب محسوس کرتے رہے ہیں کہ اردو شاعری میں نظیر ایک نئی قوت اور ایک نیا امکان ہیں، مگر کوئی اس کا اعتراف کرنا نہیں چاہتا۔

حقیقت یہ ہے کہ نظیر نے اردو شاعری میں اس بغاوت اور انقلاب کی بنیاد ڈالی جس سے ہمارے شاعر اور ادیب آج تک موانست اور مساوات نہیں پیدا کر سکے ہیں۔

شیفتہ ان کی شاعری کا ذکرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’اس کے بہت اشعار ہیں جو سو قیوں کی زبان پرجاری ہیں اوران اشعار پر نظر رکھتے ہوئے ان کو شعراء کی تعداد میں شمار نہ کرنا چاہئے۔ (ترجمہ از’’گلشن بے خار‘‘)

ڈاکٹر فیلن اپنی لغات ا نگریزی میں لکھتے ہیں کہ صرف یہی ایک شاعر ہے جس کی شاعری اہل فرنگ کے نصاب کے مطابق سچی شاعری ہے۔ مگر ہندوستان کی لفظ پرستی اس کو سرے سے شاعرہی تسلیم نہیں کرتی۔  (بحوالہ مقدمہ دیوان نظیر۔ فرحت اللہ بیگ ،ص:14)

مسعود حسین خاں

نظیرایک دل چسپ، انوکھا اور منفرد شاعر ہے لیکن عظیم شاعر نہیں۔ البتّہ وہ ایک نئی طرز اور نظم جدید کا نقیب کہا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔اس نے دولاکھ سے اوپر اشعار لکھے لیکن اس کی لاپرواہی کی وجہ سے اس میں سے بہت کم سرمایہ محفوظ رہ سکا۔

نظیرؔ نہ دہلوی ہے اور نہ لکھنوی، وہ اپنی ذات سے خود ایک دبستان ہے اور اس لحاظ سے اردو تاریخِ شعر کی ایک منفرد آواز۔           مقدمہ انتخاب منظومات ِ نظیر۔ مسعود حسین خاں، ص: 8-9)

نصاب میں شامل نظیر اکبرآبادی کی نظمیں

مفلسی

آدمی نامہ

بنجارہ نامہ

کتابیات

نظیر اکبرآبادی اور ایک خاص روایت کا ارتقا  مشمولہ اردو ادب کی تنقیدی تاریخ: احتشام حسین

نظیر اکبرآبادی مشمولہ اردو کی کہانی: احتشام حسین

نظیراکبرآبادی اور عوام مشمولہ تنقید جائزے: احتشام حسین

ضمیمہ مشمولہ اردو شاعری پر ایک نظر: کلیم الدین احمد

زندگانی بے نظیر یعنی سوانح عمری نظیر: محمد عبدالغفورصاحب شہباز

روحِ نظیر: سیّد محمد محمود رضوی مخمور اکبرآبادی

دیوانِ نظیر اکبرآباد مرتبہ فرحت اللہ بیگ

کلیاتِ نظیرؔاکبرآبادی  مرتب عبدالباری آسی و اشرف علی لکھنوی

نظیرؔکاویہ سنگرہ: میکش اکبرآبادی

آپ یہاں تک پڑھ لیے تو اب دوسروں تک تو پہنچا دیں۔

*****

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Enable Notifications OK No thanks