افسانہ (04) ساڑھے تین آنے

پیش خدمت ہے سعادت حسن منٹو کے مجموعہ “ٹھنڈا گوشت” میں شامل چوتھا افسانہ “ساڑھے تین آنے”۔ پڑھنے کے بجائے سن بھی سکتے ہیں۔

ساڑھے تین آنے

سعادت حسن منٹو

“میں نے قتل کیوں کیا۔ ایک انسان کے خون میں اپنے ہاتھ کیوں رنگے ، یہ ایک لمبی داستان ہے۔ جب تک میں اس کے تمام عواقب وعواطف سے آپ کو آگاہ نہیں کروں گا، آپ کو کچھ پتہ نہیں چلے گا ––مگر اس وقت آپ لوگوں کی گفتگو کا موضوع جرم اور سزا ہے ۔ انسان اور جیل ہے––چونکہ جیل میں رہ چکا ہوں ، اس لئے میری رائے نا درست نہیں ہوسکتی۔ مجھے منٹوصاحب سے پورا اتفاق ہے کہ جیل ،مجرم کی اصلاح نہیں کر سکتی ۔ مگر حقیقت اتنی بار دہرائی جاچکی ہے کہ اس پر زور دینے سے آدمی کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی محفل میں ہزاربارسنایا ہوا لطیفہ بیان کر رہا ہے ––اور یہ لطیفہ نہیں کہ اس حقیقت کو جانتے پہچانتے ہوئے بھی ہزار ہاجیل خانے موجود ہیں۔ہتھکڑیاں ہیں اور وہ ننگ ِانسانیت بیڑیاں ––میں قانون کا یہ زیور پہن چکا ہوں “

یہ کہہ کہ رضوی نے میری طرف دیکھا اورمسکرایا۔ اس کے موٹے موٹے حبشیوں کے سے ہونٹ عجیب انداز میں پھڑ کے۔ اس کی چھوٹی چھوٹی مخمور آنکھیں جو قاتل کی آنکھیں لگتی تھیں چمکیں ۔ ہم سب چونک پڑے تھے ۔ جب اس نے یکا یک ہماری گفتگو میں حصّہ لینا شروع کر دیا تھا۔ وہ ہمارے قریب کرسی پر بیٹھا کریم مِلی ہوئی کو فی پی رہا تھا۔ جب اس نے خود کو متعارف کیا تو ہمیں وہ تمام واقعات یاد آگئے جو اس کی قتل کی واردات سے وابستہ تھے ۔ وعدہ معاف گواہ بن کر اس نے بڑی صفائی سے اپنی اور اپنے دوستوں کی گردن پھانسی کے پھندے سے بچا لی تھی ۔

 وہ اسی دن رہا ہو کہ آیا تھا۔ بڑے شائستہ انداز میں وہ مجھ سے مخاطب ہوا۔ معاف کیجئے گا منٹو صاحب ––آپ لوگوں کی گفتگو سے مجھےدلچسپی ہے ۔ میں ادیب تو نہیں لیکن آپ کی گفتگو کا جو موضوع ہے اس پر اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں کچھ نہ کچھ ضرور کہہ سکتا ہوں۔ ” پھر اس نے کہا ۔” میرا نام صدیق رضوی ہے ––لنڈا بازار میں جو قتل ہوا تھا ، میں اس سے متعلق تھا۔

میں نے اس قتل کے متعلق صرف سرسری طور پر پڑھا تھا۔ لیکن جب رضوی نے اپنا تعارف کرا یا تو میرے ذہن میں خبروں کی تمام سرخیاں ابھر آئیں۔

ہماری گفتگو کا موضوع یہ تھا کہ آیا جیل مجرم کی اصلاح کر سکتی ہے ۔ میں خود محسوس کر رہا تھا۔ ہم ایک باسی روٹی کھا رہے ہیں۔ رضوی نے جب یہ کہا ۔”حقیقت اتنی بار دہرائی جاچکی ہے کہ اس پر زور دینے سے آدمی کو یوں محسوس ہوتا ہے۔ جیسے وہ کسی محفل میں ہزار با رسنا یا ہوا لطیفہ بیان کر رہا ہے ۔” تو مجھے بڑی تسکین ہوئی۔ میں نے سمجھا جیسے رضوی نے میرے خیالات کی ترجمانی کر دی ہے

 کریم ملی ہوئی کوفی کی پیالی ختم کر کے رضوی نے اپنی چھوٹی چھوٹی مخمور آنکھوں سے مجھے دیکھا اور بڑی سنجیدگی سے کہا۔ منٹو صاحب آدمی جرم کیوں کرتا ہے –– جرم کیا ہے ، سزا کیا ہے ––میں نے اس کے متعلق بہت غورکیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ ہر جرم کے پیچھے ایک ہسٹری ہوتی ہے–– زندگی کے واقعات کا ایک بہت بڑا ٹکڑا ہوتا ہے،  بہت الجھا ہوا، ٹیڑھا میڑھا میں نفسیات کا ماہرنہیں ––لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ انسان سے خود جرم سرزد نہیں ہوتا۔ حالات سے ہوتا ہے !!

نصیر نے کہا۔ “آپ نے بالکل درست کہا ہے ۔”

رضوی نے ایک اور کافی کا آرڈر د یا اور نصیر سے کہا ۔”مجھے معلوم نہیں جناب، لیکن میں نے جو کچھ عرض کیا ہے اپنے مشاہدات کی بنا پر عرض کیا ہے ورنہ یہ موضوع بہت پرانا ہے۔ میرا خیال ہے کہ وکٹر ہیوگو ––فرانس کا ایک مشہور ناولسٹ تھا–– شاید کسی اور ملک کا ہو،–– آپ تو خیر جانتے ہی ہوں گے، جرم اور سزا پہ اس نے کافی لکھا ہے–– مجھے اس کی ایک تصنیف کے چند فقرے یا دہیں۔ یہ کہہ کر وہ مجھ سے مخاطب ہوا ۔” منٹو صاحب غالبا آپ ہی کا ترجمہ تھا–– کیا تھا ؟ –– وہ سیڑھی اتار دو جو انسان کو جرائم اور مصائب کی طرف لے جاتی ہے ۔ لیکن میں سوچتا ہوں کہ وہ سیڑھی کون سی ہے۔ اس کے کتنےزینے ہیں،

کچھ بھی ہو ، یہ سیڑھی ضر و رہے ،اس کے زینے بھی ہیں ، لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں بے شمار ہیں، ان کو گنا ، ان کا شمار کرنا ہی بہت بڑی بات ہے –– منٹو صاحب حکومتیں رائے شماری کرتی ہیں حکومتیں اعداد شماری کرتی ہیں ،حکومتیں ہرقسم کی شماری کرتی ہیں –– اس سیڑھی کے زینوں کی شمار ی کیوں نہیں کرتیں –– کیا یہ ان کا فرض نہیں –– میں نے قتل کیا –– لیکن اس سیڑھی کے کتنے زینے طے کر کے کیا –– حکومت نے مجھے وعدہ معاف گواہ بنا لیا ، اس لئے کہ قتل کا ثبوت اس کے پاس نہیں تھا ، لیکن سوال یہ ہے کہ میں اپنے گناہ کی معافی کس سے مانگوں –– وہ حالات جنہوں نے مجھے قتل کرنے پر مجبور کیا تھا۔ اب میرے نزدیک نہیں ہیں ، ان میں اور مجھ میں ایک برس کا فاصلہ ہے ۔ میں اس فا صلے سے معافی مانگوں یا ان حالات سے جو بہت دور کھڑے میرا منہ چڑا رہے ہیں۔

ہم سب رضوی کی باتیں بڑے غور سے سن رہے تھے ۔ وہ بظاہرتعلیم یافتہ معلوم نہیں ہوتا تھا، لیکن اس کی گفتگو سے ثابت ہوا کہ وہ پڑھا لکھا ہے اور بات کرنے کا سلیقہ جانتا ہے میں نے اس سے کچھ کہا ہوتا ، لیکن میں چاہتا تھا کہ وہ باتیں کرتا جائے اور میں سنتا جاؤں۔ اسی لئے میں اس کی گفتگو میں حائل نہ ہوا۔

اس کے لئے نئی کو فی آگئی تھی۔ اسے بنا کر اس نے چند گھونٹ پئے اور کہنا شروع کیا۔ “خدا معلوم میں کیا بکواس کرتا رہا ہوں، لیکن میرے ذہن میں ہروقت ایک آدمی کا خیال رہا ہے –– اس آدمی کا ، اس بھنگی کا جو ہمارے ساتھ جیل میں تھا۔ اس کو ساڑھے تین آنے چوری کرنے پرا یک برس کی سزا ہوئی تھی۔ “

نصیر نے حیرت سے پوچھا۔ صرف ساڑھے تین آنے چوری کرنے پر ؟”

رضوی نے یخ آلود جواب دیا۔ “جی ہاں –– صرف ساڑھے تین آنے کی چوری پر–– اور جو اس کو نصیب نہ ہوئے، کیونکہ وہ پکڑا گیا–– یہ رقم خزانے میں محفوظ ہے اور پھگو بھنگی غیرمحفوظ ہے۔ کیونکہ ہوسکتا ہے وہ پھر پکڑا جائے۔ کیونکہ ہو سکتا ہے اس کا پیٹ پھر اُسے مجبور کرے، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس سے گُو مُوت صاف کرانے والے اس کی تنخواہ نہ دے سکیں، کیونکہ ہوسکتا ہے اس کو تنخواہ دینے والوں کو اپنی تنخواہ نہ ملے –– یہ ہو سکتا ہے کا سلسلہ منٹو صاحب عجیب و غریب ہے ۔ سچ پوچھئے تو دنیا میں سب کچھ ہوسکتا ہے ––رضوی سے قتل بھی ہو سکتا ہے ۔”

 یہ کہہ کر وہ تھوڑے عرصے کے لئے خاموش ہو گیا۔ نصیر نے اس سے کہا۔ “آپ پھگّو بھنگی کی بات کر رہے تھے ؟ “

رضوی نے اپنی چھدری مونچھوں پر سے کو فی رومال کے ساتھ پونچھی ۔جی ہاں––  پھگو بھنگی چور ہونے کے باوجود، یعنی وہ قانون کی نظروں میں چورتھا۔ لیکن ہماری نظروں میں پورا ایماندار –– خدا کی قسم میں نے آج تک اس جیسا ایماندار آدمی نہیں دیکھا ، ساڑھے تین آنے اس نے ضرور چرائے تھے ، اس نے صاف صاف عدالت میں کہہ دیا تھا کہ یہ چوری میں نے ضرور کی ہے ، میں اپنے حق میں کوئی گواہی پیش نہیں کرنا چاہتا –– میں دو دن کا بھوکا تھا مجبوراً مجھے کریم درزی کی جیب میں ہاتھ ڈالنا پڑا۔ اس سے مجھے پانچ روپے لینے تھے ––  دو مہینوں کی تنخواہ –– حضو ر اس کا بھی کچھ قصور نہیں تھا۔ اس لئے کہ اس کے کئی گاہکوں نے اس کی سلائی کے پیسے مارے ہوئےتھے حضور میں پہلے بھی چو ریاں کر چکا ہوں۔ایک دفعہ میں نے دس روپے ایک میم صاحب کے بٹوے سے نکال لئے تھے۔ مجھے ایک مہینے کی سزا ہوئی تھی۔ پھر میں نے ڈپٹی صاحب کے گھر سے چاندی کا ایک کھلونا چرایا تھا اس لئے کہ میرے بچے کو نمونیا تھا اور ڈاکٹر بہت فیس مانگتا تھا–– حضور میں آپ سے جھوٹ نہیں کہتا۔ میں چور نہیں ہوں –– کچھ حالات ہی ایسےتھے کہ مجھے چوریاں کر نی پڑیں –– اور حالات ہی ایسے تھے کہ میں پکڑا گیا–– مجھ سے بڑے بڑے چور موجو دہیں لیکن وہ ابھی تک پکڑے نہیں گئے ۔ حضور اب میرا بچہ بھی نہیں ہے، بیوی بھی نہیں ہے –– لیکن حضور افسوس ہے کہ میراپیٹ ہے ، یہ مرجائے تو سارا جھنجھٹ ہی ختم ہوجائے، حضور مجھے معاف کر دو –– لیکن حضور نے اس کو معاف نہ کیا اور عادی چور سمجھ کر اس کو ایک برس کی قید با مشقت کی سزا دے دی ۔”

رضوئی بڑے بے تکلف انداز میں بول رہا تھا۔ اس میں کوئی تصنع ، کوئی بناوٹ نہیں تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ الفاظ خود بخود اس کی زبان پر آتے اور بہتے چلے جا رہے ہیں۔ میں بالکل خاموش تھا۔ سگرٹ پہ سگرٹ پی رہا تھا اور اس کی باتیں سن رہا تھا۔ نصیر پھر اس سے مخاطب ہوا۔ “آپ پھگّو کی ایمانداری کی بات کر رہے تھے؟”

“جی ہاں۔” رضوی نے جیب سے بیڑی نکال کر سلگائی ۔ “میں نہیں جانتا ۔ قانون کی نگاہوں میں ایما ندار ی کیا چیز ہے ،لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ میں نے بڑی ایمانداری سے قتل کیا تھا–– اور میرا خیال ہے کہ پھگّو بھنگی نے بھی بڑی ایمانداری سے ساڑھے تین آنے چرائے تھے –– میری سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگ ایمانداری کو صرف اچھی باتوں سے کیوں منسوب کرتے ہیں اور سچ پوچھئے تو میں اب یہ سوچنے لگا ہوں کہ اچھائی اور برائی ہے کیا ۔ ایک چیز آپ کے لئے اچھی ہوسکتی ہے میرے لئے بری۔ ایک سوسائٹی میں ایک چیز اچھی سمجھی جاتی ہے دوسری میں بری –– ہمارے مسلمانوں میں بغلوں کے بال بڑھا نا گناہ سمجھا جاتا ہے ، لیکن سکھ اس سے بے نیاز ہیں ، اگر یہ بال بڑھانا واقعی گناہ ہے تو خدا ان کو سزا کیوں نہیں دیتا۔ اگر کوئی خدا ہے تو میری اس سے درخواست ہے کہ خدا کے لئے تم یہ انسانوں کے قوانین توڑ دو، ان کی بنائی ہوئی جیلیں ڈھا دو –– اور آسمانوں پر اپنی جیلیں خود بناؤ ۔خود اپنی عدالت میں ان کو سزا  دو کیونکہ اور کچھ نہیں توکم ازکم خدا تو ہو۔”

رضوی کی اس تقریرنے مجھے بہت متاثر کیا۔ اس کی خام کا ری ہی اصل میں تاثّرکا باعث تھی۔ وہ باتیں کرتا تھا تو یوں لگتا تھا جیسے وہ ہم سے نہیں بلکہ اپنے آپ سے دل ہی دل میں گفتگو کر رہا ہے ۔

اس کی بیڑی بجھ گئی تھی، غالبا اس میں تمبا کو کی گانٹھ اٹکی ہوئی تھی ، اس لئے کہ اس نے پانچ چھ مرتبہ اس کو سلگانے کی کوشش کی ۔جب نہ سلگی تو پھینک دی اور مجھ سے مخاطب ہو کر کہا۔ “منٹوصاحب، پھگّو مجھے اپنی تمام زندگی یاد رہے گا –– آپ کو بتاؤں گا تو آپ ضرور کہیں گے کہ جذباتیت ہے، لیکن خدا کی قسم جذباتیت کو اس میں کوئی دخل نہیں –– وہ میرا دوست نہیں تھا–– نہیں وہ میرا دوست تھا کیونکہ اس نے ہر بار خود کو ایسا ہی ثابت کیا ۔ “

رضوی نے جیب میں سے دوسری بیڑی نکالی مگر وہ ٹوٹی ہوئی تھی ۔ میں نے اسے سگرٹ پیش کیا تو اس نے قبول کر لیا۔ “شکریہ ––منٹوصاحب ، معاف کیجئے گا ، میں نے اتنی بکواس کی ہے حالانکہ مجھے نہیں کرنی چاہیئے تھی اس لئے کہ ماشاء اللہ آپ ––”

میں نے اس کی بات کاٹی ۔رضوی صاحب، میں اس وقت منٹونہیں ہوں صرف سعادت حسن ہوں۔ آپ اپنی گفتگو جاری رکھئے۔ میں بڑی دلچسپی سے سن رہا ہوں“

رضوی مسکرایا ۔ اس کی چھوٹی چھوٹی مخمور آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی۔ آپ کی بڑی نوازش ہے ۔ پھر وہ نصیر سے مخا طب ہوا ۔ میں کیا کہ رہا تھا۔

 میں نے اس سے کہا ۔ “آپ پھگو کی ایمانداری کے متعلق کچھ کہنا چا ہتے تھے۔ “

جی ہاں یہ کہہ کر اس نے میرا پیش کیا ہوا سگرٹ سلگا یا۔ ” منٹو صاحب ، قانون کی نظروں میں وہ عادی چور تھا۔ بیڑیوں کے لئے ایک دفعہ اس نے آٹھ آنے چرائے تھے ۔ بڑی مشکلوں سے ، دیوار پھاند کر جب اس نے بھاگنے کی کوشش کی تھی تو اس کے ٹخنے کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ قریب قریب ایک برس تک وہ اس کا علاج کراتا رہا تھا، مگر جب میرا ہم الزام دوست جرجی بیس بیڑیاں اس کی معرفت بھیجتا تو وہ سب کی سب پولیس کی نظریں بچا کر میرے حوالے کر دیتا ۔ وعدہ معاف گواہوں پر بہت کڑی نگرانی ہوتی ہے ، لیکن جرجی نے پھگو کو اپنا دوست اور ہمراز بنالیا تھا۔ وہ بھنگی تھا، لیکن اس کی فطرت بہت خوشبو دار تھی ۔ شروع شروع میں جب و ہ جرجی کی بیڑیاں لے کر میرے پاس آیا تو میں نے سوچا ، اس حرامزادے چور نے ضرور ان میں سے کچھ غائب کر لی ہوں گی، مگر بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ قطعی طور پرا یماندار تھا–– بیڑی کے لئے اس نے آٹھ آنے چراتے ہوئے اپنے ٹخنے کی ہڈی نڑوالی تھی مگر یہاں جیل میں جہاں اس کو تمبا کو کہیں سے بھی نہیں مل سکتا تھا، وہ جرجی کی دی ہوئی بیڑیاں تمام و کمال میرے حوالے کر دیتاتھا،  جیسے وہ امانت ہوں–– پھر وہ کچھ دیر ہچکچانے کے بعد مجھ سے کہتا، با بوجی ایک بیڑی تو دیجئے اور میں اس کو صرف ایک بیڑی دیتا –– انسان بھی کتنا کمینہ ہے!“

رضوی نے کچھ اس انداز سے اپنا سر جھٹکا جیسے وہ اپنے آپ سے متنفر ہے ۔ جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں مجھ پر بہت کڑی پابندیاں عائد تھیں۔ وعدہ معاف گواہوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے جرجی البتہ میرے مقابلے میں بہت آزاد تھا۔ اس کو رشوت دے دلا کر بہت آسانیاں مہیّا تھیں۔ کپڑے مل جاتے تھے ۔ صا بن مل جاتا تھا ۔ بیڑیاں مل جاتی تھیں جیل کے اندر رشوت دینے کے لئےروپے بھی مل جاتے تھے–– پھگوبھنگی کی سزا ختم ہونے میں صرف چند  دن باقی رہے گئےتھے جب اس نے آخری بارجرجی کی دی ہوئی میں بیڑیاں مجھے لا کر دیں۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا۔ وہ جیل سے نکلنے پر خوش نہیں تھا۔ میں نے جب اس کو مبارکباد دی تو اس نے کہابا بوجی ، میں پھر یہاں آجاؤں گا –– بھوکے انسان کو چوری کرنی ہی پڑتی ہے –– بالکل ایسے ہی جیسے ایک بھوکے انسان کو کھانا کھانا ہی پڑتا ہے –– بابوجی آپ بڑے اچھے ہیں ، مجھے اتنی بیڑیاں دیتے رہے ––  خدا کرے آپ کے سارے دوست بری ہو جائیں۔ جرجی با بو آپ کو بہت چاہتے ہیں۔

نصیر نے یہ سن کر غالبا اپنے آپ سے کہا۔ اور اس کو صرف ساڑھے تین آنے چرانے کے جرم میں سزاملی تھی ۔

رضوی نے گرم کوفی کا ایک گھونٹ پی کر ٹھنڈے انداز میں کہا ۔ “جی ہاں صرف ساڑھے تین آنے چرانے کے جرم میں –– اور وہ بھی خزانے میں جمع ہیں –– خدا معلوم ان سے کس پیٹ کی آگ بجھے گی !“ رضوی نے کوفی کا ایک اور گھونٹ پیا اور مجھ سے مخاطب ہو کر کہا۔ ”ہاں منٹوصاحب، اس کی رہائی میں صرف ایک دن رہ گیا تھا۔ مجھے دس روپوں کی اشد ضرورت تھی ۔ میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ مجھے یہ روپے ایک سلسلے میں سنتری کو رشوت کے طور پر دینے تھے ۔ میں نے بڑی مشکلوں سے کاغذ پنسل مہیا کر کے جرجی کو ایک خط لکھا تھا اور پھگوکے ذریعہ سے اس تک بھجوایا تھاکہ وہ مجھے کسی نہ کسی طرح دس روپے بھیج دے ۔ پھگو ان پڑھ تھا۔ شام کو وہ مجھ سے ملا ۔ جرجی کا رقعہ اس نے مجھے دیا ۔ اس میں دس روپے کا سرخ پاکستانی نوٹ قید تھا میں نے رقعہ پڑھا۔ یہ لکھا تھا۔ رضوی پیارے دس روپے بھیج تو رہا ہوں، مگرا یک عادی چور کے ہاتھ۔ خدا کرے تمہیں مل جائیں کیونکہ یہ کل ہی جیل سے رہا ہو کر جا رہا ہے۔ “میں نے یہ تحریر پڑھی توپھگو بھنگی کی طرف دیکھ کر مسکرا یا۔ اس کو ساڑھے تین آنے چرانے کے جرم میں ایک برس کی سزا ہوئی تھی ۔ میں سوچنے لگا اگر اس نے دس روپے چرائے ہوتے تو ساڑھے تین آنے فی برس کے حساب سے اس کو کیا سزا ملتی ؟ “

یہ کہ کر رضوی نے کوفی کا آخری گھونٹ پیا اور رخصت مانگے بغیر کو فی ہاؤس سے باہر چلا گیا ۔

۲۶ جولائی ۱۹۵۷ء

ٹھنڈا گوشت میں شامل افسانے

خلاصہ

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!
Enable Notifications OK No thanks