افسانہ (06) خورشٹ کا خلاصہ

افسانہ "خورشٹ” سعادت حسن منٹو کا افسانوی مجموعہ "ٹھنڈا گوشت” میں شامل چھٹا افسانہ ہے، جو 28جولائی 1950ءکو لکھا گیا۔ آپ اس خلاصہ کو پڑھنے کے بجائے سن بھی سکتے ہیں۔

اس افسانے کا آغاز اس جملے سے ہوتا ہے ” ہم دلّی میں تھے۔ میرا بچہ بیمار تھا۔ میں نے پڑوس کے ڈاکٹر کاپڑیا کو بلایا وہ ایک کبڑا آدمی تھا۔ بہت پست قد لیکن بے حد شریف ۔ "۔

اور اس کا اختتام اس جملے پر ہوتا ہے” میری بیوی نے یہ سنا تو اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ کیا کہے  اٹھی اور میرا ہاتھ پکڑ کر کہا چلیے سعادت صاحب  اور ہم کمرے سے باہر تھے  خدا معلوم سردار زوراور سنگھ  اور خورشٹ نے ہماری اس بدتمیزی کے متعلق کیا کہا ہوگا”۔

نچوڑ

سعادت حسن منٹو نے اس افسانے میں معاشرے کی اہم برائی کے طرف اشارہ کیا ہےکہ ہم  محبت میں دوستوں کے لیے گھر کے دروازے کھولتے ہیں اور وہ گھروالوں کے دل تک پہنچ جاتے ہیں جیسا کہ اس میں ساوک کاپڑیا اپنے دوست سردار زور آور سنگھ کے لیے اپنے گھر کا دروزاہ کھولتا ہے اور وہ اس کی بیوی کےدل تک پہنچ کراسے اچک لے جاتا ہے۔

خلاصہ

مصنف خود اس افسانے کا راوی ہے وہ  کہانی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ  جب وہ دلی میں تھے  ان کے بیٹے کی طبیعت خراب ہوئی اور ڈاکٹر کاپڑیا کو بلایا جو ایک پارسی تھا اور شستہ اردو بولتا تھا کیونکہ وہ دلی ہی میں پیدا ہوا تھا اور وہی سے تعلیم بھی حاصل کی تھی

ڈاکٹر کاپڑیا سے راوی کی دوستی مسٹر کھیش والا(راوی کے پڑوسی ) نے کروائی تھی ۔ڈاکٹر کاپڑیا کا بیٹا ساوک کاپڑیا تھا جو سنگر مشن کمپنی میں ملازم تھا (پانچ چھ سو روپیے ماہوار تنخواہ تھی) ساوک کاپڑیا کی بیوی کا نام خورشید ہے جس کو پارسیوں کی زبان میں خورشٹ کہتے ہے  وہ لمبے قد کی عورت تھی راوی خورشید کے قد وقامت کے متعلق لکھتے ہیں” عام پارسیوں کی طرح اس کی ناک بد نما نہیں تھی  لیکن خوبصورت بھی نہیں تھی پکوڑا جیسی ناک تھی  لیکن رنگ سفید تھا اس لیے گوارا ہو گئی تھی بال کٹے ہوئے تھے چہرہ گول تھا۔خوش پوش تھی  اس لئے اچھی لگتی تھی "

ساوک کاپڑیا اور خورشید کی ڈیڑھ ماہ کی ایک بیٹی تھی

راوی اور ساوک کاپڑیا اور ان کی بیویوں میں چند ملاقاتوں میں اچھی دوستی ہوگئی تھی جب بھی راوی ان کے گھر جاتے وہاں ایک سکھ کو پاتے جس کا نام سردار زور آور سنگھ تھا جو ساوک کاپڑیا کا بچپن کا دوست تھادونوں کا بچپن ساتھ گزرا  اس نے بی اے ایک ساتھ پاس کیا ۔ سردار زور آور سنگھ کنوارا تھا اس کا باپ بہت پرانا گورنمنٹ کنٹریکٹر تھا۔ لیکن باپ بیٹے میں نہ بنتی تھی  وہ دونوں ایک ہی گھر میں رہتے لیکن آپس میں بات نہ کرتے تھے  سردار زور آور سنگھ  کی تین بہنیں تھیں ان کی شادیاں ہو چکی تھی  اور ان کی اماں چاہتی تھی کہ سردار زورآور سنگھ بھی شادی کرلے  لیکن وہ اس کے متعلق کوئی بات کرنے کے لئے تیار نہ تھا  سردار زورآورسنگھ کی عمر پچیس برس تھی(ان کی سال گرہ انتیس اگست ہے) راوی  لکھتے ہیں” لیکن  سردار زور آور سنگھ چالیس کے اوپر معلوم ہوتا تھا”

راوی ریڈیواسٹیشن میں کام کرتے تھے ایک  مرتبہ سردار زورآور سنگھ نےخورشید کی سفارش کی کہ  خورشید کو ہر مہینہ کچھ پروگرام مل جایا کرےاور  اس کی گائیکی کی ایسی تعریف کی کہ راوی کو   سب مبالغہ معلوم ہوا۔ راوی خورشید کے گانے کے حوالے سے لکھتے ہیں ” سردار زورآورسنگھ کے پیہم اصرار پر خورشید نے باجا منگا کر ہمیں گانا سنایا وہ کن سری تھی  لیکن خورشید  اس کے خاوند  اور سردار زوراور سنگھ کی خاطر  مجھے اس کے گانے کی مجبورا ًتعریف کرنا پڑی  میں نے صرف اتنا کہا  ماشااللہ  آپ خوب گاتی ہے "سردوارزوراور نے بتایا کہ خورشید کو آفتاب موسیقی کا خطاب مل چکا ہے واقعہ کچھ یوں تھا کہ ایک پرائیویٹ محفل میں خورشید کا گانا سن کر ایک خوشامدی رپورٹر نے یہ خطاب دیا تھا۔خورشید کا سننے کے بعد سردارزورآور سنگھ نے راوی سے پوچھا کہ خورشید کو پروگرام مل جائیں گے نا؟ راوی کا جواب سن کر وہ خود کہنے لگے کہ  ” میرا خیال ہے ان کا گانا سنتے ہی میوزک ڈائیرکٹر اسی مہینے میں ان کو کم از کم دو پروگرام دے دے گا "

راوی دلی سے استعفیٰ دے کر بمبئی روانہ ہوگئے۔اور یہاں ایک فلم کمپنی میں ملازمت کرلی۔ ایک دن سردارزوراور کا رقعہ ملا کہ میں اور میری بیوی تاج ہوٹل میں رکے ہے راوی اور ان کی بیوی جب وہاں پہنچے یہ راز کھلا کہ سردارزوراور سنگھ اور خورشید نے شادی کر لی اور یہاں بمبئی ہنی مون منانے آئے ہوئے ہیں ۔یہ جانتے ہی راوی کی بیوی نے راوی کا ہاتھ پکڑا اور وہاں سے نکل گئے۔

افسانہ کے کردار

راوی: سعادت حسن منٹو

راوی کی بیوی: مسز سعادت

کھیش والا

ڈاکٹر کاپڑیا

ساوک کاپڑیا

خورشید(خورشٹ)

سردار زورآورسنگھ

اہم نکات

ساوک کاپڑیا ڈاکٹر کاپڑیا کا بیٹا ہے۔

ساوک کاپڑیا سنگر مشن کمپنی میں کام کرتا ہے

ساوک کاپڑیا کی ماہوار تنخواہ پانچ چھ سو روپیے ہے

ساوک اور خورشید پارسی ہیں

ساوک اور خورشید کی ڈیڑھ ماہ کی بیٹی ہے

سردارزوراور سنگھ کی عمر پچیس سال ہے لیکن چالیس کادکھتاہے۔

سردارزوراور سنگھ کی سال گرہ انتیس اگست ہے۔

خورشید کو آفتاب موسیقی کا خطاب ایک رپورٹر نے دیا تھا

سردارزوراور سنگھ اور خورشید ہنی مون منانے بمبئی آئے اور تاج ہوٹل میں قیام کیا

اہم اقتباس

عام پارسیوں کی طرح اس کی ناک بدنما نہیں تھی لیکن خوبصورت بھی نہیں تھی۔ موٹی پکوڑا ایسی ناک تھی، لیکن رنگ سفید تھا اس لئے گوارا ہوگئی تھی ۔ بال کٹے ہوئے تھے، چہرہ گول تھا خوش پوش تھی اس لئے اچھی لگتی تھی۔ میری بیوی سے چند ملاقاتوں ہی میں دوستی ہو گئی۔

میں نے گردن پر ہاتھ پھیرا۔ بال واقعی بہت بڑھے ہوئے تھے۔ غالباً تین مہینے ہو گئے تھے جب میں نے بال کٹوائے تھے ۔ ۔۔۔۔یا دہی نہیں رہا ۔اب آپ نے کہا ہے تو مجھے وحشت محسوس ہوئی ہے۔خدا معلوم مجھے کیوں بال کٹوانے یاد نہیں رہتے –––یہ سلسلہ ہے ہی کچھ واہیات ۔ ایک گھنٹہ نائی کے سامنے سرنیوڑھائے بیٹھے رہو۔ وہ اپنی خرافات بکتا رہے اور آپ مجبوراً کان سمیٹے سنتے رہیں –––فلاں ایکٹرس ایسی ہے، فلاں ایکٹرس ویسی ہے ، امریکہ نے ایٹم بم ایجاد کر لیا ہے۔ روس کے پاس اس کا بہت ہی تکڑا  جواب موجودہے ۔ یہ اٹیلی کون ہے؟ –––اور وہ مسولینی کہاں گیا–––اب میں اگر اس سے کہوں کہ جہنم میں گیا ہے تو وہ ضرورپوچھتا کہ صاحب کیسے گیا کس راستے سے گیا۔ کون سے جہنم میں گیا ۔

    اس کی پلّو ٹھی کی بچی بہت پیاری  تھی۔ میاں بیوی کی بس یہی  ایک اولاد تھی۔قریبا ڈیڑھ برس کی تھی۔ رنگ باپ کی طرح زرد––– کُچھ نقش ماں پر تھے ۔ باقی معلوم نہیں کس کے تھے۔ بہت ہنس مکھ تھی۔  اس کو گود میں اٹھا کر لایا۔ اور ہمارے پاس بیٹھ گیا ۔

ٹھنڈا گوشت میں شامل افسانے

خلاصہ

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!