افسانہ (01) اندھے کا خلاصہ

افسانہ "اندھے” کرشن چندرکے افسانوی مجموعہ "ہم وحشی ہیں” میں شامل پہلا افسانہ ہے۔ آپ اس خلاصہ کو پڑھنے کے بجائے سن بھی سکتے ہیں۔

اس افسانے کا آغاز اس جملے سے ہوتا ہے ” چوک بمبئی کے اندر کوچہ پیر جہازی میں صرف دو گھر ہندوؤں کے تھے۔ ایک سہ منزلہ مکان، گلی میں سب سے اونچا اور خوش حال مکان لالہ بانشی رام کھتری کا تھا یہ پنجابی کھتری نہ تھے۔ "۔

اوراس کا اختتام اس جملے پرہوتا ہے” پولیس کی ماں کی اور پولیس کی بہن کی۔ میں اس وقت سیدھا شاہ عالمی جا رہاہوں۔ کسی میں ہمت ہے تو مجھے روک لے۔ اللہ اکبر!” ۔

نچوڑ

کرشن چندر نے اس افسانہ "اندھے”میں تقسیم کے بعد برپافساد کو بیان کیا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہم انسان اندھے ہوتے ہیں انجام سے بے خبر ہوکر دوسرے پر ظلم کرتے ہیں اوراس کے نتیجہ میں اس کا اثر ہمارے گھر پر بھی ہوتا ہے، جیسے راوی اور اس کے رشتہ دار دوسروں  کے گھر کو جلانے اور لوٹنے نہیں گئے ہوتے تو اپنے گھر اور گھر والوں کی حفاظت کرلیتے۔راحت اندوری کا شعر مناسب معلوم ہوتا ہے          ؎۔

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

خلاصہ

راوی جو مسلمان چمار ہے اس نے سب سے پہلے چوک بمبئی کے اِندرکوچہ پیر جہازی کے رہائشیوں کی تفصیل بیان کی ہے کہ وہاں صرف دو ہندوؤں لالہ بانشی رام کھتری اور رام نرائن برہمن کے گھر تھے۔ لالہ بانشی رام کا مکان سہ منزلہ ، اورگلی میں سب سے اونچا اور خوش حال تھا۔اور رام نرائن برہمن کا گھر راوی کے گھر کے سامنے تھا، اس کی ماں لڑاکا عورت تھی جب کہ رام نرائن خود  شریف برہمن تھا، اس کے تین بچے اسکول جاتے تھے، اور چوتھا لڑکاایک سال کا تھا۔

راوی آگے بتاتا ہے کہ فساد شروع ہونے پر صلح کمیٹی بنی جس میں رام نرائن اور لالہ بانشی رام کھتری شریک ہوئے اور مسلمان کی طرف سے مسجد کے ملاجی اور لکڑیوں کے ٹال کے مالک فتح محمدبھیجے گئے ، اور چوہدری فتح محمد نے ان لوگوں کویقین دلایا، یہ صلح کمیٹی کچھ دنوں کی مہمان تھی، ختم ہوگئی، اور بہار میں مسلمانوں پر ظلم ہوتے ہی راوی، رشید، پھجے موچی، گلے پہلوان اور گلی کے آٹھ دس جوانوں نے ہندوؤں کو مزا چکھانے کا فیصلہ کیا جس پر مسجد کے ملا نے برا بھلا بھی کہا۔ یہ لوگ ظاہرا چپ رہے لیکن چپکے چپکے اپنے گھر کی عورتوں کو بھاٹی گیٹ بھیج دیئے جہاں ان کو محفوظ تصور کیےاس لیے کہ یہاں شاہ عالمی کا دروازہ قریب تھا جہاں ہندوؤں کا بڑا زور تھا۔

راوی آگے کہتا ہے کہ فساد ہندوؤں کی جانب سے شروع ہوا اور لاہور میں جہاں ہندوؤں کا زور تھا اکے دکے مسلمان مارے جانے لگے تو لاہور کا مسلمان بھی اٹھا اور دو روز میں ان کو نانی یاد دلا دی۔ان کو دیکھ کوچہ پیر جہازی کے نوجوان مسلمان بھی اٹھ کھڑے ہوئے، لالہ بانشی رام کھتری کے مکان جلا کر راکھ کر دیئے۔ راوی کو صرف دو بات کا افسوس ہے کہ وہ اپنی محبوبہ لالہ بانشی رام کھتری کی چھوٹی بیٹی”پشپا” کو نہ بچا سکا اور ان کے نادر اور قیمتی اشیاء زیور اور اناج میں سے کچھ ہاتھ نہ لگا پھر وہ لوگ رام نرائن برہمن کے گھر پر دھاوا بولےاور رام نرائن کو پھجے نے چاقو سے ماردیا اور اس کے چھوٹےلڑکے کو رشید چھرا نکال کر مارنے جانے ہی والاتھا کہ راوی نے روک لیااور کہا کہ اس کو دیکھ مجھے اپنا ننھا یعقوب یاد آ گیا تھا۔ اس کے بعد گھرکا ساز و سامان لوٹےجس میں ڈیڑھ دو ہزار کے زیور، آٹھ سو روپیہ نقد اور کپڑے وغیرہ ملے جو وہ آپس میں تقسیم کر لیے۔ راوی کے حصے میں چھ ریشمی ساڑھیاں، سوتی کپڑے، کانوں کا آویزا، ماتھے کا جھومراور ایک چاندی کاگلاس آیا۔ یہ فسادی کام کرتے ہوئے بھی نعرہ تکبیر بلندکیےاور اپنی اپنی راہ لی۔ گلامتی گیٹ چلا گیا۔ پھجا اکبری منڈی چلا گیا۔ راوی اور رشید بھائی گیٹ کی طرف روانہ ہوئے جہاں داتا کے دربار کے عقب میں انہوں نے اپنے بیوی بچوں کو رکھ چھوڑا تھا۔ چچا نوکے گھر میں۔

جب وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ ہندوؤں کی مہاسبھائی ٹولی نے پیچھے سے حملہ کیا اورنہتی عورتوں اور بچوں کومارااور گھر کو آگ لگا دی۔جس میں راوی کی چچی، بیوی اور سات سال کا لڑکا داؤد اور ایک سالہ یعقوب راکھ ہوگئے جن کے لیے وہ مال لوٹ لایا تھا۔ یعقوب کو بھی سانپ کا بچہ کہہ کر پٹرول چھڑک خاکستر کر دیئے تھے۔

یہ سن کر راوی بوکھلاکر پوچھا کہ محلے میں کوئی مرد نہیں تھاتو جواب ملا کہ وہ سب لوٹ مار کے لئے گئے ہوئے تھے۔ کسے معلوم تھا بزدل ہماری غیر حاضری میں حملہ کریں گے اور وہ بھی یوں۔ نہتی عورتوں پر۔

راوی اس کا بدلہ لینے کی قسم لے کر نکلتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ پولیس آرہی لیکن وہ مذہبی نعرہ "اللہ اکبر” لگا کرنکل پڑتا ہے۔

افسانہ کے کردار

راوی۔ مسلمان چمار

لالہ بانشی رام کھتری

پشپا (پانشی رام کی چھوٹی لڑکی)

رام نرائن برہمن

چوہدری فتح محمد (لکڑیوں کے ٹال کے مالک)

پیراں بخش

رشید

پھجے موچی

گلے پہلوان

نورا (راوی کا چچا)

داؤد (راوی کا بیٹا)

یعقوب  (راوی کا چھوٹا لڑکا)

عائشہ (راوی کی بیوی)

اہم نکات

چوک بمبئی کے اندر کوچہ پیر جہازی میں صرف دو گھر ہندوؤں کے تھے۔ ایک سہ منزلہ مکان، گلی میں سب سے اونچا اور خوش حال مکان لالہ بانشی رام کھتری کا تھا یہ پنجابی کھتری نہ تھے۔ یوپی کے کھتری تھے

لالہ بانشی رام کھتری کی چھوٹی بیٹی پشپا سولہ سترہ برس کی جس سے راوی کا عشق چلتا ہے۔

رام نرائن کی ماں ایک لڑاکا عورت ہےاوررام نرائن خود بے حد شریف برہمن تھا۔

رام نرائن کے تین بچے تھے۔ تینوں اسکول میں پڑھتے تھے۔ چوتھا لڑکا کوئی ایک سال کا ہوگا۔

اور جب فساد شروع ہوا۔ تو شروع شروع میں یہاں صلح کمیٹی بنی۔ اس میں رام نرائن اور لالہ بانشی رام کھتری بھی شریک تھے۔ہم لوگ اس جھنجھٹ میں نہیں تھے۔ مسلمان کی طرف سے ہم نے مسجد کے ملا جی اور لکڑیوں کے ٹال کے مالک فتح محمد کو بھیج دیا تھا۔

لالہ بانشی رام کے دادا ملکھن رام آنریری مجسٹریٹ تھے۔

مسلمانوں نے اپنے گھروں کی عورتوں کو بھاٹی گیٹ بھیج دیا۔

شاہ عالمی کے دروازے میں ہندوؤں کا بڑا زور تھا۔

ہندوؤں نے فساد شروع کیا۔

کوچہ پیر جہازی کے نوجوان مسلمان نے لالہ بانشی رام کھتری کے مکان کو آگ لگا دی۔

رام نرائن برہمن کے گھر میں گھس کر پھجے نے اس کی پیٹھ میں چاقو ماری اور اس کے گھر سے ڈیڑھ دو ہزار کے زیور ملے اور آٹھ سو روپیہ نقد اور کپڑےملے جو وہ آپس میں بانٹ لئے۔

راوی کے حصے میں چھ ریشمی ساڑھیاں آئیں ، اور دوسرے سوتی کپڑے۔ گہنوں میں سے  کانوں کے آویزے اور ماتھے کا جھومر۔ اور ایک چاندی کا گلاس ۔

گلامتی گیٹ چلا گیا۔ پھجا اکبری منڈی چلا گیا۔ راوی اور رشید بھائی گیٹ کی طرف روانہ ہوئے جہاں داتا کے دربار کے عقب میں انہوں نے اپنے بیوی بچوں کو رکھ چھوڑا تھا۔ چچا نورا ہی کے گھر میں۔

کرشن نگر کے ہندوؤں کی مہاسبھائی ٹولی نے داتا کے دربار کی جانب عقب سے حملہ کیا اور آتے ہی آگ لگا دی۔ اورراوی کے چچی، بیوی، اور بیٹے داؤد اور یعقوب کو جلادئیے۔

اہم اقتباس

یوں بھی تو یہ لوگ بہت کمینے تھے۔ مسلمانوں کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ اور ایمان کی بات تو یہ ہے کہ کون کافر ایسا ہے جو مسلمانوں سے دھوکا نہ کرتا ہو۔ یہ تو ان لوگوں کے خمیر میں ہے۔ ہندو مسلمان کا سا دل نہیں رکھتا۔ جس طرح مسلمان صاف اور کھری بات سب کے سامنے کہہ دیتا ہے۔ ہندو تو بس زبان کا میٹھا ہے۔ اندر سے بس بھرا ہے جس نے ہندو بچے  پر اعتبار کیا وہ مرا۔

ایسا آدمی بھی کس کام کا۔ یعنی کسی بات پر لڑے گا ہی نہیں۔ اب جب دوسرا آدمی اس قدر میٹھا ہو تو ہم کس طرح اس سے جھگڑیں۔ اس سے جھگڑنے کو بہت جی چاہتا تھا۔ مگر ہمیشہ طرح دے جاتا۔ مجھے تو ایسے آدمیوں سے سخت کد ہے۔ اب بھئی ایک ہی محلے میں رہتے ہیں۔ کبھی تو برتن ساتھ ساتھ رکھے ہوئے کھڑکھڑا اٹھتے ہیں اور ایک تم ہو کہ کبھی بولتے ہی نہیں۔

یہ ہندو عورتیں کس قدر بےحیا ہوتی ہیں۔ نہ پردہ ، نہ شرم ،  نہ لاج سب کے سامنے چھاتی کھول کے دودھ پلانے لگتی ہیں۔ اپنے بچوں کو ، اور یہ بچے بھی کیا چسر چسر دودھ پیتے ہیں۔

ارے ابھی کل کی بات ہے کہ ہم سارے ہندوستان کے بادشاہ تھے اور یہ دال کھانے والے کافر ہماری جوتیوں تلے لوٹتے تھے اور آج ان کی یہ ہمت ہو گئی۔

پولیس کی ماں کی اور پولیس کی بہن کی۔ میں اس وقت سیدھا شاہ عالمی جا رہاہوں۔ کسی میں ہمت ہے تو مجھے روک لے۔ اللہ اکبر!

ٹھنڈا گوشت میں شامل افسانے

خلاصہ

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!