Mir Taqi Mir : Hayat-O-Khidmaat

میر تقی میرؔ:حیات و خدمات

Mir Taqi Mir : Hayat-O-Khidmaat

دل کس طرح نہ کھینچیں اشعار ریختہ کے

بہتر کیا ہے میں نے اس عیب کو ہنر سے

(میرؔ)

یہ پڑھنے کے بجائے آپ سن بھی سکتے ہیں سننے کے لیے کلک کریں

شجرہ خاندانِ میر

وطن: ناموافق حالات سے تنگ آکرملک حجازکا ایک خاندان ہجرت کرکےدکن پہنچااور کچھ عرصہ وہاں قیام کرکےاحمدآباد آگیا۔ اس خاندان کے کچھ افرادتو وہیں آباد ہوگئے اور کچھ تلاشِ معاش میں مغلوں کے دارالحکومت اکبرآبادآگئے۔ انھی میں میر کے جدِ اعلی بھی تھے۔ اکبر آباد کی آب و ہوا انھیں راس نہ آئی اور وہ انتقال کر گئے۔ انھوں نے ایک لڑکا چھوڑا جو میر کے دادا تھے۔ تلاش و جستجو کے بعد میر کے دادا کو نواحِ اکبرآبادمیں فوج داری کی ملازمت مل گئی وہ بھی پچاس سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ان کے دو  لڑکے تھے ۔ ایک جوانی میں خللِ دماغ سے مرگئے اور دوسرے بیٹے محمد علی تھے۔

والد: محمد علی انھوں نے شاہ کلیم اللہ اکبرآبادی سے علومِ متداولہ کی تحصیل کرکے درویشی اختیار کرلی اور اپنے زہد وتقویٰ کی وجہ سے علی متقی کے خطاب سے موسوم ہوئے۔ان کی پہلی شادی سراج الدین علی خان آرزوؔ کی بڑی بہن سے ہوئی جن  کے بطن سے ایک بیٹا تھا جس کا نام محمد حسن تھا۔ دوسری بیوی کے بطن سے دو بیٹے محمد تقی اور محمد رضی اور ایک بیٹی پیدا ہوئے۔

نام: محمد تقی

تخلص : میؔر

ولادت:1722 -23آگرہ، اکبرآباد

علی متقی اپنے بیٹے محمد تقی کو عشق کرنے کا مشورہ دیتے تھے۔ کہا کرتے تھے کہ عشق کرو عشق کیوں کہ دنیامیں عشق کے سوا کچھ نہیں۔

ان کی عمر ابھی گیارہ برس کی بھی نہ ہوئی تھی کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور منھ بولے چچا امان اللہ نے   دنیا کو خیر باد کہہ دیا اب یہ بالکل بے سہارا رہ گئے۔ سوتیلے بھائی حافظ محمد حسن بھی باپ کے مرتے ہی آنکھیں پھیر لیں۔

دہلی کا پہلا سفر

آخر کا رناچارہوکر 1147ھ بمطابق 1734-35 میں شاہجہاں آباد کے لے روانہ ہوئے، کچھ عرصے بعد دہلی میں محمد باسط نے ان کی ملاقات اپنے چچا صمصام الدولہ سے کرائی جنہوں نے ان کا ایک روپیہ وظیفہ مقرر کردیا۔ یہ وظیفہ ان کو 1151ھ بمطابق 1739ء تک ملتا رہا، لیکن صمصام الدولہ نادرشاہ سے جنگ میں زخمی ہوئے اور 19ذی قعدہ 1151ھ بمطابق 18 فروری 1739ء  کو فوت ہوگئے تو یہ وظیفہ بند ہوگیا۔

دہلی کا دوسرا سفر

میر ناچار ہو کر دوسری بار دلی پہنچےاور اپنے سوتیلے ماموں سراج الدین علی خان آرزو کے ہاں ٹھہرے، اس وقت ان کی عمر سترہ سال تھی۔ آرزو کے ہاں میرؔ     تقریباً سات سال رہے جس سے وہ بعد میں منکر ہوگئے اور “ذکر میر” میں صرف اتنا لکھا کہ “کچھ دن ان کے پاس رہا۔” 1160ھ بمطابق1747ء تک وہ خان آرزو کے ہاں مقیم تھے۔

تعلیم

انھوں نے خان آرزو سے کسبِ فیض کیا (جمیل جالبی) میر جعفر نامی ایک صاحب سے اتفاقاً ملاقات ہوگئی اور انھوں نے بڑی عنایت اور دل سوزی سے مجھے پڑھانا شروع کیا اچانک ایک روز ان کے وطن عظیم آباد سے خط آیا اور وہ ادھر چلے گئے۔ کچھ دنوں بعد سعادت علی سے جو امروہے کے سیّد تھے ، ملاقات ہوگئی ، انھوں نے مجھے ریختے میں شعر موزوں کرنے کی ترغیب دی، میں نے جان توڑ کے محنت کی اور ایسی مشق بہم پہنچائی کہ میں شعر کے موزوں گویوں میں مستند سمجھا جانے لگا۔

لکھنؤ کا سفر

آصف الدولہ کے کہنے پر ان کے ماموں نواب سالار جنگ نے میؔر کو لکھنؤ مدعو کیا، مؔیر دلی سےفرخ آباد پہنچے وہاں رئیس فرخ آباد مظفر جنگ نے انھیں روکا لیکن وہ نہ رکے،میؔر نواب آصف الدولہ کی خدمت میں قصیدہ پیش کیے اور ملازم ہوگئے۔ انھیں تین سو روپے ماہوار مقرر کیے۔ میر 1782میں لکھنؤ پہنچے ۔

اولاد : دو بیٹے اور ایک بیٹی

علالت و وفات

قولنج کا عارضہ بہت دنوں سے تھا جب یہ درد برداشت سے باہر ہو ا تو مسہل دیا گیالیکن مسہل دینا ہی غضب کیا، آخر جمعہ 20 شعبان 1225ھ بمطابق 20 ستمبر 1810ء کو شام کے وقت لکھنؤ کے محلّہ سٹھی میں انتقال کیا۔ اگلے دن دوپہر گئے قبرستان اکھاڑ ا بھیم میں دفن کیے گئے ۔ وہ جگہ اب ریلوے لائن میں آگئی ہے اور اس کا نشان قطعاً محوہوگیا ہے۔

میر کی وفات پر مصحفؔی نے یہ شعر کہا:۔

ازسر درد مصحفؔی نے کہا :: حق میں اس کے “موا نظیری آج “(1225ھ)

اور ناسؔخ نے “واویلا ، مرد شہِشاعراں” سے سالِ وفات 1225ھ نکلا۔

تصانیف

الف: اردو

کلیات میر

اردو نثر میں میؔر کالکھا ہوا کوئی ایک فقرہ بھی نہیں ملتا۔ البتہ انھوں نے اردو نظم کی مختلف اصناف خصوصاً غزل میں لازوال سرمایہ یادگار چھوڑا ہے۔

اس میں چھ دواوین شامل ہیں جن میں غزلیات اور مثنویوں کے ساتھ ساتھ اس عہد میں مروّج کم وبیش تمام اصناف سخن فردیات، رباعیات، مربع، مسدس، مخمس، ترجیع بند ، ترکیب بند، مثلث، شہر آشوب ، مرثیے ، قصائد ، واسوخت، ہجویات، ساقی نامہ، قطعات وغیرہ موجود ہیں۔

یہ کلیات فورٹ ولیم کالج کلکتہ سے 1811ء میں کاظم علی جوان وغیرہ کی تصحیح و نظر ثانی کے بعد شائع ہوا تھا۔

دوسرا نسخہ1867ء میں نولکشور پریس سے بغیر حاشیہ کے چھپاتھا۔

دیوان:6

1۔ دیوانِ اول: 560 غزلیں اور 4282 اشعار

دیوان دوم: 390 غزلیں؛ 3416اشعار

دیوان سوم: 253 غزلیں ؛ 1832 اشعار

دیوان چہارم: 219 غزلیں: 1311اشعار

دیوان پنجم: 258غزلیں؛ 1642اشعار

دیوان ششم : 132غزلیں ؛ 1095اشعار

نثار احمد فاروقی : کلیات میر میں مکمل1818غزلیں 13585اشعار شامل ہیں۔

مظفر حنفی کے مطابق 1916 غزلیں شامل ہیں جن کے اشعار کی تعداد 13908ہے۔

دوسری اصناف:

مثنویاں:36+2

نثار احمد فاروقی نے لکھ رکھا ہے کہ میر نے تقریباً 36 مثنویاں لکھیں۔ یہ اان کی کلیات میں شامل ہیں۔ دو مثنویاں بعد میں دریافت ہوئیں۔ ان میں سے چند اہم مثنویاں یہ ہیں:

خواب و خیال

دریائے عشق                                           

معاملاتِ عشق

مثنوی شعلہ ء عشق

دربیان کد خدائی آصف الدولہ                      

مثنوی در جشن ہولی

درتعریف سگ و گربہ

در ہجو خانہ ء خود

در ہجو موسمِ برسات

مثنوی اژدرنامہ

در ہجو اکول

مظفر حنفی کے مطابق 37 مثنویاں

جن میں نو عشقیہ، تیرہ واقعاتی، تین مدحیہ اور بارہ ہجویہ مثنویاں ہیں۔

قصائد:    7

کلیاتِ میں سات قصیدے ہیں۔ تین قصیدے حضرت علی کے ، ایک قصیدہ حضرت امام حسین کے ، ایک بادشاہ وقت شاہ عالم کے ،اوردوقصیدے نواب آصف الدولہ کے شان میں ہیں۔

مراثی میر:

میرؔ      کے مرثیوں کا ایک مجموعہ ڈاکٹر مسیح الزماں نے اپنے مقدمہ و تعارف کے ساتھ چھاپاہے۔

ب۔ فارسی نثر

تذکرہ نکات الشعراء

فارسی نثرمیں ریختہ ( اردو) کے شعرا کا مختصر حال اور انتخاب کلام درج کیا۔ اس کی تالیف 1164ھ -1168ھ بمطابق1751ء -1755ء کے درمیان ہوئی ۔ یہ پہلی بار 1929ء میں انجمن ترقی اردو اورنگ آباد نے نواب صدریارجنگ حبیب الرحمٰن خا ں شیروانی کے مقدمے کے ساتھ شائع کیا تھا۔ پھر مولوی عبدالحق کے مقدمہ کے ساتھ 1936ء میں انجمن سے دوبارہ چھپا۔

ذکرِ میرؔ

فارسی زبان میں خود نوشت سوانح عمری ہے۔یہ کتاب پچاس سال کے واقعات کا احاطہ کرتی ہے یعنی مارچ 1739ء میں حملہ نادرشاہ سے لے کر مارچ 1789ء میں غلام قادر روہیلہ کے قلعہ دہلی پر تسلّط اور پھر اس کی گرفتاری اور قتل کے بیان پر ختم ہوتی ہے۔اس کتاب کے صرف 4-5 قلمی نسخے دستیاب ہیں۔ اس کا اردو میں خلاصہ کرکے سہ ماہی رسالہ اردو میں مولوی عبدالحق نے چھاپاتھا۔ پھر ان کے مقدمہ کے ساتھ فارسی متن 1929ء میں چھپا۔ یہ صرف دو نسخوں سے تیارکیا گیا تھا۔

نثار احمد فاروقی نے اردو میں پہلی بار پوری کتاب کو منتقل کیا اور یہ”میر کی آپ بیتی ” کے نام سے 1957ء میں مکتبہ برہان دہلی نے شائع کی۔

فیض میر

میرؔ نے اپنے بیٹے  فیض علی کی تعلیم کے لیے ایک رسالہ فارسی نثر میں لکھا تھا۔جس میں بعض حکایات درج کی ہیں۔پروفیسر مسعود حسن رضوی نے اسے مرتب کیا اور ایک عالمانہ مقدمہ کے ساتھ ادبستان لکھنو سے چھاپا۔

قصّہ دریائے عشق (نثر)

میر نے اپنی اردو مثنوی دریائے عشق کو فارسی نثرمیں بھی لکھا تھاجو مدتوں ناپید رہا، مولوی امتیاز علی عرشی رامپوری نے ایک مختصر تعارف کے ساتھ پہلی دفعہ دلّی کالج اردو میگزین کے میؔرنمبر 1963ء میں شائع کروایا تھا۔

دیوان فارسی

فارسی نظم میں ایک دیوان موجود ہے۔

انتخاب کلام میر: مولوی عبدالحق

جہاں سے دیکھئے یک شعر شور انگیز نکلے ہے

قیامت کا سا ہنگامہ ہے ہر جا میرے دیواں میں

میر تقی میر ؔ سرتاج شعرائے اردو ہیں۔ ان کا کلام اسی ذوق و شوق سے پڑھا جائے گا جیسے سعدیؔ  کاکلام فارسی زبان میں۔

میرؔ صاحب کی شاعری میں الفاظ کا درست استعمال اور ان کی خاص ترتیب و ترکیب زبان میں موسیقی پیدا کردیتی ہے۔ اس کے ساتھ اگر سادگی اور پیرایہ بیان بھی عمدہ ہو تو شعر کا رتبہ بہت بلند ہوجاتا ہے۔ میرؔ صاحب کے کلام میں یہ سب خوبیاں موجود ہیں اور اس کے ساتھ ہی ان کا کلام ایسا درد بھرا ہوا ہے کہ اس کے پڑھنے سے دل پر چوٹ سی لگتی ہے جو لطف سے خالی نہیں ہوتی۔

مولوی عبدالحق نے 1921ء میں میر تقی میؔر کے کلام کا انتخاب مرتب کیا اور اسے ’’انتخاب کلام میر‘‘ کے نام سے طبع کرایا۔ اس میں152  صفحات پر مشتمل کلام اور 40  صفحات کا مقدمہ ہے مقدمے میں میؔر کے ذاتی احوال کے علاوہ ادب میں ان کا مرتبہ و مقام متعین کیا ہے۔ مولوی عبدالحق کا خیال ہے:

’’کسی شاعر کے کلام پر اس کی طبیعت اور سیرت کا اس قدر اثر نہ پڑا ہو گا جتنا میر کے کلام میں نظر آتا ہے۔‘‘

اور اس نظریہ کی بنیاد پر مولوی عبدالحق نے میر تقی میرؔ   کے مخفی اور ظاہر حالات زندگی، ان کے خاندان و وطن، ان کی دلی میں آمد اور خان آرزو سے تعلقات ان کی پریشان حالی، دلی کی بربادی پر لکھنو کی طرف ہجرت اور وہاں کے روز و شب اور میؔر کی آشفتہ مزاجی وغیرہ کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔مرتب نے ابتدا غزلیات سے کی ہے اور ان کی ردیف کے اعتبار سے ترتیب دیا ہے اس کے بعد قطعات، رباعیات اور مستزاد ہندی ہیں۔ مخمسات میں مخمس در شہر گاما گفتہ شدہ اور شہر آشوب ہے، اور مثنویات میں جھوٹ، گھر کا حال، در ہجو خانہ خود، جوش عشق دنیا، مناجات در تعریف عشق اور خواب و خیال شامل ہیں۔

مولوی عبدالحق نے میر تقی میؔر کے بعض اردو اشعار کا شیخ سعدی کے ایسے فارسی اشعار سے موازنہ کیا ہے جو موضوع یا مفہوم کے اعتبار سے مماثلت رکھتے ہیں اور میر تقی میؔر کے کلام پر مجموعی تنقیدی نگاہ ڈالتے ہوئے لکھا ہے:

 ’’میؔر صاحب کی رباعیات میں کچھ کم لطف نہیں اور بعض تو بہت اچھی ہیں ان کے علاوہ متفرق مخمس، مستزاد اور فرد وغیرہ ہیں۔ لیکن میؔر کا اصل رنگ غزل میں ہی پایا جاتا ہے اور اس میں ان کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔‘‘

یہ کتاب 1921ء میں دائرۃ الافادہ حیدر آباد میں سے انجمن ترقی اردو اورنگ آباد نے شائع کرائی تھی۔

میرؔ کی عظمت کا اعتراف اساتذہ کی زبان سے:

سوداؔ:مرزا سوداؔ جو میرؔ صاحب کے ہمعصر اور مدِّ مقابل تھے، کہتے ہیں

سوداؔ     تو اس غزل کو غزل در غزل ہی  کہہ

ہونا ہے تجھ کو میرؔ سے استاد کی طرف

ناسخ:شیخ ناسخؔ جو اپنی تنگ مزاجی اور بد دماغی کے لئے مشہور ہیں، کہتے ہیں

شبہ ناسخؔ نہیں کچھ میرؔ کی استادی میں

آپ بے بہرہ ہے جو معتقدِ میرؔ نہیں

اس کے لئے ناسخؔ نے میرؔ کی تاریخِ وفات کہی:

“واویلا مرد شۂِ شاعراں”

اس میں بھی انہوں نے میرؔ کی عظمت کا اعتراف “شہ شاعراں” کہہ کر کیا ہے۔

غالبؔ:مرزا غالبؔ      ناسخؔ کی اس رائے کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں

غالبؔ اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخؔ

آپ بے بہرہ ہے جو معتقدِ میرؔ نہیں

مرزا غالبؔ دوسری جگہ میرؔ کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں

میرؔ کے شعر کا احوال کہوں کیا غالبؔ

جس کا دیوان کم از گلشن کشمیر نہیں

ذوقؔ:استاد ذوقؔ فرماتے ہیں:۔

نہ ہوا، پر نہ ہوا، میرؔ کا انداز نصیب

ذوقؔیاروں نے بہت زور غزل میں مارا

مصحفیؔ:

اے مصحفیؔ تو اور کہاں شعر کا دعوےٰ

پھبتا ہے یہ اندازِ سخن میرؔ کے منہ پر

شیفتہؔ:

نرالی سب سے ہے اپنی روش اے شیفتہؔ لیکن

کبھی دل میں ہو ائے شیوہ ہائے میرؔ پھرتی ہے

میر مہدی مجروحؔ:

یوں تو ہیں مجروحؔ شاعر سب فصیح

میرؔ کی پر خوش بیانی اور ہے

مولانا حالیؔ:

حالیؔ سخن میں شیفتہؔ سے مستفید ہے

غالبؔ کا معتقد ہے، مقلد ہے میرؔ کا

مرزا داغؔ:

میرؔ کا رنگ برتنا نہیں آساں اے داغؔ

اپنےدیواں سے ملا دیکھیےدیواں ان کا

اکبرؔ الہ آبادی:

میں ہوں کیا چیز جو اس طرز پہ جاؤں اکبرؔ

ناسخؔ  و   ذوقؔ بھی جب چل نہ سکے میرؔ کے ساتھ

مولانا حسرتؔ موہانی:

گذرے ہیں بہت استاد، مگر رنگ اثر میں

بے مثل ہے حسرتؔ سخن میرؔ ابھی تک

شعر میرے بھی ہیں پُر درد، ولیکن حسرتؔ

میرؔ کا شیوۂ گفتار کہاں سے لاؤں

*****

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Enable Notifications OK No thanks